حضرت مهدی(عج) کے اوصاف وخصوصيات



 آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی

    انواع واقسام کے مخلوقات حتی کہ انسان بھی ''مابہ الاشتراک'' اور ''مابہ الامتیاز'' سے مرکب ہوتے ہیں بہ الفاظ دیگر افراد بعض ذاتی یاعرضی یااعتباری صفات میں دوسروں کے ساتھ شریک ہونے کے علاوہ کچھ خصوصی اور امتیازی صفات کے مالک ہوتے ہیںجن کی بنا پر وہ دوسروں سے الگ اور ممتاز ہوتے ہیں، یہی امتیازات عالم خلقت کی اہم ترین حکمت اور نظام کائنات کی بقاء کے ضامن ہیں۔
    ''مابہالاشتراک'' قدر مشترک یا وجہ مشترک وہ چیز ہوتی ہےجس میں ایک یامتعدد افراد شریک ہوتے ہیں اور جس کی بناپر کوئی بھی کلی یا عام لفظ کثیرافراد ومصادیق کے مطابق ہوتا ہے جیسے انسان کا ناطق وضاحک ہونا۔
    ''مابہالافتراق والامتیاز'' یا وجہ امتیاز وہ حقیقی، عرضییا اعتباری صفات وکیفیات ہیں جن سے کوئی شخص دوسروں سے ممتاز نظرآتا ہے اور جن کی بنا پر اس کی اپنی الگ شناخت ہوتی ہے۔
    طبیعیطور پر کسی بھی فرد کے مشخصات کیفیات بہت زیادہہوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی بے شمار بھی ہوسکتے ہیں لیکن اگر کسی کا تعارف کرانا مقصود ہو تو پھر ایسے خصوصیات اور کیفیات بیان کرنا چاہئیں جواس شخص کے علاوہ کسی اور شخص میںنہ پائے جاتے ہوں تاکہ وہ شخص دوسروں کے ساتھ مشتبہ نہ ہونے پائے ورنہ تعارف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا،مثلا اگر کسی مقام کا پتہ بتانا ہو تو ملک، صوبہ، ضلع، شہر، محلہ، گلی اور مکان نمبر بتانا چاہئے اسی طرح اگرکسی کا جسمانی خصوصیات کے ذریعہ تعارف کرایا جارہا ہے تو شکل وشمائل، حلیہ، رنگ، بالوں کا انداز، قدوقامت کا ذکر ہونا چاہئے،نسبی اور خاندانی خصوصیات میں ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، دادیہال ونانیہال کے کارنامے بیان ہونا چاہئیں،شخصی کارناموں میں اصلاحی اقدامات، جنگ، صلح، معاہدات، مشغلہ، پیشہ، عہدہ و منصب، تاریخی حیثیت، طرززندگی، انداز معاشرت اور علمی کارموں میں انداز فکر، بلند خیالی، ایمان، عقیدہ، سماجی وسیاسی نظریات، اخلاقیات میں، اس کے عادات واطوار، شجاعت، سخاوت، عفو ودرگزر، تواضع وانکساری، شہامت، عدل وانصاف اور دیگر اخلاقی خوبیوں یا برائیوں کا تذکرہ ہوناچاہئے۔
    شناختوکوائف جتنے بہتر اور واضح انداز میں بیان کئے جائیںگے اس شخص کیمعرفت اتنی ہی آسان اور بہتر ہوگی۔
    حضرتمہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے اوصاف کی معرفت دو لحاظ سےاہمیت کی حامل ہے، پہلے تو یہ کہ امام وقت کی معرفت ہمارافریضہ ہے کیوں کہ معرفت امام ہم پر شرعاً وعقلا واجب ولازم ہے مشہور ومعروف حدیث ہے۔
    ''منمات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ الجاھلیۃ''
    ''جوشخص اپنےزمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مرگیا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے''
    امام زمانہ کےاوصاف کی معرفت ہمارے لئے اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اسی معرفت کے ذریعہ مہدویت کا دعویٰ کرنے والے جھوٹے افراد کے دعوے کو غلط اور باطل قرار دے سکتے ہیں، اور انھیں اوصاف سے ایسے افراد کا جھوٹ اور فریب واضح ہوسکتاہے۔
    حضرتمہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے لئے روایاتواحادیث میں جن اوصاف وعلائم کا تذکرہ پایا جاتا ہے انکے پیش نظر، یہ اوصاف آپ کے علاوہ کسی اورمیں نہیں پائے جاتے اور ان کی روشنی میں کسی دوسرے شخص پر آپ کا دھوکا نہیں ہوسکتا۔
    اگرکوئی شخص دعوائے مہدویت کرنے والوں کے مکروفریب میںپھنس گیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ ان اوصافوخصوصیات سے غافل یا بے خبر تھا، یا پھر اس نے بعض ایسے اوصاف کو جو آپ کا خصوصی وصف نہیں بلکہ وصف عام تھا اور اس میں دوسرے افراد کی شرکت ممکن تھی، آپ کی خصوصی صفت سمجھ لیا اور دھوکہ میں مبتلا ہوگیا البتہ ایسے افراد بھی ہیں جو دیدہ ودانستہ حقیقت کو جانتے ہوئے بھی مادی یا سیاسی مقاصد، یا عہدہ ومنصب کی لالچ میں ایسے دعووں کو بظاہر تسلیم کرلیتے ہیں اور اس کی ترویج بھی کرتے ہیں، ورنہ آپ کے لئے جو اوصاف وخصوصیات مذکور ہیں وہ ایسے ہیں کہ آپ کی ذات گرامی کے علاوہ ،دعوائے مہدویت کرنے والے کسی بھی شخص پر ان کا منطبق ہونا ممکن ہی نہیں ہے اوران اوصاف وعلائم وخصوصیات کی عدم موجودگی میں ایسے افراد کے دعویٰ کا باطل ہونا آفتاب عالمتاب کی طرح واضح ہے.
    علمحدیث کے نامور اور معتبر علماء ومحققین نے اپنی معتبر اورمستند کتب میں مفصل طریقہ سے ان اوصاف وخصوصیات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اس مختصر مقالہ میں چوںکہ ان تمام احادیث کا ذکر ممکن نہیں ہے لہٰذا ہم نا مکمل اطلاعات اور تحقیق کی بنیاد پر اپنی کتاب ''منتخب الاثر'' سے آپ کے بعض اوصاف وخصوصیات سے متعلق احادیث کے بجائے صرف احادیث کی تعداد قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔
•     ۱۔مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ پیغمبر(ص) کے خاندان اور آپ کی ذریت سے ہیں، ۳۸۹، احادیث سے یہ بات ثابت ہے۔
    ۲۔۴۸/احادیث کے مطابق حضرت مہدی عجلاللہ تعالیٰ فرجہ پیغمبر (ص)کے ہم نام ہیںاور پیغمبر(ص) کیکنیت آپ کی کنیت ہے اور آپ پیغمبر(ص) سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔
•      ۳ ۔۲۱/احادیث میں آپ کے شمائل اورجسمانی خصوصیات کا تذکرہ ملتا ہے۔
•       ۴۔ ۲۱۴/احادیث میں مذکور ہے کہآپ امیرالمومنین (ع) کی اولاد میں سے ہیں۔
•       ۵۔ ۱۹۲/احادیث کے مطابق آپ حضرت فاطمہ زہرا (ع)کی اولاد میں سے ہیں۔
•       ۶۔ ۱۰۷/احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آ پ ''امامحسن (ع)وامام حسین (ع)'' کی اولاد سے ہیں۔ (۱)
•       ۷۔ ۱۸۵/احادیث میں مذکور ہے کہ آپ کا تعلق اولادامام حسین(ع) سے ہے۔
•       ۸۔ ۱۴۸/احادیث بیان کرتی ہیں کہ آپ نسلامام حسین (ع) کے نویں فرزند ہیں۔
•       ۹۔ ۱۸۵/احادیث کے مطابق امام زین العابدین(ع)کے فرزندوں میں ہیں۔
•       ۱۰۔ ۱۰۳/احادیث کے مطابق حضرت امام محمد باقر(ع) کے ساتویںفرزند ہیں۔
•       ۱۱۔ ۹۹/احادیث میں صراحت ہے کہ آپ (ع)حضرت امام جعفر صادق(ع) کے چھٹےفرزند ہیں۔
•       ۱۲۔ ۹۸/روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امامموسیٰ کاظم (ع)کے پانچویں فرزند ہیں۔
•       ۱۳۔۹۵/روایات کے مطابق آپ امام رضا (ع)کے چوتھے فرزندہیں۔
•       ۱۴۔۶۰/روایات کے مطابق امام محمد تقی (ع)کےتیسرے فرزند ہیں۔
•       ۱۵۔ ۱۴۶/روایات کے مطابق امام علی نقی (ع)کےجانشین کے جانشین اورامام حسن عسکری (ع) کے فرزندہیں۔
•       ۱۶۔۱۴۷/روایات میں آپ کے پدر بزرگوار کا اسمگرامی ''حسن (ع)'' بتایا گیا ہے۔
•       ۱۷۔۹/احادیث کے مطابق آپ کی والدہ سیدہئ کنیزاناور ان میں سب سے برتر ہیں۔
•       ۱۸۔۱۳۶/احادیث میں آپ کو بارہواں امام (ع) اورخاتم الائمہ کہا گیا ہے۔
•       ۱۹۔۱۰/احادیث کے مطابق آپ دو غیبت(صغریٰ، کبریٰ) اختیارفرمائیںگے۔
•       ۲۰۔۹۱/احادیث کے مطابق آپ کی غیبت اتنیطولانی ہوگی کہ لوگوں کے ایمان کمزور پڑجائیںگے اور کم معرفت والے شک وشبہ میں مبتلا ہوجائیںگے۔
•       ۲۱۔۳۱۸/احادیث کے مطابق آپ کی عمر شریف بہتطولانی ہوگی۔
•       ۲۲۔۱۲۳/احادیث کے مطابق آپ ظلم وجور سے بھریہوئی زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیںگے۔
•       ۲۳۔۸/احادیث کے مطابق بڑھتی ہوئی عمر اور حالات زمانہ کاآپ پر اثر نہ ہوگا اور آپ جوان نظر آئیںگے۔
•       ۲۴۔۱۴/احادیث کے مطابق آپ کی ولادت کی خبرمخفی رہے گی۔
•       ۲۵۔۱۴/احادیث کے مطابق آپ دشمنان خدا کو قتل کریںگے اور روئےزمین سے شرک، ظلم وستم اور حکام جور کا خاتمہ کریںگے اور ''تاویل'' پر جہادکریں گے۔
•       ۲۶۔۴۷/احادیث کے مطابق آپ دین خدا کو ظاہرفرماکر پوری زمین کے اوپر پھیلائیں گے اور پوری دنیا کے حاکم ہوںگے خدا آپ کےذریعہ زمینوں کو زندہ کردے گا۔
•       ۲۷۔۱۵/احادیث میں ہے آپ لوگوں کیہدایت فرماکرقرآن وسنت کی طرف پلٹائیںگے۔
•       ۲۸۔۲۳/احادیث کے مطابق آپ انبیاء کی سنتوں کے وارثہیں ان میں سے ایک غیبت بھی ہے۔
•       ۲۹۔بہت سی روایات کے مطابقآپ تلوار کے ذریعہ جہاد فرمائیںگے۔
•       ۳۰۔۳۰/روایات کے مطابق آپ کی سیرت بالکلپیغمبر (ص)کی سیرت کی طرح ہوگی۔
•       ۳۱۔۲۴/احادیث کے مطابق لوگوں کے سخت آزمائش وامتحانکی منزل سے گزرنے کے بعد ہی آپ ظہور فرمائیںگے۔
•       ۳۲۔۲۵/احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی(ع) آسمان سے نازل ہوںگے اور آپ کیاقتداء میں نماز ادا کریںگے۔
•       ۳۳۔۳۷/روایات کے مطابق آپ کے ظہور سے قبل بدعتوں، ظلم وجور، گناہ،علی الاعلان فسق وفجور، زنا، سود، شراب خوری، جوا، رشوت، امربالمعروف ونہی عن المنکرسے روگردانی کا دور دورہ ہوگا، عورتیں بے حجاب ہوکر مردوں کے امور میںشریک ہوںگی، طلاق کثرت سے ہوگی،لہوولعب، غنا اور موسیقیعام ہوگی۔
•       ۳۴۔آپ کے ظہور کے وقت آسمان سے ایکمنادی آپ کا اور آپ کے پدربزرگوار کا نام لے کر ندا دے گا اور آپ کے ظہور کا اعلان کرے گاجو سب کو سنائی دے گا۔(۲۷/احادیث)
•       ۳۵۔ آپ کے ظہور سے قبل گرانی بہتزیادہ ہوگی بیماریاں پھیل جائیں گی ، قحط ہوگا اور عظیم جنگ برپا ہوگی اور بہت سے لوگ مارے جائیں گے ۔ (۲۳ / احادیث )
•       ۳۶۔آپ کے ظہور سے قبل ''نفسزکیہ'' اور ''یمانی'' قتل کئے جائیںگے اور یہ''بیدائ'' (مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام) میں ہوگا، دجال اور سفیانی خروج کریںگے اور امام زمانہ انھیں قتل کریںگے۔ (فصل ۶ کے باب ۶و۷ اور فصل ۸ کے باب ۹و۱۰ کی احادیث)
•       ۳۷۔آپ کے ظہور کے بعد زمینوآسمان کی برکتیں ظاہر ہوںگی زمین مکمل طور سے آباد ہوگی، خدا کے علاوہ کسی کی پرستش نہ ہوگی، امور آسان اور عقلیں کامل ہوجائیںگی۔ (فصل ۷ کے باب ۲،۳،۴، ۱۱، ۱۲ کی احادیث)
•       ۳۸: آپ کے تین سوتیرہ(۳۱۳) اصحاب ایک وقت میں آپ کی خدمتمیں پہونچیں گے (۲۵ روایات)
•       ۳۹۔آپ کی ولادت،کیتفصیلات کی تشریح، تاریخ ولادت اور آپ کی والدہئ ماجدہ کے مختصر حالات سے متعلق ۲۱۴ ،احادیث۔
•       ۴۰۔آپ کے پدر بزرگوار کی حیاتطیبہ اور غیبت صغریٰ وکبریٰ کے دوران آپ کے بعض معجزات اور ان خوش نصیب افراد کے نام جو حجت خدا کی زیارت و ملاقات سے شرفیاب ہوئے۔ (فصل۳باب۲،۳،فصل ۴باب۱،۲ فصل ۵ باب۱،۲)
    انکے علاوہ بھی بے شمار روایات ہیں ،جو شخص حضرت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے اوصاف کے بارے میںتفصیل کا خواہاں ہو وہ راقم کی کتاب ''منتخب الاثر'' یا شیخ صدوق، نعمانی، شیخ طوسی، مجلسی رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے عظیم المرتبت محدثین کی مفصل کتب حدیث ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔


۱۔آپ کو امام حسن (ع) وامام حسین (ع)، کی اولاد سے اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ امام محمد باقر (ع)کی مادر گرامی امام حسن(ع) کی دختر نیک اختر تھیں اس طرح امام محمدباقر (ع)اور آپ کے بعد امام زمانہ (ع) تک تمام ائمہ،نسل امام حسن (ع) سے بھی ہیں اور نسل امام حسین (ع) سے بھی۔