خدا پر ایمان لانے کا راستہ :



 

 

 

 

 

 

خدا پر ایمان لانے کی راھیں متعدد ھیں :

اھل اللہ کے لئے اس کی دلیل ومعرفت کا ذریعہ خود اس کی ذات ھے <اٴَوَ لَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اٴَنَّہ عَلیٰ کُلِّ شَیْء ٍشَھِیْد>[1]((یا من دل علی ذاتہ بذاتہ))[2] ،((بک عرفتک واٴنت دللتنی علیک)) [3]

اوراھل اللہ کے علاوہ بقیہ افراد کے لئے چند راہوں کی طرف مختصر طور پر اشارہ کرتے ھیں :

الف):انسان جب بھی خود اپنے یا اپنے حیطہٴِ ادراک میں موجود، موجودات کے کسی بھی جزء کے متعلق غور کرے تو اس نتیجے پر پھنچے گا کہ اس جزء کا نہ هونا محال نھیں ھے اور اس کا هونا یا نہ هونا ممکن ھے۔اس کی ذات عدم کی متقاضی ھے اور نہ ھی وجود کی۔اور مذکورہ صفت کی حامل ھر ذات کوموجود هونے کے لئے ایک سبب کی ضرورت ھے، اسی طرح جس طرح ترازو کے دو مساوی پلڑوں میں سے کسی ایک پلڑے کی دوسرے پر ترجیح بغیرکسی بیرونی عامل وسبب کے ناممکن ھے، اس فرق کے ساتھ کہ ممکن الوجود اپنے سبب کے ذریعے موجود ھے اور سبب نہ هونے کی صورت میں عدم کا شکار ھے اور چونکہ اجزاء عالم میں سے ھر جزء کا وجود اپنے سبب کا محتاج ھے، لہٰذااس نے یا تو خود اپنے آپ کو وجود عطا کیا ھے یا موجودات میں سے اسی جیسے موجود نے اسے وجود بخشا ھے۔ لیکن جب اس کا اپنا وجود ھی  نہ تھا تو خود کو کیسے وجود عطا کرسکتا ھے او راس جیساممکن الوجود جس چیز پر خود قادر نھیں غیر کو کیا دے گا۔اور یہ حکم وقاعدہ جوکائنات کے ھر جزء میں جاری ھے، کل کائنات پر بھی جاری وساری ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 next