کيا غدير کا هدف امام کا معين کرنا تها ؟



 غدیر کے مختلف پھلووں پرلوگوں کی جانب سے تنگ نظری

 پھلی بحث :  پھلے سے تعیین شدہ امامت

 دوسری بحث :  لوگ اور انتخاب

 تیسری بحث :  تحقق امامت کے مراحل واقعہٴ غدیر کے مقاصد کے اذھان سے پوشیدہ رھنے کی ایک اور افسوسناک وجہ یہ ھے کہ بعض لوگ اپنے قصیدوں یا تقاریر میں یہ کہتے ھیں کہ روز غدیر اسلامی امّت کے لیے امامت کی تعیین کا دن ھے ۔  روز غدیر ” حضرت امیر المؤمنین(ع) “ کی ولایت کا دن ھے ۔

  یہ تنگ نظری اور محدودفکر اس قدر مکرّر بیان ھوئیں کہ بہت سے لوگ غدیر جےسے عظیم واقعہٴ  کے دیگر نکات کی طرف توجّہ دینے سے قاصر رھے ۔

    کوتہ نظر ببین کہ سخن مختصر گرفت:

  غدیر کے مختلف پھلوٴوں پر لوگوںکی جانب سے تنگ نظری  :

ا فسوس کہ آج بھی اگر مشاھدہ کیا جائے تو جب بھی روزغدیر کا تذکرہ ھوتا ھے تو ھمارے لوگ اس دن کو صرف ’امام علی(ع) کی ولایت ‘ کی نسبت سے یاد کرتے ھیں اور غدیر کے دیگر اھم اور تاریخ ساز پھلوٴوں سے غافل نظر آتے ھیں ۔

 غدیر کے اصلی اھداف، نہ ھونے کے برابر تصانیف اور کتابوں میں ذکر ھوئے ھیں اور جس طرح  غدیر کے وسیع اور با مقصد ابعاد کو منابر کے ذریعے اور نماز جمعہ کے خطبوں میں بیان کیاجانا چاھےے بیان نھیں کےے جاتے ۔ مجلّوں اور اخباروں میں بھی صرف ”ولایت امام (ع) کے ذکر پر اکتفاء کیا جاتا ھے یھی وجہ ھے کہ روز  غدیر لوگوں کے درمیا ن  فقط ولایت علی(ع) کے ساتھ خاص ھو کر رہ گیا ھے۔

۱۔  پھلے سے تعیین شدہ امامت :

  شیعہ نظریہ ،یہ ھے کہ حضرت علی(ع) اور انکے گیارہ بیٹوں کی امامت غدیر سے پھلے ھی معیّن ھو چکی تھی اس دن کہ جب موجودات اور ھماری اس کائنات کی خلقت کی کوئی خبر نہ تھی اس دن کہ جب ابھی تک پیغمبر ان ِ الٰھی کی ارواح بھی خلق نہ ھوئیں تھیں ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 next