قيامت



1.      معاد کے بغیر زندگی بے مفہوم ہے

ہمارا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد ایک دن تمام انسان زندہ ہوں گے اور ان کے اعمال کے حساب کتاب کے بعد نیک لوگوں کو جنت میں وگناہگاروں کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ وہیں پررہیں گے۔ الله لا اله الا هو لا یجمعنکم الی ٰ یوم القیامة لاریب فیه الله کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ،یقینا قیامت کے دن، جس میں کوئی شک نہیں ہے،  وہ تم سب کو جمع کرے گا ۔

فاما من طغی ٰ  وآثر الحیوة الدنی ۔۔   فان الحجیم هی الماوی ۔۔ وامامن خاف مقام ربه ونهی النفس عن الهوی ۔۔  فان الجنة هی الماوی    یعنی جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو اختیار کیا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جس نے اپنے رب کے مقام (عدالت) کا خوف پیدا کیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ دنیا ایک پل ہے جس سے گذرکر انسان آخرت میں پہونچتا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں دنیا آخرت کے لئے تجارت کا بازار ہے یا ایک دیگر تعبیر کے مطابق دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام دنیا کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ” ان الدنیا دار صدق لمن صدقها ۔۔۔ ودار غنی لمن تزود منها، ودار موعظةلمن اتعظ بها، مسجد احباء الله ومصلی ٰ الملائکةالله ومهبط وحی الله ومتجر اولیاء الله “ یعنی دنیا سچائی کی جگہ ہے، اس کے لئے جو دنیا کے ساتھ سچی رفتار کرے ۔۔۔۔ اور بے نیازی کی جگہ ہے اس کے لئے جو اس سے ذخیرہ کرے ، اور آگاہی و بیدای کی جگہ ہے اس کے لئے جو اس سے نصیحت حاصل کرے ، دنیا دوستان خدا کے لئے مسجد ،ملائکہ کے لئے نماز کی جگہ، الله کی وحی کے نازل ہونے کا مقام اور اولیاء خدا کی تجارت کا مکان ہے۔

2.   معاد کی دلیلیں بہت روشن ہیں:

ہمارا عقیدہ ہے کہ معاد کی دلیلیں بہت روشن ہیں کیونکہ :

الف: دنیا کی زندگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ دنیا، جس میں انسان چند دنوں کے لئے آتا ہے مشکلات کے درمیان زندگی بسر کرتا ہے اور مرجاتا ہے، انسان کی خلقت کا آخری ہدف ہو افحسبتم انما خلقناکم عبثاوانکم الینا لاترجعون   یعنی کیا تم یہ گمان کرتے ہوکہ ہم نے تمھیں کسی مقصد کے بغیر پیداکیا ہے اور تم ہمارے پاس پلٹ کر نہیں آؤ گے۔ یہ ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر معاد کا وجود نہ ہوتا تو دنیا کی زندگی بے مقصد رہ جاتی ۔

ب: الله کا عدل، اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ نیک اور بد لوگ، جو اس دنیا میں ایک ہی صف میں رہتے ہیں بلکہ اکثر بدکار آگے نکل جاتے ہیں، وہ آپس میں جدا ہوں اور ہر ایک اپنے اعمال کی جزا یاسزا پائے ام حسب الذین اجترحوا السیئات ان نجعلهم کالذین آمنوا وعملوا الصالحات سواء محیا هم ومماتهم ساء ما یحکمون یعنی کیا برائی اختیار کرنے والوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم انھیں ایمان لانے والوں اورنیک عمل کرنے والوں کے برابر قراردیں گے کہ سب کی موت و حیات ایک جیسی ہو، یہ انھوں نے بہت برافیصلہ کیا ہے ۔

ج: الله کی لا زوال رحمت اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کا فیض اور نعمتیں انسان کے مرنے کے بعد بھی قطع نہ ہوں بلکہ صاحب استعداد افراد کا تکامل مر نے کے بعد بھی اسی طرح ہوتا رہے کتب علی ٰ نفسه الرحمة لیجمعنکم الی ٰ یوم القیامة لاریب فیه یعنی الله نے اپنے اوپر رحمت کولازم قراردے لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن اکٹھا کرے گا، اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

جو افراد معاد کے بارے میں شک کرتے ہیں قرآن کریم ان سے فرماتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں، الله کی قدرت میں شک کر و، جب کہ تم کو پہلی بار بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔ بس جس نے تمھیں ابتدا میں خاک سے پیدا کیا ہے وہی تمھیں دوسری زندگی بھی عطا کرے گا۔ افعیینا بالخلق الاول بل هم فی لبس من خلق جد ید   یعنی کیاہم پہلی خلقت سے عاجز تھے؟( کہ قیامت کی خلقت پر قادر نہ ہوں) ہر گز نہیں! لیکن وہ (ان روشن دلائل کے باوجود ) نئی خلقت کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں  ضرب لنا مثلاً ونسی خلقه قال من یحی العظام وهی رمییم ۔۔۔۔ قل یحیها الذی انشائهااول مرة وهو بکل خلق علیم   یعنی وہ ہمارے سامنے مثالیں پیش کرتا ہے، اپنی خلقت کو بھول گیا، کہتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟، آپ کہہ دیجئے ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی مرتبہ خلق کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کا بہتر جاننے والا ہے ۔

اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ زمین و آسمان کی خلقت زیادہ اہم ہے یا انسان کا پیدا کرنا ! بس جو اس وسیع جہان کو اس کی تمام شگفتگی کے ساتھ خلق کرنے پر قادر ہے وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔  اولم یروا ان الله الذی خلق السمو ٰ ت والارض ولم یعی بخلقهن بقادر علی ٰ ان یحی الموتی ٰ بلی ٰ انه علی ٰ کل شی ٴ قدیر   یعنی کیا وہ نہیں جانتے کہ الله نے زمین وآسمان کو پیدا کیا اور وہ ان کو خلق کرنے سے عاجز نہیں تھا، بس وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادرہے بلکہ وہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔



1 2 3 next