قرآن اور ديگر آسمانی کتابيں:



آسمانیکتابوں کے نزول کا فلسفہ:

ہمارا عقیدہ ہے کہ الله نے عالم انسانیت کی ہدایت کے لئے بہت سی آسمانی کتابیں بھیجیں جیسے صحف ابراہیم ،صحف نوح،توریت،انجیل اور ان میں سب سے جامع قرآن کریم ہے ۔اگر یہ کتابیں ناز ل نہ ہوتیں تو انسان الله کی معرفت اور عبادت میں بہت سے غلطیوں کا شکار ہو جاتا اور اصول تقویٰ ،اخلاق وتربیت اور سماجی قانون جیسی چیزوں سے دور ہی رہتا ۔

یہ آسمانی کتابیں دل کی سرزمین پر باران رحمت کی طرح برسیں اور دل میں پڑے ہوئے الله کی معرفت ،تقویٰ،اخلاق و علم وحکمت کے بیج کو نمو عطا کیا <آمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون کل آمن بالله وملائکتہ وکتبہ ورسلہ یعنی پیغمبر وںپر جو کچھ الله کی طرف سے نازل ہواوہ اس پر ایمان لائے اور مومنین بھی الله ،اس کے رسول، اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے۔

افسوس ہے کہ زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اور جاہل و نااہل افراد کی دخالت کی بنا پر بہت سی آسمانی کتابیں تحریف کاشکا ر ہوگئیں اوران میں بہت سی غلط فکریںداخل کردی گئیں۔لیکن قرآن کریم اس تحریف سے محفوظ رہتے ہوئے ہر زمانہ میں چمکتے ہوئے آفتاب کی طرح دلوں کو روشن کررتا رہا<قد جائکم من الله نوروکتاب مبین یہدی بہ الله من اتبع رضوانہ سبل السلام> یعنی الله کی طرف سے تمھارے پاس نور اور روشن کتاب آچکی ہے جس کے ذریعہ خدا اپنی خوشنودی کا اتباع کرنے والوں کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے ۔

قرآن کریم پیغمبر اسلام کا سب سے بڑا معجزہ ہے:

ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم پیغمبر اسلام کا سب سے بڑا معجزہ ہے اور یہ فقط فصاحت و بلاغت ،شیریںبیا نی اور معنی کے رسا ہونے کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ دیگرپہلوؤں سے بھی معجزہ ہے ۔ ان تمام پہلوؤں کی شرح عقائدوکلام کی کتابوں میں مفصل طریقہ سے بیان کردی گئی ہے۔

اسی وجہ سے ہمارا عقیدہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی قرآن کا جواب نہیں لاسکتا یہاں تک کہ لوگ اس کے ایک سورہ کے مثل سورہ نہیں لاسکتے۔قرآن کریم نے ان لوگوں کو جو اس کے کلام خدا ہونے کے بارے میں شک و تردد میں مبتلاتھے کئی مرتبہ اپنے مقابلہ کی دعوت دی مگر وہ ا س کے مقابلہ کی ہمت نہ کرسکے<قل لئن اجتمعت الانس والجن علیٰ یاٴتوا بمثل ہٰذا القرآن لا یاٴتون بمثلہ ولوکان بعضہم لبعض ظہیراً> یعنی اے رسول کہہ دو کہ اگر جن وانس مل کراس بات پر متفق ہو جائیں کہ قرآن کے مانند کوئی کتاب لے آئیں تو بھی اس کے مثل نہیں لاسکتے ،چاہے وہ اس کام میں ایک دوسرے کی مدد ہی کیوں نہ کریں <وان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فاٴتوا بسورة من مثلہ وادعوا شہدائکم من دون الله ان کنتم صادقین> یعنی اگر تمھیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جس کو ہم نے اپنے بندے (رسول)پر نازل کیا ہے تو اس کے جیسا ایک ہی سورہ لے آؤ اور الله کے علاوہ تمھارے جتنے بھی مددگار ہیں سب کو بلا لو اگر تم سچے ہو۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جارہا ہے ویسے ویسے قرآن کے اعجاز کے نکات پرانے ہونے کے بجائے اور زیادہ روشن ہوتے جارہے ہیں اور قران کی عظمت تمام دنیا کے سامنے روشن و آشکار ہورہی ہے۔

امام صادق علیہ السلام نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ ” ان الله تبارک وتعالیٰ لم یجعلہ لزمان دون زمان ولناس دون ناس فہو فی کل زمان جدید وعند کل قوم غض الیٰ یوم القیامة“ یعنی الله نے قرآن کریم کو کسی خاص زمانہ یا کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں کیا ہے اسی وجہ سے یہ ہرزمانہ میں نیا اور قیامت تک ہر قوم کے لئے تزوتازہ رہے گا۔

قرآن میں تحریف نہیں ہوئی :

ہمارا عقیدہ ہے کہ آج جو قرآن کریم امت مسلمہ کے ہاتھوں میں  ہے یہ وہی قرآن ہے جو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہواتھا ،نہ اس میں سے کچھ کم ہوا ہے اور نہ ہی اس میںکچھ اضافہ کیاگیا ہے۔

پہلے دن سے ہی کاتبان وحی کے ایک بڑے گروہ کا آیتوں کے نزول کے بعد ان کو لکھناا اور مسلمانوں کا ذمہ داری کے ساتھ رات دن ان کی تکرار کرنا اور اپنی پنجگانہ نمازوں میں ان کی تلاوت کرنا،اصحاب کے ایک بڑے گروہ کا آیات قرآن کو حفظ کرنا ،یہ سب باتیں اس بات کا سبب بنیں کہ قرآن کریم میں کوئی معمولی سی بھی تحریف واقع نہ ہوسکی ، الحمد للهحافظان وقاریان قرآن کا اسلامی سماج میں ہمیشہ سے ہی ایک اہم مقام رہا ہے اور آج بھی ہے ۔

اس کے علاوہ الله نے اس کی حفاظت کی خود ضمانت لی ہے۔ لہٰذا الله کی ضمانت کے بعد اس میں تحریف نہ ممکن ہے <انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون> یعنی ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔



1 2 3 4 next