عشق کربلائي



يہ ظلم و جبر ہي ايک پياس ہے جو صديوں سے

بجھائي جاتي ہے انسانوں کے خونِ ناحق سے

کو ئي حسين ہو، کوئي مسيح، يا سقراط

لہو کي پياس انھيں ڈھونڈتي ہي رہتي ہے

زباں نکالے ہوئے، تيورياں چڑھائے ہوئے

          علي سردار جعفري کے لہجے کا يہ کرب صديوں پہ محيط ہے کہ جب آفرينش کائنات سے ہي حوادث نے اس کي کوکھ ميں جنم لينا شروع کر ديا تھا۔ اور حقيقت ابتدائے آدميت ميں نکھرکے سامنے آگئي کہ حق و باطل کے درميان پہلي معرکہ آرائي ہوئي جب ايک بھائي نے ناآشنائي حق کا زہر اپني رگوں ميں انڈيلتے ہوئے اپنے بھائي کا خون ناحق بہايا۔ چشم تاريخ ملاحظہ کر رہي تھي کہ جہاں آدميت کي گود ميں ہابيل سے گوہر ہيں تو وہاں اس کي آستين ميں قابيل سے سپولے ہي جنم لے رہے ہيں۔ اسي سے حضرت آدم عليہ السلام کي آنکھوں ميں وہ منظر کسي خواب کي طرح ابھر کے سامنے آگيا کہ جب وہ ”مسندِ خلافت اللہ“ کا حلف اٹھانے تشريف لا رہے تھے تو تمام مخلوقاتِ سماوي کو حکم ہوا کہ تم اسے سجدہ کرو، ملائکہ نے نگاہيں اٹھاکے آگ مٹي ہوا اور پاني سے مرکب اس مخلوق کو ديکھا۔ اسي لمحہ بھر کے ”توقف“ ميں ان کي نگاہيں ديکھ چکي تھيں کہ کس حدِ تضاد ميں ان عناصر کي آميزش ہوئي ہے آدميت اور اہلبيت کي صورت ميں آگ و مٹي کا تضاد تو ملاحظہ کر ہي رہے تھے ليکن ان کي نظر اس سے بھي ماوراء قابيل سے نمرود، شداد اور فرعون سے ہوتے ہوئے ان عناصر اربعہ کي ترکيب کے مجسمے انسان کو روزِ عاشورا کے کٹہرے ميں ديکھ رہي تھيں۔ کہ جہاں سفاک قاتل، وحشي درندے بد طينتي اور شيطنت کے تمام اسلحوں سے مسلح نمائندہ حق کے سامنے علم بغاوت اٹھاتے ہوئے تھے۔ فطرت کے الٰہي قوانين توڑ کر نفس امارہ کي پيروي ميں لگے تھے۔ فوراً کہا پروردگار ہماري مجال نہيں ليکن ہم ديکھ رہے ہيں کہ جن عناصر کي آميزش سے ”آدمي“ مجسّم ہوا ہے يہ زمين پر فساد پھيلائے گا۔ تو صدائے خالق عليم ”اني اعلم ما لا تعلمون“ قفل بن کے ان کے ارادوں پر جا پڑي اور يہ فوراً سر بسجود ہوئے تھے

          اس تاريخ نے انسانيت کا وہ روپ ديکھا کہ جب انسان سے انسانيت سر چھپائے پھر رہي تھي اور ہوا و ہوس کے بے لگام گھوڑے عرب کا يہ وحشي بدو اپني خواہشات ميں سر مست، انسانيت کي نسبت حيوانيت سے زيادہ قريب تھا۔ اس دور کا انسان اپنے گھر ميں آئي رحمتِ خدا (بيٹي) کو ممتائي سسکيوں سميت رسومات کے قبرستان ميں دفنا دينا اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتا تھا۔ جہالت و ناداني کا يہ عالم تھا کہ خود تراشيدہٴ اصنام (idols) کو معبوديت کے ہار پہنا کر اس کي پوجاپاٹ ميں مصروف تھا۔ اس دور کے انسان سے تہذيب ہراساں، اخلاق پريشاں تھا۔ اس دور کا انسان اپنے محيط سے بے خبر، اپني ہستي سے بے پروا اور اپنے ہدف تخليق سے آوارہ ہو کر خواہشات کے نخلستانوں ميں جا بھٹکا۔ ہر سمت ظلم کا جودو سر چڑھ کے بول رہا تھا۔ معصوم زندگياں شکارچي پنجوں ميں تڑپ رہي تھيں۔ وقت کے وحشي عقاب ماحول کي تلچھٹ (Sediment) سے جہاں جي ميں آتا لقمہٴ رزق لينے جھپٹ پڑتے۔ جنگل کا قانون تھا تلوار و لہو کي باتيں تھيں بات بے بات لڑنا ہي مردانگي تصور کي جاتي اور معمولي و چھوٹے چھوٹے تنازعات ميں برسوں الجھنا اپني قبائل کي رسي ميں پروئے متعصب (Glliberal) ذہنيتيں کٹ مرنے کو ترجيح ديتيں۔ بقول شاعر:

کبھي پاني پينے پلانے پہ جھگڑا

کبھي گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا

          ان حالات ميں انسان کو فرازِ عبوديت پہ جھکانے اسلام کا نور چمکا کہ جس نے انسان کي انگلي تھام کر دوبارہ اس کو کھويا ہوا مقام عطا کر ديا۔ فکر انساني کے جمود کا طلسم ٹوٹا اور وہ اپنے مقصد تخليق کے قريب ہونے لگا۔ انبياء ما سلف کے پڑھائے سبق ذہن انساني ميں پھر اجاگر ہونے لگے۔



1 2 3 4 5 next