خطبات حضرت فاطمه زهرا (سلام الله عليها)



مقدمہٴ ناشر

بِسْمِ ا للهِ الرّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد لله رب العالمین وصلی الله علی رسولہ وآلہ والطیبین الطاھرین، امّا بعد:

حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا نے مسجد نبوی میں وہ تاریخ ساز خطبہ ارشاد فرمایا ھے جس میں عالم انسانیت کے لئے بھترین عبرتیں ھےں،  اور رسول اکرم(ص) کے بعدپیش آنے والے واقعات سے باخبر هونے کا بھترین ذریعہ ھے، حضرت فاطمہ زھرا (س) کی وہ شخصیت ھے کہ جن کے باپ، شوھر اور بیٹوں کی بارے میں خداوندعالم کی طرف سے آیہ تطھیر نازل هوئی ، لہٰذا آپ جو بھی اپنے باپ اور اپنے شوھر کے بارے میں کھتی ھیں وہ   عین حق وحقیقت ھے، جس کا بیان واضح اور روشن ھے۔

سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ وہ بی بی جو معصومہ دوعالم او ربا پردہ خاتون ھیں کس وجہ سے اپنے گھر سے نکلی، اورکیوں مسجد میں جاکر اس انداز میں خطبہ دیا جو تاریخ  کے دامن میں آج بھی باقی ھے اور آپ کی اور اھل بیت رسول (ع) کی مظلومیت پر دلالت کررھاھے، وہ باحجاب بی بی اچانک گھر سے نکل پڑیں جن کی تمنا یہ تھی کہ نہ وہ کسی نامحرم مرد کو دیکھیں اور نہ ان کو کوئی نا محرم مرد دیکھے،!  تو ظاھر ھے کہ آپ کا گھر سے نکلنا ایک اھم مسئلہ ھے اور آپ کی گفتگو ایسی باتوں پر مشتمل ھے جو تاقیام قیامت واضح دلیل ھے، آپ کا یہ خطبہ لوگوں کے انحراف اورکج روی کی طرف توجہ دلارھا ھے اور اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ رسول اکرم(ص) کی وفات کے بعد وہ لوگ کس طرح منحرف هوگئے اور رسول اسلام(ص) کے تمام فرموات کو پسِ پشت ڈالل دیا۔

 آنحضرت  (ص)نے بھت سی احادیث میں اس بات کو مکرربیان فرمایا ھے کہ ان کے بعد کون خلیفہ ھے اور خلافت الٰھی کا کون حقدارھے، انھیں تمام باتوں کی طرف حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا نے اپنے اس فصیح وبلیغ خطبہ میں اشارہ فرمایا ھے ، یہ وہ خطبہ ھے کہ جس میں اس بات پر مستحکم اور ٹھوس دلیل موجود ھے کہ اھل بیت علیھم السلام کو علم، فصاحت اور مومنین کی دلوں میں محبت عطا کی گئی ھے۔

موٴسسہ امام علی علیہ السلام نے ضروری سمجھا کہ اس خطبہ اور آخری وقت میں مھاجرین وانصار کی عورتوں کی عیادت کے وقت آپ کے خطبوں کو نشر کرے، تاکہ موٴسسہ بھی آپ کے غصب شدہ حق اورآپ اور اھل بیت رسول کی مظلومیت کو بیان کرنے میں اپنے فریضہ کو ادا کرسکے، یہ وہ مظلومیت تھی کہ جو رسول اسلام(ص) کے انتقال کے بعد شروع هونے والے انقلاب کے وقت پیش آیااور یھی وہ انقلاب ھے جس کی طرف قرآن مجید کی درج ذیل آیہ شریفہ اشارہ کررھی ھے:

” وما محد الا رسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضراللّٰہ شیئا وسیجزی اللّٰہ الشاکرین“۔ (سورہ آل عمران آیت۱۴۴)

” محمد(ص)صرف خدا کے رسول ھیں، ان سے پھلے بھی دوسرے پیغمبرموجود تھے، اب اگر وہ اس دنیا سے چلے جائیں، یا قتل کردئے جائیں تو کیا تم دین سے پھر جاوٴگے، اور جو شخص دین سے پھر جائے گا وہ خدا کو کوئی نقصان نھیں پهونچاسکتا، خدا شکر کرنے والوںکو جزائے خیردیتاھے“ ۔

والسلام علی من اتبع الھدیٰ



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 next