کربلا،عقيده و عمل ميں توحيد کي نشانياں



جواد محدثي

ترجمہ 

توحيد کا عقيدہ صرف ايک مسلمان کے ذہن اور فکر پر ہي اثر انداز نہيں ہوتا بلکہ يہ عقيدہ اس کے تمام حالات شرائط اور تمام پہلوؤں پر اثر ڈالتا ہے۔ خدا کون ہے؟ کيسا ہے؟ اور اس کي معرفت و شناخت ايک مسلمان کي فردي اور اجتماعي اور زندگي ميں اس کے موقف اختيار کرنے پر کيا اثر ڈالتي ہے؟ ان تمام عقائد کا اثر اور نقش مسلمان کي عملي زندگي ميں مشاہدہ کيا جاسکتا ہے۔

ہر انسان پر لازم ہے کہ اس خدا پر عقيدہ رکھے جو سچا ہے اور سچ بولتا ہے، اپنے دعووں کي مخالفت نہيں کرتا ہے جس کي اطاعت فرض ہے اور جس کي ناراضگي جہنمي ہونے کا موجب بنتي ہے ۔ ہر حال ميں انسان کے لئے حاضرو ناظر ہے، انسان کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھي اس کے علم و بصيرت سے پوشيدہ نہيں ہے.... يہ سب عقائد جب ”يقين “ کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہيں تو ايک انسان کي زندگي ميں سب سے زيادہ مؤثر عنصر بن جاتے ہيں۔ توحيد کا مطلب صرف ايک نظريہ اور تصور نہيں ہے بلکہ عملي ميدان ميں” اطاعت ميں توحيد “ اور” عبادت ميں توحيد“ بھي اسي کے جلوہ اور آثار شمار ہوتے ہيں۔ امام حسين عليہ السلام پہلے ہي سے اپني شہادت کا علم رکھتے تھے اور اس کے جزئيات تک کو جانتے تھے۔ پيغمبر نے بھي شہادت حسين عليہ السلام کي پيشينگوئي کي تھي۔ ليکن اس علم اور پيشين گوئي نے امام کے انقلابي قدم ميں کوئي معمولي سا اثر بھي نہيں ڈالا اور ميدان جہادو شہادت ميں قدم رکھنے سے آپ کے قدموں ميں ذرا بھي سستي اور شک و ترديد ايجاد نہيں کيا بلکہ اس کي وجہ سے امام کے شوق شہادت ميں اضافہ کيا،امام اسي ايمان اور اعتقاد کے ساتھ کربلاآئے اور جہاد کيا اور عاشقانہ انداز ميں خدا کے ديدار کے لئے آگے بڑھے، جيسا کہ امام سے منسوب اشعار ميں آيا ہے :

ترکت الخلق طرّا في ہواکا                 واٴيتمت العيال لکي اراکا

کئي موقعوں پر آپ کے اصحاب اور رشتہ داروں نے خيرخواہي اور دلسوزي کے جذبہ کے تحت آپ کو عراق اور کوفہ جانے سے روکا اور کوفيوں کي بے وفائي اور آپ کے والد اور برادر کي مظلوميت اور تنہائي کو ياد دلايا گرچہ يہ سب چيزيں اپني جگہ ايک معمولي انسان کے دل ميں شک و ترديد ايجاد کرنے کے لئے کافي ہيں ليکن امام حسين عليہ السلام روشن عقيدہ، محکم ايمان اور اپنے اقدام و انتخاب کے خدائي ہونے کے يقين کي وجہ سے نااميدي اور شک پيدا کرنے والے عوامل کے مقابلے ميں کھڑے ہوئے آپ فقاء الٰہي اور مشيت پروردگار کو ہر چيز پر مقدم سمجھتے تھے، جب ابن عباس نے آپ سے درخواست کي کہ عراق جانے کے بجائے کسي دوسري جگہ جائيں اور بني اميہ سے ٹکر نہ ليں تو امام حسين  نے بني اميہ کے مقاصد اور ارادوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمايا: ” اني ماض في امر رسول الله صلي الله عليہ وآلہ وسلم و حيث امرني وانا لله وانا اليہ راجعون“ اور يوں آپ نے رسول الله صلي ا لله عليہ وآلہ وسلم کے فرمودات کي پيروي اور خدا کے جوار رحمت کي طرف بازگشت کي جانب اپنے مصمم ارادہ کا اظہار کيا، اس لئے کہ آپ کو اپنے راستے کي حقانيت اور خدا کے وعدوں کے صحيح ہونے کا يقين تھا۔

” يقين“ دين خدا اور حکم شريعت پر محکم اعتقاد کے ظہور کا نام ہے گوہر يقين جس کے پاس بھي ہو اس کو مصمم اور بے باک بنا ديتا ہے عاشورہ کا دن جلوہ گاہ يقين تھا اپنے راستہ کي حقانيت کا يقين، دشمن کے باطل ہونے کا يقين ،قيامت و حساب کے برحق ہونے کايقين، موت کے حتمي اور خدا سے ملاقات کا يقين، ان تمام چيزوں کے سلسلے ميں امام اور آپ کے اصحاب کے دلوں ميں اعليٰ درجہ کا يقين تھا اور يہي يقين ان کو پايداري، عمل کي کيفيت ،اور راہ کيانتخاب ميں ثابت قدمي کي راہنمائي کرتا تھا۔

کلمہ ”استرجاع“ ( انا لله وانا اليہ راجعون) کسي انسان کے مرنے يا شہيد ہونے کے موقع پر کہنے کے علاوہ امام حسين کي منطق ميں کائنات کي ايک بلند حکمت کو ياد دلانے والا ہے اور وہ حکمت يہ ہے کہ ” کائنات کا آغاز و انجام سب خدا کي طرف سے ہے “ آپ نے کربلا پہونچنے تک بارہا اس کلمہ کو دہرايا تا کہ يہ عقيدہ ارادوں اور عمل ميں سمت و جہت دينے کا سب بنے۔

آپ نے مقام ثعلبيہ پر مسلم اور ہاني کي خبر شہادت سننے کے بعد مکرر ان کلمات کو دوہرايا اور پھر اسي مقام پر خواب ديکھا کہ ايک سوار يہ کہہ کر رہا ہے کہ ” يہ کاروان تيزي کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور موت بھي تيزي کے ساتھ ان کي طرف بڑھ رہي ہے“ جب آپ بيدار ہوئے تو خواب کا ماجرا علي اکبر کو سنايا تو انھوں نے آپ سے پوچھا ” والدگرامي مگر ہم لوگ حق پر نہيں ہيں؟ “ آ پ نے جواب ديا ” قسم اس خدا کي جس کي طرف سب کي بازکشت ہے ہاں ہم حق پر ہيں“ پھر علي اکبر نے کہا ” تب اس حالت ميں موت سے کيا ڈرنا ہے؟ “ آپ نے بھي اپنے بيٹے کے حق ميں دعا کي۔[1]

طول سفر ميں خدا کي طرف بازگشت کے عقيدہ کو بار بار بيان کرنے کا مقصد يہ تھا کہ اپنے ہمراہ اصحاب اور اہل خانہ کو ايک بڑي قرباني وفداکاري کيلئے آمادہ کريں، اس لئے کہ پاک و روشن عقائد کے بغير ايک مجاہد حق کے دفاع ميں آخر تک ثابت قدم اور پايدار نہيں رہ سکتا ہے۔

کربلا والوں کو اپني راہ اور اپنے ہدف کي بھي شناخت تھي اور اس بات کا بھي يقين تھا کہ اس مرحلہ ميں جہاد و شہادت ان کا وظيفہ ہے اور يہي اسلام کے نفع ميں ہے ان کو” خدا“ اور ”آخرت“ کا بھي يقين تھا اور يہي يقين ان کو ايک ايسے ميدان کي طرف لے جارہا تھا جہاں ان کو جان ديني تھي اور قربان ہونا تھا جب وہب بن عبد الله دوسري مرتبہ ميدان کربلا کي طرف نکلے تو اپنے رجز ميں اپنا تعارف کرايا کہ ميں خدا کي پر ايمان لانے والا اور اس پر يقين رکھنے والا ہوں۔[2]

مدد و نصرت ميں توحيد اور فقط خدا پر اعتماد کرنا، عقيدہ کے عمل پر تاثير کا ايک نمونہ ہے اور امام کي تنہا تکيہ گاہ ذاکردگار تھي نہ لوگوں کے خطوط، نہ ان کي حمايت کا اعلان اور نہ ان کي طرف آپ کے حق ميں ديئے جانے والے نعرے، جب سياہ حر نے آپ کے قافلہ کا راستہ روکا تو آپ نے ايک خطبہ کے ضمن ميں اپنے قيام يزيد کي بيعت سے انکار اور کوفيوں کے خطوط کا ذکر کيا اور آخر ميں سے گلہ کرتے ہوئے فرمايا ” ميري تکيہ گاہ خدا ہے اور وہ مجھے تم لوگوں سے بے نياز کرتا ہے ” سيغني الله عنکم“[3] آگے چلتے ہوئے جب عبد الله مشرقي ملاقات کي اور اس نے کوفہ کے حالات بيان کرتے ہوئے فرمايا کہ لوگ آپ کے خلاف جنگ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہيں تو آپ نے جواب ميں فرمايا ” حسبي الله ونعم الوکيل“[4]

عاشور کي صبح جب سياہ يزيد نے امام کے خيموں کي طرف حملہ کرنا شروع کيا تو اس وقت بھي آپ کے ہاتھ آسمان کي طرف بلند تھے اور خدا سے مناجات کرتے ہوئے يوں فرمارہے تھے ”خدايا! ہر سختي اور مشکل ميں ميري اميد اور ميري تکيہ گاہ تو ہي ہے، خدايا! جو بھي حادثہ ميرے ساتھ پيش آتا ہے اس ميں ميرا سہارا تو ہي ہوتا ہے، خدايا! کتني سختيوں اور مشکلات ميں تيري درگاہ کي طرف رجوع کيا اور تيري طرف ہاتھ بلند کئے تو تو نے ان مشکلات ک دور کيا“[5]



1 next