مهدی ومهدويت



مقدمہ

الحمد لله علی ما اٴنعم واٴلھم ،صلی اللّٰہ علی سیدنا محمد وآلہ وسلم۔

قارئین کرام !    حضرت امام ”مہدی منتظر“ کے سلسلہ میں بہت سے شک وشبھات کے سیاہ بادل منڈلاتے هوئے نظر آتے ھیں،اور مسلمانوں کے درمیان میں بہت سی ردّ وبدل هوتی رھی ھے ،یھاں تک کہ بعض کتابوں اور بعض مولفین نے ”امام مہدی“ پر ایمان کو خرافات اور افسانہ پر ایمان رکھنابتایا ھے۔

جبکہ ان بحث کرنے والوں پر لازم تھا کہ اپنی بحث کو صرف اسی حقیقت کوواضح کرنے کے لئے مخصوص کرتے،تاکہ جو شبھات اس سے متعلق پائے جاتے تھے ان کو دور کرتے، اور ناقص افتراء پردازی کا خاتمہ کرکے خالص حقیقت سے پردہ برداری کرتے، تاکہ تمام لوگوں کے سامنے حقیقت واضح اور روشن هوجائے۔

چنانچہ بعض حضرات ایسے بھی هونگے جو یہ خیال کریں کہ یہ موضوع او راس طرح کے دوسرے موضوعات نے مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کردیا ھے اور ان کے درمیان اختلافات کی آگ بھڑکادی ھے، لہٰذا ان جیسے موضوعات پر بحث ھی نہ کی جائے تو زیادہ مفید ھے، لیکن ھمارے لحاظ سے یہ تصور حقیقت سے بہت دور ھے کیونکہ کسی بھی زمانہ میں کسی بات پر خاموش رہنا اس طرح کی مشکلات کا علاج نھیں رھا ھے، لہٰذا اس طرح کا خیال خام سوء ظن او رپستی کی علامت کے علاوہ کچھ نھیں هوسکتا۔

لہٰذا اس سلسلہ میں صاف اور وضاحت کے ساتھ گفتگو کرنا ھی مفید اور بہتر ھے، تاکہ نامعلوم حقائق سے پردہ برداری کی جاسکے ، جھوٹ او ربے هودہ باتوں کا پول کھل جائے اور شک وتردید کا سد باب هوسکے۔

اسی وجہ سے ھم اسی اھم مقصد وہدف کے بارے میں چند صفحات گفتگو کرنا چاہتے ھیں اور ھم آپ تک خالصانہ واضح طورپرحقائق کو هوبهو پهونچانا چاہتے ھیں۔

ھم اس حصہ میں بھی (اپنی تحقیق اور جستجو )کو محترم قارئین کی خدمت پر پیش کرتے هوئے امیدوار ھیں کہ اس بحث کے مطالعہ کے بعد انصاف سے کام لیں اور خود غرضی کا شکار نہ هوں۔

ھماری دلی آرزو یہ ھے کہ ھمارے قارئین کرام اس بحث کے مطالعہ میں وہ چیزیں پائے گے جن پر گذشتہ صدیوں سے غبار چڑھا هوا تھا اور”مہدی ومہدویت“ کے سلسلہ میں شیعہ حضرات کے عقیدہ سے بھی آگاہ هوجائیں گے۔

اَلْحَمُدْ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہٰذَا وَمَاکُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَو لَا اَنْ ہَدَانَا اللّٰہُ۔

پھلا مرحلہ :

 نظریہ مہدویت

گذشتہ فصل ”امامت“ کا خلاصہ یہ ھے کہ امامت نام ھے رسالت کے مکمل کرنے والے جز کا، جیسا کہ نصوص اور عقل انسانی بھی دلالت کرتی ھےں، اور جو دلیل نبوت کے لئے قائم کی جاتی ھے اسی دلیل کے تحت امامت کی بھی ضرورت کو ثابت کیا جاسکتا ھے، کیونکہ بغیر امامت کے نبوت کا وجود مکمل نھیں هوتاھے اور اگر نبوت کو ناقص تصور کرلیں تو یہ بات حقیقت اسلام سے منافی ھے کیونکہ اسلام تو یہ کہتا ھے کہ قیامت تک نبوت ورسالت کا هوناضروری ھے۔

لہٰذا نبوت زندگی کا آغاز ھے او رامامت اس زندگی کا دوام او رباقی رہنا ھے، اور اگر ھم نبوت کوامامت کے بغیر تصور کریں تو پھر ھمیں یہ کہنے کا حق ھے کہ رسالت ایک محدود سلسلہ ھے جو رسول کے بعد اپنی حیات کو باقی نھیں رکھ سکتایعنی اپنے اغراض ومقاصد میں اپنی وصی کے بغیر پایہ تکمیل تک نھیں پهونچاسکتی۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 next