شهادت امام حسين (ع) کا اصلي مقصد



تحرير:جماعت اسلامي کے اميرسيد ابو الاعلي مودودي

ہر سال محرم ميں کروڑوں مسلمان‘ شيعہ بھي اور سني بھي امام حسين (ع)  کي شہادت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہيں۔ ليکن افسوس ہے کہ ان غم گساروں ميں سے بہت ہي کم لوگ اس مقصد کي طرف توجہ کرتے ہيں جس کے لئے امام نے نہ صرف اپني جان عزيز قربان کي بلکہ اپنے کنبے کے بچوں تک کو کٹوا ديا۔ کسي شخص کي مظلومانہ شہادت پر اس کے اہل خاندان کا اور اس خاندان سے محبت و عقيدت يا ہمدردي رکھنے والوں کا اظہار غم کرنا تو ايک فطري بات ہے۔ ايسا رنج و غم دنيا کے ہر خاندان اور اس سے تعلق رکھنے والوں کي طرف سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کي کوئي اخلاقي قدرو قيمت اس سے زيادہ نہيں ہے کہ يہ اس شخص کي ذات کے ساتھ اس کے رشتہ داروں کي اور خاندان کے ہمدردوں کي محبت کا ايک فطري نتيجہ ہے۔ ليکن سوال يہ ہے کہ امام حسين (ع)  کي وہ کيا خصوصيت ہے جس کي وجہ سے اتني صدياں گزر جانے پر بھي ہر سال ان کا غم تازہ ہوتا رہتاہے؟ اگر يہ شہادت کسي مقصد عظيم کے لئے نہ تھي تو محض ذاتي محبت و تعلق کي بناپر صديوں اس کا غم جاري رہنے کے کوئي معني نہيں ہيں۔ لہذا اگر ہم اس مقصد کے لئے کچھ نہ کريں‘ بلکہ اس کے خلاف کام کرتے رہيں‘ تو محض ان کي ذات کے لئے گريہ وزاري کرکے اور ان کے قاتلوں پر لعن کرکے قيامت کے روز نہ تو ہم امام ہي سے کسي داد کي اميد رکھ سکتے ہيں اور نہ يہ توقع رکھ سکتے ہيں کہ خدا اس کي کوئي قدر کريگا۔

اب ديکھنا چاہئے کہ وہ مقصد کيا تھا؟ کيا امام تخت و تاج کے لئے اپنے کسي ذاتي استحقاق کا دعوي رکھتے تھے اور اس کے لئے انہوں نے سر دھڑ کي بازي لگائي؟ کوئي شخص بھي جو امام حسين (ع) کے گھرانے کي بلند اخلاق سيرت کو جانتا ہے يہ بدگماني نہيں کر سکتا کہ يہ لوگ اپني ذات کے لئے اقتدار حاصل کرنے کي خاطر مسلمانوں ميں خون ريزي کرسکتے تھے۔ اگر تھوڑي دير کے لئے ان لوگوں کا نظريہ ہي صحيح مان ليا جائے جن کي رائے ميں يہ خاندان حکومت پر اپنے ذاتي استحقاق کا دعوي رکھتا تھا‘ تب بھي حضرت ابوبکر سے لے کرامير معاويہ تک پچاس برس کي پوري تاريخ اس بات کي گواہ ہے کہ حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑنا اور کشت و خون کرنا ہرگز ان کا مسلک نہ تھا۔ اس لئے لامحالہ يہ ماننا ہي پڑے گا کہ امام عالي مقام کي نگاہيں اس وقت مسلم معاشرے اور اسلامي رياست کي روح اور اس کے مزاج اور اس کے نظام ميں کسي بڑے تغير کے آثار ديکھ رہي تھيں‘ جسے روکنے کي جدوجہد کرنا ان کے نزديک ضروري تھا حتي کہ اس راہ ميں لڑنے کي نوبت بھي آجائے تو وہ اسے نہ صرف جائز بلکہ فرض سمجھتے تھے۔

اس چيز کو ٹھيک ٹھيک سمجھنے کے لئے ہميں ديکھنا چاہئے کہ رسول اللہ  اور خلفائے راشدين کي سربراہي ميں رياست کا جو نظام چاليس سال تک چلتا رہا تھا اس کے دستور کي بنيادي خصوصيات کيا تھيں اور يزيد کي ولي عہدي سے مسلمانوں ميں جس دوسرے نظام رياست کا آغاز ہوا اس کے اندر کيا خصوصيات دولت بني اميہ وبني عباس اور بعد کے بادشاہوں ميں ظاہر ہوئيں؟ اس تقابل سے ہم يہ جان سکتے ہيں کہ يہ گاڑي پہلے کس لائن پہ چل رہي تھي اور اس نقطہ انحراف پرپہنچ کر آگے کس لائن پر چل پڑي۔

اسلامي رياست کي خصوصيات

اسلامي رياست کي خصوصيت يہ تھي کہ اسميں صرف زبان ہي سے يہ نہيں کہاجاتا تھا بلکہ سچے دل سے يہ مانا بھي جاتا تھا اور عملي رويہ سے اس عقيدہ و يقين کا پورا ثبوت بھي ديا جاتا تھا کہ ملک خدا کا ہے‘ باشندے خدا کي رعيت ہيں اور حکومت اس رعيت کے معاملے ميں خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔ حکومت اس رعيت کي مالک نہيں ہے اور رعيت اس کي غلام نہيں ہے۔ حکمرانوں کا کام سب سے پہلے اپني گردن ميں خدا کي بندگي و غلامي کا قلادہ ڈالنا ہے‘ پھر يہ ان کي ذمہ داري ہے کہ خدا کي رعيت پر اس کا قانون نافذ کريں۔ ليکن يزيد کي ولي عہدي سے جس انساني بادشاہي کا مسلمانوں ميں آغاز ہوا اس ميں خدا کي بادشاہي کا تصور صرف زباني اعتراف تک محدود رہ گيا۔ عملاً اس نے وہي نظريہ اختيار کر ليا جو ہميشہ سے ہر انساني بادشاہي کا رہا ہے۔ يعني ملک بادشاہ اور شاہي خاندان کا ہے اور وہ رعيت کي جان‘ مال‘ آبرو‘ ہر چيز کامالک ہے۔ خدا کے قانون سے ان کے خاندان اور امرا اور حکام زيادہ تر سے مستثنيٰ ہي رہے۔

تقويٰ

اسلامي رياست کي روح تقويٰ اور خدا ترسي اورپرہيز گاري کي روح تھي جس کا سب سے بڑا مظہر خود رياست کا سربراہ تھا۔ حکومت کے عمال اور قاضي اور سپہ سالار‘ سب اس روح سے سرشار ہوتے تھے اور پھر اسي روح سے وہ پورے معاشرے کو سرشار کرتے تھے۔ ليکن بادشاہي کي راہ پرپڑتے ہي مسلمانوں کي حکومتوں اور ان کے حکمرانوں نے قيصرو کسريٰ کے سے رنگ ڈھنگ اور ٹھاٹھ باٹھ اختيار کرلئے۔ عدل کي جگہ ظلم و جور کا غلبہ ہوتا چلا گيا۔ حرام و حلال کي تميز سے حکمرانوں کي سيرت و کردار خالي ہوتي چلي گئي۔ سياست کا رشتہ اخلاق سے ٹوٹتا چلا گيا۔ خدا سے خود ڈرنے کے بجائے حاکم لوگ بندگان خدا کو اپنے آپ سے ڈرانے لگے اور لوگوں کے ايمان و ضمير بيدار کرنے کے بجائے ان کو اپني بخششوں کے لالچ سے خريدنے لگے۔

مشاورت دوسرا اہم اصول

دوسرا اہم ترين قاعدہ اس دستور کايہ تھا کہ حکومت مشورے سے کي جائے اور مشورہ ان لوگوں سے کيا جائے جن کے علم‘ تقويٰ اور اصابت رائے پر عام لوگوں کو اعتماد ہو۔ خلفائے راشدين کے عہد ميں جو لوگ شوريٰ کے رکن بنائے گئے اگرچہ ان کو انتخاب عام کے ذريعہ سے منتخب نہيں کرايا گيا تھا‘ جديد زمانے کے تصور کے لحاظ سے وہ نامزد کردہ لوگ ہي تھے‘ ليکن خلفاء نے يہ ديکھ کر ان کو مشير نہيں بنايا تھا کہ يہ ہماري ہاں ميں ہاں ملانے اور ہمارے مفاد کي خدمت کرنے کے لئے موزوں ترين لوگ ہيں بلکہ انہوں نے پورے خلوص اور بے غرضي کے ساتھ قوم کے بہترين عناصر کو چناتھا جن سے وہ حق گوئي کے سوا کسي چيز کي توقع نہ رکھتے تھے‘ جن سے يہ اميد تھي کہ وہ ہر معاملے ميں اپنے علم و ضمير کے مطابق بالکل صحيح ايماندارانہ رائے ديں گے‘ جن سے کوئي شخص بھي يہ انديشہ نہ رکھتا تھا کہ وہ حکومت کو کسي غلط راہ پر جانے ديں گے۔ اگر اس وقت ملک ميں آج کل کے طريقے کے مطابق انتخابات بھي ہوتے تو عام مسلمان انہي لوگوں کو اپنے اعتماد کا مستحق قرار ديتے ليکن شاہي دور کا آغاز ہوتے ہي شوري کا يہ طريقہ بدل گيا۔ اب بادشاہ استبداد اور مطالق العناني کے ساتھ حکومت کرنے لگے۔ اب شہزادے اور خوشامدي اہل دربار‘ صوبوں کے گورنر اور فوجوں کے سپہ سالار ان کي کونسل کے ممبر تھے۔ اب وہ لوگ ان کے مشير تھے جن کے معاملہ ميں اگر قوم کي رائے لي جاتي تو اعتماد کے ايک ووٹ کے مقابلہ ميں لعنت کے ہزار ووٹ آتے اس کے برعکس وہ حق شناس و حق گو اہل علم و تقوي جن پر قوم کو اعتماد تھا وہ بادشاہوں کي نگاہ ميں کسي اعتماد کے مستحق نہ تھے بلکہ الٹے معتوب يا کم از کم مشتبہ تھے۔

اظہار رائے کي آزادي

اس دستور کا تيسرا اصول يہ تھا کہ لوگوں کو اظہار رائے کي پوري آزادي ہو۔ امر بالمعروف ونہي عن المنکر کو اسلام نے ہر مسلمان کا حق ہي نہيں بلکہ فرض قرار ديا تھا۔ اسلامي معاشرے اور رياست کے صحيح راستہ پر چلنے کا انحصار اس بات پر تھا کہ لوگوں کے ضمير اور ان کي زبانيں آزاد ہوں‘ وہ ہر غلط پر بڑے سے بڑے آدمي کو ٹوک سکيں اور حق بات برملاکہ سکيں۔ خلافت راشدہ ميں صرف يہي نہيں کہ لوگوں کا يہ حق پوري طرح محفوظ تھا‘ بلکہ خلفائے راشدين سے ان کا فرض سمجھتے اور اس فرض کے ادا کرنے ميں ان کي ہمت افزائي کرتے تھے۔ ان کي مجلس شوريٰ کے ممبروں ہي کو نہيں قوم کے ہر شخص کو بولنے اور ٹوکنے اور خود خليفہ سے باز پرس کرنے کي مکمل آزادي تھي۔ اس کے استعمال پر لوگ ڈانٹ اور دھمکي سے نہيں بلکہ داد اور تعريف سے نوازے جاتے تھے۔ يہ آزادي ان کي طرف سے کوئي عطيہ اور بخشش نہ تھي جس کے لئے وہ قوم پر اپنا احسان جتاتے‘ بلکہ يہ اسلام کا عطا کردہ ايک دستوري حق تھا جس کا احترام کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے اور اسے بھلائي کے لئے استعمال کرنا ہر مسلمان پر خدا اوررسول کا عائدکردہ ايک فريضہ تھا جس کي ادائيگي کے لئے معاشرے  اور رياست کي فضا کو ہر وقت سازگار رکھنا ان کي نگاہ ميں فرائض خلافت کا ايک اہم جز تھا۔ ليکن بادشاہي دور کا آغاز ہوتے ہي ضميروں پر قفل چڑھا ديئے گئے اور منہ بند کرديئے گئے۔ اب قاعدہ يہ ہوگيا کہ زبان کھولو تو تعريف ميں کھولو‘ ورنہ چپ رہو اور اگر تمہارا ضمير ايسا زور آور ہے کہ حق گوئي سے تم باز نہيں رہ سکتے تو قيد يا قتل کے لئے تيار ہوجاؤ۔ يہ پاليسي رفتہ رفتہ مسلمانوں کو پست ہمت‘ بزدل اور مصلحت پرست بناتي چلي گئي۔ خطرہ مول لے کر سچي بات کہنے والے ان کے اندر کم سے کم ہوتے چلے گئے۔ خوشامد اور چاپلوسي کي قيمت مارکيٹ ميں چڑھتي اور حق پرستي اور راست بازي کي قيمت گرتي چلي گئي۔ اعليٰ قابليت رکھنے والے ايماندار اور آزاد خيال لوگ حکومت سے بے تعلق ہوگئے اور عوام کا حال يہ ہوگيا کہ کسي شاہي خاندان کي حکومت برقرار رکھنے کے لئے ان کے دلوں ميں کوئي جذبہ باقي نہ رہا۔ ايک کو ہٹانے کے لئے جب دوسرا آيا تو انہوں نے مدافعت ميں انگلي تک نہ ہلائي اور گرنے والا جب گرا تو انہوں نے ايک لات اور رسيد کرکے اسے زيادہ گہرے گڑھے ميں پھينکا۔ حکومتيں جاتي اور آتي رہيں‘ مگر لوگوں نے تماشائي سے بڑھ کر اس آمدورفت کے منظر سے کوئي دلچسپي نہ لي۔

خدا اور خلق خدا کے سامنے جوابدھي

چوتھا اصول جو اس تيسرے اصول کے ساتھ لازمي تعلق رکھتا تھا‘ يہ تھا کہ خليفہ اور اس کي حکومت خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہے۔ جہاں تک خدا کے سامنے جواب دہي کا تعلق ہے اس کے شديد احساس سے خلفائے راشدين پر دن کا چين اور رات کا آرام حرام ہوگيا اور جہاں تک خلق کے سامنے جواب دہي کا تعلق ہے ”وہ ہر وقت“ ہر جگہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔ ان کي حکومت کا يہ اصول نہ تھا کہ صرف مجلس شوريٰ (پارليمنٹ) ميں نوٹس دے کر يہيں ان سے سوال کيا جاسکتا ہے۔ ہر ہر روز پانچ مرتبہ نماز کي جماعت ميں اپنے عوام کا سامنا کرتے تھے۔ وہ ہر ہفتے جمعہ کي جماعت ميں عوام کے سامنے اپني کہتے اور ان کي سنتے تھے۔ وہ شب و روز بازاروں ميں کسي باڈي گارڈ کے بغير‘ کسي ہٹوبچو کي آواز کے بغير عوام کے درميان چلتے پھرتے تھے۔ ان کے گورنمنٹ ہاؤس (يعني ان کے کچے مکان) کا دروازہ ہر شخص کے لئے کھلا تھا اور ہر ايک ان سے مل سکتا تھا۔ ان سب مواقع پر ہر شخص ان سے سوال کر سکتا تھا اور جواب طلب کرسکتا تھا۔ يہ محدود جواب دہي نہ تھي بلکہ کھلي اور ہمہ وقتي جواب دہي تھي۔                                         

يہ نمائندوں کے واسطہ سے نہ تھي بلکہ پوري قوم کے سامنے براہ راست تھي۔ وہ عوام کي مرضي سے برسر اقتدار آئے تھے اور عوام کي مرضي انہيں ہٹا کر دوسرا خليفہ ہر وقت لاسکتي تھي۔ اس لئے نہ تو انہيں عوام کا سامنا کرنے ميں کوئي خطرہ تھا کہ وہ اس سے بچنے کي کبھي فکر کرتے۔ ليکن بادشاہي دور کے آتے ہي جواب دہ حکومت کا تصور ختم ہوگيا۔ خدا کے سامنے جواب دہي کا خيال چاہے زبانوں پر رہ گيا ہو‘ مگر عمل ميں اس کے آثار کم ہي نظر آتے ہيں۔ رہي  خلق کے سامنے جواب دہي کون مائي کا لال تھاجو ان سے جواب طلب کرسکتا۔ وہ اپني قوم کے فاتح تھے۔ مفتوحوں کے سامنے کون فاتح جواب دہ ہوتا ہے۔ طاقت سے برسر اقتدار آئے تھے اور ان کا نعرہ يہ تھا کہ جس ميں طاقت ہو وہ ہم سے اقتدار چھين لے۔ ايسے لوگ عوام کا سامنا کب کيا کرتے ہيں اور عوام ان کے قريب کہاں بھٹک سکتے ہيں۔ وہ نماز بھي پڑھتے تھے تو نتھو خيرے کے ساتھ نہيں بلکہ اپني محفوظ مسجدوں ميں‘ يا باہر اپنے نہايت قابل اعتماد محافظوں کے جھرمٹ ميں۔ ان کي سوارياں نکلتي تھيں تو آگے اور پيچھے مسلح دستے ہوتے تھے اور راستے صاف کرديئے جاتے تھے۔ عوام کي اور ان کي مڈبھيڑ کسي جگہ ہوتي ہي نہ تھي۔

بيت المال خدا اور مسلمانوں کي امانت

پانچواں اصول اسلامي دستور کا يہ تھا کہ بيت المال خدا کا مال اور مسلمانوں کي امانت ہے‘ جس ميں کوئي چيز حق کي راہ کے سوا کسي دوسري راہ ميں آني نہ چاہئے۔ خليفہ کا حق اس مال ميں اتنا ہي ہے جتنا قرآن کي رو سے مال يتيم ميں اس کے ولي کا ہوتا ہے کہ۔



1 2 3 4 next