بقيةالله الاعظم (عج) اور آپ کی جهانی حکومت

.


خداوند عالم ارشاد فرماتا ھے:

” بقیةالله خیرلکم اِن کنتم مؤمنین“[1]

مؤمنین کو بس شب و روز ایک ھی انتظار ھے کہ جلدی سے وہ دن آئے کہ جب ان کے دلوں کا محبوب ، گلشن زھراء(س) کا پھول اور حضرت محمد مصطفےٰ صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کا بر حق آخری جانشین کہ جس کا قرآن نے  بقیةالله کے عنوان سے تعارف کرایا ھے ، خانہٴ کعبہ میںظاھر ھو اور اپنے نورانی وجود سے دلوں میں پیارو محبت اور دوستی کا بیج اگادے  جو مؤمنین کے لئے خیر و برکت ، فلاح و بہبودی اور ھدایت وکامیابی کا باعث ھے جب وہ آئے گا تو پیغمبراسلام(ص)نے جس اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی تھی اس کو پورے جھان میں پھیلاکر جھانی حکومت بنادے گا جبکہ متفکرین ایک ایسی حکومت کے وجود کو جو تمام انسانوں کے مسائل حل کرتی ھو، آج تک محال جانتے آئے ھیں

ایک جھانی حکومت کا قیام

دنیا میں آج تک کوئی ایسی حکومت ابھی تک قائم نھیں ھوسکی ھے جو پوری زمین پر آباد تمام انسانوں کے مسائل حل کر سکے اس میں نہ کسی کوکسی سے کوئی شکایت ھواور نہ ھی لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرتے ھوں۔ دنیا میں ھر شخص ھر حاکم ھر حکومت کی خواھش یھی رھی ھے کہ اس کی حکومت پورے جھان پر قائم ھو اس کا فرمان تمام انسانوں پر جاری اور تمام انسان اسکے مطیع اور فرمانبردار ھوں مگر کوئی کامیاب نھيں ھوسکا ،اس خواب کی تعبیر پانے کے لئے ھر حکومت نے لوگوں پر ظلم کئے ناحق خون بھایا اور دوسرے کی سرزمین پہ قبضہ کرکے ہزاروں انسانوں کو بے گھر کیا مگر وہ تمام انسانوں کو اپنا مطیع نہ بنا سکی کیونکہ خدا کی تائید کے بغیر ایک جھانی حکومت کا پیش کرنا محال ھے ۔

 ارسطو ، افلاطون اور انکے معاصر یونانی دانشمندوں کا خیال ھے  : ” وسیع پیمانے پر ایک ایسی جھانی حکومت کہ جس میں سیاسی نظام کاملاً انسانی زندگی کو متحمل ھو ممکن نھیں ھے“ [2]

ارسطو کہ جس کے نظریات کو باقی دانش وروں نے اھمیت دی ھے ، کہتا ھے : ” انسان کا وجود ایک سیاسی وجود ھے اور تمام انسان ایک ماھیت سے مرتبط ھیں اس کے باوجود تمام انسان ایک چھوٹی سی ایسی حکومت تو تشکیل دے سکتے ھیں کہ جس میں محبت و پیار حاکم ھو “(مگر حکومت جھانی پیش نھیں کرسکتے)[3]

ایک دوسرے گروہ کا خیال ھے کہ ”ملکی سرحدوں کو ختم کرکے تمام ملکوں کے درمیان عالمی پیمانے پر ایک نظام تشکیل دے کرھی معاشرے کو نجات دی جاسکتی ھے مگر اس نظریہ کے تحت پوری نوع انسانیت پر حکومت کا تشکیل دینا ایک فاجعہ سے کم نہ ھو گا [4]

اور بعض متفکرین کسی ایک فکری جہت سے ھی پورے عالم پر جھانی حکومت کا خواب دیکھتے اور اس پر عمل کرتے آئے ھیں مثلاً ایک گروہ کا نظریہ ھے:

”تمام انسان اپنی مشترک انسانی حکومت کو جھانی مشترک المنافع معاشرے میں ھی تحقق عطا کرسکتے ھيں “ لہٰذا اس نظرےہ کے پیش نظر ”مارکوس اور لیانوس “ کہتا ھے کہ :”ھم سب جھانی شھر کے شھری لوگ ھیں ( جسکا منافع مشترک ھے)“[5]

یا جیسے قرون وسطیٰ کے مسیحی متفکرین جو رواقیوں سے زیادہ جھانگرا  تھے کہتے ھیں کہ :” تمام انسان قانون فطری اور نظم سیاسی کے اعتبار سے نھیں بلکہ تمام لوگ گناھوں میں ملوث ھونے کے ناتے اور پھر رحمت خداسے متمسک ھونے کے سلسلے میں باھم متحد ھیں “[6] یعنی گناھوں کی دنیا میں جھانی فکر رکھتے ھیں[7]

خلاصہ ےہ کہ جھانی حکومت کا پیش کرنا آسان کام نھیں ھے اور بڑے بڑے دانشور اسکو محال سمجھتے ھیں ایسی حکومت کا خواب تو سب نے دیکھا اور کوشش بھی ھر ایک نے کی مگر آج تک کوئی کامیاب نھیں ھوسکا۔



1 2 3 4 5 6 7 next