نبوت



1. انبیاء کی بعثت کا فلسفہ:

ہمارا عقیدہ ہے کہ الله نے نوع بشر کی ہدایت کے لئے، انسانوں کو کمال مطلوب اور ابدی سعادت تک پہونچانے کے لئے پیغمبروں کو بھیجا۔ کیونکہ اگر الله ایسا نہ کرتا تو انسان کو پیدا کرنے کا مقصد فوت ہو جاتا۔ انسان گمراہی کے دریا میں غوطہ زن رہتا اور اس طرح نقض غرض لازم آتی رسلاً مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی ٰ الله حجةً بعد الرسل وکان الله عزیزاً حکیماً   یعنی الله نے خوش خبری دینے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا تاکہ ان پیغمبروں کو بھیجنے کے بعد لوگوں پر الله کی حجت باقی نہ رہے (یعنی وہ لوگوں کو سعادت کا راستہ بتائیں اور اس طرح حجت تمام ہوجائے) اور الله عزیز و حکیم ہے۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام پیغمبروں میں سے پانچ پیغمبر ”اولوالعزم“ ہیں جن کے نام اس طرح ہیں:

۱) حضرت نوح علیہ السلام

۲) حضرت ابراہیم علیہ السلام

۳) حضرت موسی علیہ السلام

۴) حضرت عیسی علیہ السلام

۵) حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وآلہ وسلم

<واذ اخذنا من النبیین میثاقهم ومنک ومن نوح وابراهیم وموسی ٰ وعیسی ٰ ابن مریم اخذنا منهم میثاقاً غلیظا ً یعنی اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے پیغمبروں سے میثاق لیا جیسے آپ سے ،نوح سے،ابراہیم سے، موسیٰ سے اور عیسیٰ ابن مریم سے اور ہم نے ان سب سے پکا عہد لیا کہ (وہ رسالت کے تمام کاموں میں اور آسمانی کتابوں کو عام کرنے میں کوشش کریں)

فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل یعنی اس طرح صبر کرو جس طرح اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا ۔



1 2 3 4 5 next