امامت ائمۂ اطهار عليهم السلام کی نگاه ميں



امامت کے کلی مسائل سے متعلق یہ ہماری آخری بحث هے اس کے بعد ہم اس سلسلہ میں جو بحثیں کریں گے وہ احادیث و روایات کی روشنی میں هوں گی۔ مثال کے طور پر وہ حدیثیں جو امیر المومنین (علیه السلام) کے سلسہ میں پیغمبر اکرم(ص) سے نقل هوئی هیں یا خود امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے بعد کے ائمہ علیھم السلام کے لئے ذکر فرمائی هیں، یوں هی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ائمہ علیھم اسلام کے بارہ میں جو کچھ فرمایا هے نیز یہ کہ ہر امام نے اپنے بعد ک امام کے لئے کس طرح وضاحت فرمائی هے ہم ایک ایک کر کے ان سب کا جائزہ لیں گے کہ ان میں سے اکثر و بیشتر روایات نقلی، تعیینی و تنصیصی پہلو رکھتی هیں۔

موجودہ بحث کچھ اس ڈھنگ کی هے کہ اس کا کچھ حصہ شاید ہم گزشتہ گفتگو میں بھی متفرق طور پر پیش کرچکے هیں لیکن چونکہ یہ مسئلہ امامت کی روح سے مربوط هے لہٰذا اب ہم ائمۂ معصومین علیھم السلام کے اقوال کی روشنی میں اس پر بحث کریں گے۔ اور کتاب "اصول کافی کی کتاب الحجۃ" کا ایک حصہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ ہم مکرّر عرض کر چکے هیں کہ امامت کے اس مفهوم ہم شیعہ یا کم از کم ائمہ علیھم السلام شیعہ کے اقوال میں پیش کیا گیا هے وہ امامت کے اس مفهوم سے بالکل الگ هے جو اہل سنت کے یہاں رائج هے۔ یہ مسئلہ حکومت سے بالکل الگ ایک چیز هے جس کا چرچا ہمارے زمانہ میں بہت هوتا هے۔ مثلاً، امامت بنیادی طور پر نبوت کے قدم بہ قدم یا اس کے بالکل دوش بدوش والا مسئلہ هے لیکن اس معنی میں نهیں کہ اس کا مرتبہ ہر نبوت سے کمتر درجہ کا هے۔ بلکہ اس سے مقصود یہ هے کہ نبوت سے مشابہ ایک ایسا منصب هے جو بڑے انبیاء کو بھی عطا هوا هے یعنی یہ ایک ایسا معنوی منصب هے کہ بڑے انبیاء نبوت کے ساتھ ساتھ امامت کے منصب پر بھی فائز رهے هیں۔ ائمہ معصومین علیھم السلام نے کلی طور پر اس مسئلہ کے تحت اپنی گفتگو میں انسان کو بنیاد قرار دیا هے۔ لہٰذا ہمیں پہلے انسان کے متعلق اپنے تصوّرات و خیالات پر تجدید نظر کرنا چاهیئے تاکہ یہ مسئلہ پورے طور سے واضح هوسکے۔

انسان؟

آپ جانتے هیں کہ اساسی طور پر انسان کے سلسلہ میں دو نظریے پائے جاتے هیں ایک یہ کہ انسان بھی تمام جانداروں کے مانند صد فی صد ایک خاکی یا مادی وجود هے۔ لیکن یہ ایسا مادی وجود هے جواپنے تغییرات کی راہ طے کرتے هوئے اس حد کمال کو پہنچ چکا هے جہاں تک زیادہ سے زیادہ مادہ میں اس کی صلاحیت پائی جاتی تھی۔ حیات، چاهے نباتات میں هو یا اس سے بلند حیوانات میں یا ان سب سے بڑھ کر انسان میں، یہ خود مادہ کے تدریجی ارتقا و کمال کی نشان دهی کرتی هے یعنی اس وجود کی بناوٹ اور ساخت میں مادّی عناصر کے علاوہ کوئی اور عنصر کا ر فرما نهیں هے۔ (یہاں عنصر کا لفظ اس لئے استعمال هوا کہ اس کی کوئی دوسری تعبیر ہمارے پاس نهیں هے)۔ جتنے حیرت انگیز آثار اس وجود میں پائے جاتے هیں ان کا سر چشمہ یهی مادّی تشکیل هے۔ اس نظریہ کے مطابق قہری طور پر پہلے انسان کو یا دنیا میں آنے والے ابتدائی انسانوں کو ناقص ترین انسان هونا چاهیئے اور جوں جوں یہ قافلۂ انسانیت آگے بڑھا هوگا انسان کامل تر هوتا گیا، خواہ ہم اولین انسان کو قدما کے تصور کے مطابق براہ راست خاک سے پیدا شدہ مانیں یا عہد حاضر کے بعض (سائنس داں) حضرات کے مفروضہ کے مطابق۔۔۔۔۔ جو مفروضہ هونے کی حیثیت سے قابل توجہ هے کہ انسان اپنے آپ سے پست تر اور ناقص تر وجود [1] کی تغییر یافتہ اور کامل شدہ مخلوق هے۔ جس کی اصل و بنیاد مٹی تک پہنچتی هے۔ ایسا نهیں هے کہ پہلا انسان براہ راست خاک سے خلق هوگیا هو۔

پہلا انسان قرآن کی نظرمیں

لیکن اسلامی و قرآنی بلکہ تمام مذاہب کے اعتقادات کے مطابق پہلا انسان وہ وجود هے جو اپنے بعد کے بہت سے انسانوں حتٰی کہ آج کے انسانوں سے بھی زیادہ کامل هے۔ یعنی پہلی بار جب اس انسان نے عرصۂ عالم میں قدم رکھا، اسی وقت سے وہ خلیفہ اللہ یا دوسرے الفاظ میں پیغمبر کے درجہ پر فائز نظر آیا۔ دین کی منطق میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ کیوں پہلا انسان هی دنیا میں آیا تو ایک حجت خدا اور پیغمبر کی شکل میں آیا، جبکہ هونا تو یہ چاهیئے تھا کہ انسان دنیا میں آتے رہتے اور ارتقائی منازل طے کرتے رہتے اور جب عالی مراحل و مراتب سے ہمکنار هوتے تو ان میں سے کوئی ایک نبوت و پیغمبری کے منصب پر فائز هوجاتا، نہ یہ کہ پہلا  هی انسان پیغمبر هو۔

قرآن کریم پہلے انسان کے لئے بہت عظیم اور بلنددرجہ کا قائل هے:

"وَاِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلائِکۃ انِّی جَاعِلٌ فِی الاَرۡضِ خَلِیفَۃٌ قَالُوا اتَجۡعَلُ فِیۡھا مَنۡ یُفۡسِدُ فِیۡھا ویَسۡفِکُ الدِّمَاءَ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ قال اِنِّی اَعۡلَمُ مَالَا تَعۡلَمُون وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَاءَ کُلَّھا ثُمَّ عَرَضَھُمۡ عَلیٰ المَلَائِکَۃ فَقَالَ انۡبِئُونِی بِاَسۡمَاءِ ھٰؤلاء"[2]

جب تمہارے پروردگار نے ملائکہ سے فرمایا کہ میں زمین پر خلیفہ بنانے والا هوں تو انهوں نے کہا (خدا یا) کیا تو انهیں روئے زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا جو زمین پر فساد و خونریزی برپا کریں اور ہم تو تیری تسبیح و تقدیس کرتے هیں ( خداوند عالم نے) فرمایا، بلا شبہ (اس انسان کے اسرار کے بارے میں) جو میں جانتا هوں تم نهیں جانتے اور اللہ نے آدم علیہ السلام کو تمام اسماء تعلیم دیئے پھر ان کے حقائق ملائکہ کے سامنے بھی پیش کئے اور فرمایا ہمیں ان کے نام بتاؤ"۔

مختصر یہ کہ جب پہلا انسان عالم وجود میں آیا تو اس ملائکہ کو بھی حیرت میں ڈال دیا کہ آخر اس میں کیا راز پنہاں ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے انسان کے بارے میں "نفخت فیہ من روحی" (اپنی روح اس میں پھونکی) کی تعبیر استعمال کی گئی هے۔ اس سے ظاہر هوتا هے کہ اس پیکر کی ساخت اور اس کے ڈھانچہ میں مادی عناصر کے علاوہ ایک عُلوی عنصر بھی کارفرماهے جو (اپنی روح) کی تعبیر کے ذریعہ بیان کیا گیا هے۔ یعنی اللہ کی جانب سے ایک خصوصی  شئے اس وجود کے پیکر میں داخل هوئی هے۔ اس کے علاوہ اس لئے بھی کہ اس کو خلیفہ اللہ سے تعبیر کیا گیا هے۔" اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیفۃ" میں زمین پر اپنا خلیفہ بنارہاهوں۔

بنابر ایں قرآن، انسان کو اس عظمت کے ساتھ پیش کرتا هے۔ کہ پہلا انسان جب عالم وجود میں قدم رکھتا هے تو حجت خدا و پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک ایسے وجود کے عنوان سے قدم رکھتا هے جو عالم غیب سے رابطہ رکھتا هو۔ ہمارے ائمہ علیھم السلام کے کلام کی اساس و بنیاد انسان کی اسی اصل و حقیقت پر هے یعنی پہلا انسان جو اس زمین پر آیا اسی صنف کا تھا اور آخری انسان بھی جو اس زمین پر هوگا اسی سلسلہ کی ایک کڑی هوگا اور عالم انسانیت کبھی بھی ایسے وجود سے خالی نهیں جس میں "اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفۃ " کی روح پائی جاتی هے۔ (بنیادی طور سے اس مسئلہ کا محور یهی هے) دیگر تمام انسان، ایسے انسانی وجود کی فرع کی حیثیت رکھتے هیں، اور اگر یہ انسان نہ هو تو بقیہ تمام انسان کسی بھی صورت سے باقی نهیں رهیں گے۔  ایسے ھی انسان کو حجت خدا سے تعبیر کرتے هیں:۔

اللّٰھُمَّ بَلَٰی لَا تخلوا لارض مِنۡ قَائمٍ للہِ بِحُجَّۃٍ" ہاں (مگر) زمین ایسی فرد سے خالی نهیں رہتی جو اللہ کی حجت هے یہ جملہ نہج البلاغہ [3] میں هے اور بہت سی کتابوں میں نقل هوا هے۔ میں نے یہ بات مرحوم آیۃ اللہ بروجردی سے سنی هے، لیکن یہ یاد نهیں کہ میں نے خود اسے دوسری جگہ بھی کهیں دیکھا هے یا نهیں، یعنی اس کی جستجو نهیں کی۔ آپ فرماتے تھے کہ یہ جملہ حضرت کے ان جملوں میں سے هے جنهیں آپ نے بصرہ میں بیان فرمایا هے او شیعہ و سنی دونوں نے اسے تواتر کے ساتھ نقل کیا هے۔ یہ جملہ مشهور حدیث کمیل کا ایک حصہ هے۔کمیل کا بیان هے کہ ایک روز حضرت علی(علیہ السلام) نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے اپنے ہمراہ لے کر شہر کے باہر تشریف لائے۔ یہا ں تک کہ ہم لوگ"جبّان" نامی ایک جگہ پر پهونچے۔ جیسے هی ہم لوگ شہر سے خارج هوکر سناٹے اور تنہائی میں آئے: فَتَنَفَّسَ الصُّمَعَداء حضرت علیہ السلام نے گہری سانس لی، ایک آہ کھینچی اور فرمایا:۔



1 2 3 4 5 next