امام زمانه(عجل الله تعالی فرجه الشريف) کے وجود پر عقلی اور منقوله دلايل



رسول خدا(ص) کی فریقین سے مروی اس روایت کے مطابق کہ جو شخص اس دنیا میں اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مر جائے اس کی موت جاھلیت کی موت ھے[1]، اگر چہ امام زمانہ(ع) کی تفصیلی معرفت تو میسر نھیں ھے لیکن اجمالی معرفت کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جارھا ھے۔

ھر زمانے میں امامِ معصوم کی ضرورت، عقلی ونقلی دلائل کے ذریعہ بحث ِ امامت میں ثابت هو چکی ھے۔

عقلی نقطہ نگاہ سے

عقلی دلائل کا اجمالی طور پر خلاصہ یہ ھے کہ نبوت ورسالت کا دروازہ پیغمبر خاتم(ص) کے بعدھمیشہ ھمیشہ کے لئے بند هو چکا ھے۔ لیکن قرآن کو سمجھنے کے لئے، جو آ نحضرت(ص) پر نازل هوا ھے  اور ھمیشہ کے لئے انسان کی تعلیم وتربیت کا دستور العمل ھے، معلم ومربی کی ضرورت ھے۔ وہ قرآن، جس کے قوانین مدنی البطع انسان کے حقوق کے ضامن تو ھیں لیکن  ایک مفسراور ان قوانین کو عملی جامہ پھنانے والے کے محتاج ھیں۔

 بعثت کی غرض اس وقت تک متحقق نھیں هو سکتی جب تک کہ تمام علوم قرآنی کا معلم موجود نہ هو۔ایسے بلند مرتبہ اخلاقی فضائل سے آراستہ هو کہ جو ((انما بعثت لاٴتمم مکارم الاٴخلاق))[2] کا مقصد ھے۔نیز ھر خطا و خواھشات نفسانی سے پاک ومنزہ هو جس کے سائے میں انسان اس علمی و عملی کما ل تک پھنچے جو خدا وند تعالیٰ کی غرض ھے۔<إِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالَعَمَلُ الصّالِحُ یَرْفَعُہ>[3]

مختصر یہ کہ قرآن ایسی کتاب ھے جو تمام انسانوں کو فکری، اخلاقی اور عملی ظلمات سے نکال کر عالم نور کی جانب ھدایت کرنے کے لئے نازل هوئی ھے <کِتَابٌ اٴَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ>[4]

اس غرض کا حصول فقط ایسے انسان کے ذریعے ممکن ھے جو خود ظلمات سے دور هو اور اس کے افکار، اخلاق و اعمال سراپا نور هوں اور اسی کو امام معصوم کہتے ھیں۔

اور اگر ایسا انسان موجود نہ هوتو تعلیم کتاب وحکمت اور امت کے درمیان عدل کا قیام کیسے میسر هو سکتا ھے ؟ اور خود یھی قرآن جو اختلافات کو ختم کرنے کے لئے نازل هوا ھے، خطاکار افکار اور هویٰ و هوس کے اسیر نفوس کی وجہ سے، اختلافات کا وسیلہ وآلہ بن کر رہ جائے گا۔

آیا وہ خداجو خلقت ِانسان میں احسن تقویم کو مدنظر رکھتے هوئے انسان کی ظاھری خوبصورتی کے لئے بھنوں تک کا خیال رکھ سکتا ھے، کیا ممکن ھے کہ مذکورہ ھدف ومقصد کے لئے کتاب تو بھیج دے لیکن بعثت انبیاء اور کتب نازل کرنے کی اصلی غرض، جو سیرت انسان کو احسن تقویم تک پہچانا ھے،  باطل کر دے ؟!

اب تک کی گفتگو سے رسول خدا  ا(ص) کے اس کلام کا نکتہ واضح وروشن هو جاتا ھے کہ جسے اھل سنت کی کتابوں نے نقل کیا ھے ((من مات بغیر إمام مات میتة جاھلیة))[5]اور کلام معصومین علیھم السلام کا نکتہ بھی کہ جسے متعدد مضامین کے ساتھ شیعی کتب میں نقل کیا گیا ھے۔مثال کے طور پر حضرت امام علی بن موسی الرضا(ع) نے شرائع دین سے متعلق، مامون کو جو خط لکھا اس کا مضمون یہ ھے ((وإن الارض لا تخلو من حجة اللّٰہ تعالی علی خلقہ فی کل عصر واٴوان و إنھم العروة الوثقیٰ))یھاں تک کہ آپ(ع) نے فرمایا ((ومن مات ولم یعرفھم مات میتة جاھلیة))[6]

اب جب کہ اکمال ِدین واتمام ِنعمت ِھدایت میں ایسی شخصیت کے وجود کی تاثیر واضح هو چکی، اگر اس کی عدم موجودگی سے خدا اپنے دین کو ناقص رکھے تو اس عمل کی وجہ یا تویہ هو گی کہ ایسی شخصیت کا وجود ناممکن هو یا خدا اس پر قادر نھیں اور یا پھر خدا حکیم نھیں ھے اور ان تینوں کے واضح بطلان سے امام کے وجود کی ضرورت ثابت ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next