محافظ کربلا ا مام سجاد عليه السلام



غلام حسين متو

          تاريخ کے صفحات پرايسے سرفروشوں کي کمي نہيں جن کے جسم کوتووقت کے ظالموں اورجلادوں نے قيدي توکردياليکن ان کي عظيم روح،ان کے ضميرکووہ قيدي بنانے سے عاجزرہے،ايسے فولادي انسان جوزنجيروں ميں جکڑے ہوئے بھي اپني آزادروح کي وجہ سے وقت کے فرعون وشدادکوللکارتے رہے،تلواروں نے ان کے سر،جسم سے جدا توکردئيے ليکن ليکن ايک لمحہ کے لئے بھي ان کي روح کوتسخيرنہ کرسکے،ايسے انسان جن کي آزادروح،آزادضمير،اورآزادفکر کے سامنے تيزوتنداسلحے بھي ناکارہ ثابت ہوئے … جب ان کي زبانيں کاٹي گئيں توان لوگوں نے نوک قلم سے مقابلہ کيااورجب ہاتھ کاٹ دئيے گئے اپنے خون کے قطروں سے باطل کوللکاراجب وقت کے فرعون جن کي ہرزمانيں ميں شکليں بدلتي ہوتي ہيں اورمقصدايک ہوتاہے ان کويوں ڈراتے ہيں کہ ”اآمنتم لہ قبل ان آذن لکم… فلاقطعن ايديکم وارجلکم من خلاف ولاصلبنکم“ (سورہ طہ۷۱) ہماري سرپرستي قبول نہ کرنے کي سزا کے طورپرتمہارے ہاتھ پيرکاٹے جائيں گے اورپھانسي کاپھنداتمہارے ليے آمادہ ہے توتاريخ کے تسلسل ميں ان سر فروشوں کاجواب ايک ہي رہاکہ ”فاقض ماانت قاض“ (طہ۷۲) تم وقت کے فرعون جوکچھ کرنا چاہوکرو، ليکن ہماري روح کوقيدکرناتمہارے بس کي بات نہيں،تم موت کي دھمکي ديتے ہواورہم اسي موت کواپني کاميابي تمہاري شکست سمجھتے ہيں۔

کاٹي زبان توزخم گلوبولنے لگا

چپ ہوگياقلم تو لہوبولنے لگا

          شہادت حسين کے بعدبھي خاندان نبي کو اسير کرکے کوفہ لے جاياگيا تو يزيد نے امام سجاد اور ديگرافراد کو زنجيروں اورہتھکڑيوں ميں ضرورجکڑا،ان پرمصائب کے پہاڑ توڑے ليکن يزيداوريزيديت کے سامنے سرتسليم نہ کرسکے،ان کي روح و ضميرکوقيدنہ کر سکے، يزيداسيروں سے يہ توقع رکھتاتھا کہ اب ان ميں احساس ندامت ہوگا وہ شہيدوں کي طرح بيعت ٹھکرائيں گے نہيں بلکہ معافي طلب کے کے بيعت پرآمادہ ہوں گے، ليکن جوں جوں زنجيروں ميں جکڑے ہوئے آزاد انسانوں کايہ قافلہ آگے بڑھتاگيا يزيدکي شکست اورحسين کي کاميابي کے آثارروشن ہوتے گئے،حالات يزيدکي منشاء کے مطابق نہيں امام حسين کي طرف سے ترتيب دئے گئے پروگرام کے مطابق آگے بڑھ رہے تھے،قافلہ کي باگ ڈورابن زيادکے ہاتھ ميں نہيں ،امام سجادکے ہاتھوں ميں تھي،حسين کي اسيربہن اوربيٹے کاحالات پرپوراکنٹرول تھا،وہ اپني روحاني طاقت و شجاعت کي بنيادپراپني روحاني آزادي وحريت کي بنياد پريزيديت کادائرہ حيات تنگ کرتے جارہے تھے۔

فتح يزيدکيسے شکست ميں تبديل ہوئي!

          يہ کوفہ ہے،يزيدکي منفي تبليغات کي وجہ سے لوگ اس انتظارميں بيٹھے ہيں کہ معاذاللہ، دشمنان اسلام کے بچے کھچے افرادکواسيرکرکے لايا جارہا ہے، لوگ يہ سمجھ رہے تھے کہ دشمن کوکربلاميں فوج يزيدنے قتل کردياہے،خوشي کاسماں ہے،ابن زيادنے اپني ظاہري فتح کي خوشي ميں دربارکوسجارکھاہے ،ابن زيادکاخيال يہ تھا کہ ان کے سامنے وہ لوگ ہيں جن کے سامنے سرتسليم خم کرنے کے علاوہ کچھ باقي نہيں بچاہے،ليکن کوفہ کے بازارميں جب حسين کي بہن اوربيٹے نے اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق لوگوں پرحقيقت کوروشن کياتب جاکے ابن زيادکواحساس ہواکہ روح حسين اس کي بہن اوربيٹے کے جسم ميں دوڑرہي ہے اوراب بھي فرياددے رہي ہے ”لااعطيکم بيدي اعطاء الذليل“ اب بھي حسين نعرہ دے رہے ہيں کہ ”مجھ جيسا يزيد جيسے کي بيعت نہيں کرسکتاہے“۔

          انقلاب حسين کا پہلامرحلہ يعني خون وشہادت کہ شہداء نے انجام ديااورانقلاب حسين کادوسرامرحلہ يعني شہيدوں کاپيغام پہنچانا امام سجاداورزينب کي ذمہ داري ہے، بازارکوفہ کے اس مجمع پريہ واضح کرناہے کہ جوقتل کيے گئے ہيں وہ کوئي اورنہيں اسي پيغمبرکي ذريت ہے جن کالوگ کلمہ پڑھتے ہيں اورجولوگ اسيرکيے گيے ہيں وہ بھي نبي کي ذريت ہيں، امام سجادکواس مجمع کے سامنے واضح کرناہے کہ حسين نواسہ رسول شہيدکئے گئے ہيں ،ابن زياداوريزيدکے مظالم بيان کرنااوران کے چہرے سے نقاب اتارنا امام سجادکي ذمہ داري ہے، امام نے کوفہ کے اس مجمع کويہ احساس بھي دلاناہے کہ تم لوگوں نے جس امام کودعوت دي تھي کربلاميں اس کويک وتنہاکيوں چھوڑا،جب قافلہ اس بازارميں پہونچاتوپہلے علي کي بيٹي اورپھرامام سجادنے خون حسين کاپيغام پہونچايا،آپ نے مجمع سے مخاطب ہوکرايک قدرتمند اورآزادانسان کي طرح خاموش رہنے کوکہااورفرمايالوگوں!خاموش رہو،اس قيدي کي آوازسن کرسب لوگ خاموش اورپھرآپ فرماتے ہيں:

          ”لوگو! جوکوئي مجھے پہچانتاہے پہچانتاہے اورجونہيں پہچانتاہے وہ جان لے کہ ميں علي فرزندحسين ابن علي ابن ابي طالب ہوں،ميں اس کابيٹاہوں جس کي حرمت کوپامال کريااورجس کامال وسرمايہ لوٹاگياہے، اورجس کي اولادکواسيرکياگياہے،ميں اس کابيٹاہوں جس کانہرفرات کے کنارے سرتن سے جداکياگياہے،جب کہ نہ اس نے کسي پرظلم کياتھااورنہ ہي کسي کودھوکادياتھا… اے لوگوں ،کياتم نے ان کي بيعت نہيں کي؟ کياتم وہي نہيں ہوجنہوں نے ان کے ساتھ خيانت کي؟ تم کتنے بدخصلت اوربدکردارہو؟

          اے لوگو! اگررسول خداتم سے کہيں:  تم نے ميرے بچوں کوقتل کيا،ميري حرمت کاپامال کيا،تم لوگ ميري امت نہيں ہو! تم کس منہ سے ان کاسامناکرو گے؟

          امام کے اس مختصرمگر دردمند اور دلسوزکلام نے مجمع ميں کہرام برپاکياہرطرف سے نالہ وشيون کي صدابلندہونے لگي،لوگ ايک دوسرے سے کہنے لگے لوگوہم سب ہلاک ہوئے۔

          اوريوں وہ مجمع جوتماشاديکھنے آياتھا يزيداورابن زيادکابغض وکينہ اوران کے ساتھ نفرت لے کروہاں سے واپس گيا،اورتبليغات سوء کي وجہ سے پھيلنے والي اندھيري گھٹنے لگي۔



1 2 next