ام سلمٰی کے جواب ميں



یٰا اُمّٰاہُ وَ اَنَا اَعْلَمُ اِنّی مَقْتُوْلٌ مَذْبُوحٌ ظُلْمًا وَ عُدْوٰانًا وَ قَدْ شٰاءَ عَزَّوَجَلَّ اَنْ یَرٰی حَرَمی وَ رَھْطی مُشَرَّدینَ وَ اَطْفٰالی مَذْبُوحینَ مَأْسُورینَ مُقَیَّدینَ وَھُمْ یَسْتَغیثُونَ فَلاٰ یَجِدُونَ نٰاصِرًا۔۔

 ترجمہ و توضیح 

راوندی، بحرانی اور دیگر محدثین نقل کرتے ہیں کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہٴ محترمہ ”ام سلمیٰ“ حضرت امام حسین کے ارادے سے آگاہ ہوئیں تو فوراً امام کے پاس پہنچیں اور فرمانے لگیں: ﴿لا تَحْزَنی بِخُرُوْجِکَ اِلَی الْعِرٰاقِ۔۔۔﴾ (اے فرزند رسول! عراق کی طرف سفر اختیار فرما کر مجھے غمگین نہ کریں اس لئے کہ میں نے آپ کے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ”میرا فرزند حسین عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید کر دیا جائے گا۔“

 امام حسین نے حضرت ام سلمیٰ کے جواب میں فرمایا: ﴿یٰا اُمّٰاہُ وَ اَنَا اَعْلَمُ اِنّی مَقْتُوْلٌ مَذْبُوحٌ ظُلْمًا ۔۔۔۔۔﴾ ”(اے مادر گرامی! یہ خیال نہ کریں کہ فقط آپ ہی اس موضوع سے باخبر ہیں کہ) میں آپ سے بہتر جانتا ہوں کہ ظلم و ستم اور عداوت و کینہ توزی کی انتہائی حدود پر میں شہید کر دیا جاؤں گا اور میرا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔ خدا کی یہی منشاء ہے کہ میرے فرزند شہید کر دیئے جائیں اور میرے اہل بیت اور میرے اہل حرم اسیر بنا لیے جائیں اور انہیں زنجیروں میں جکڑ دیا جائے۔ ان کے استغاثوں کی صدائیں بلند ہوں لیکن کوئی ان کی مدد کرنے والا اور فریاد رس نہ ہو۔

عمر اطرف کے جواب میں

حَدَّثَنی اَبی اَنَّ رَسُولَ اللهِ (ص) اَخْبَرَہُ بِقَتْلِہِ وَ قَتْلی وَ اَنَّ تُرْبَتَہُ تَکُونُ بِالْقُرْبِ مِنْ تُرْبَتی اَتَظُنُّ اَنَّکَ عَلِمْتَ مٰا لَمْ اَعْلَمْہُ؟ وَ اللّٰہِ لاٰ اَعْطی الدَّنِیَّةَ مِنْ نَفْسی اَبَدًا وَ لَتَلْقِیَنْ فٰاطِمَةُ اَبٰاھٰا شٰاکِیَةً مٰا لَقِیَتْ ذُرِّیَّتُھٰا مِنْ اُمَّتِہِ وَلاٰ یَدْخُلِ الْجَنَّةَ اَحَدٌ اَذٰاھٰا فی ذُرِّیَّتَھٰا۔ (لھوف، ص ۲۳)

 توضیح و ترجمہ

بیعت ِیزید کے سلسلے میں امام کی مخالفت اور حکومت ِ یزید کے خلاف جدوجہد کے مصمم ارادے کا علم جب مدینہ کے کچھ مشہور و معروف افراد (خصوصاً امام کے اپنے خاندان اور قوم و قبیلہ کے افراد) کو ہوا تو ان میں سے جو لوگ امامت و رہبری کے الٰہی منصب کی ذمہ داریوں سے آگاہ نہ تھے بلکہ صرف وجود امام کی حفاظت کے لئے فکرمند تھے، امام کے پاس پہنچے اور مشورہ دیا کہ یزید سے صلح کرلی جائے۔ ان افراد میں امیر المؤمنینں کے ایک فرزند بھی شامل تھے جن کا نام اطرف تھا اور عمر اطرف کے نام سے معروف تھے، عرض کی: ”اے برادر گرامی! بھائی حسن مجتبیٰ نے والد گرامی امیر المؤمنینں سے نقل کیا ہے کہ یہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے اور میرے خیال میں یزید بن معاویہ سے آپ کی مخالفت بالآخر آپ کی شہادت کا باعث بنے گی۔ اگر آپ یزید کی بیعت کر لیں تو یہ خطرہ برطرف ہو جائے گا اور آپ قتل ہونے سے بچ جائیں گے۔

“ امام نے جواب میں فرمایا: ﴿حَدَّثَنی اَبی﴾ ”میرے باپ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے سے اپنے قتل ہونے اور اسی طرح میرے قتل ہونے کی خبر مجھ سے بھی بیان فرمائی تھی اور ساتھ ساتھ یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ میری قبر ان کی قبر کے قریب ہوگی کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ مجھے اس کی خبر نہیں؟؟!!

 خدا کی قسم! میں ہرگز ذلت قبول نہیں کروں گا میری مادر بزرگوار فاطمہ زہرا سلام الله علیہا قیامت کے دن اپنے والد گرامی سے شکایت کریں گی کہ ان کے فرزندوں کو امت نے اذیتیں پہنچائیں تو جو شخص فرزندان فاطمہ زہرا کو اذیت دے کر جناب زہرا کی زنجش اور اذیت کا سبب بنے گا وہ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ نتیجہ: امام نے اس گفتگو میں اپنے بھائی کے جواب میں نہ صرف اپنے شہید ہونے کی خبر دی بلکہ اس موضوع کی بعض جزئیات کی طرف بھی اشارہ فرمایا جو انہوں نے اپنے پدر بزرگوار علی ابن ابی طالب اور جد بزرگوار پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھیں اور ان جزئیات میں سے ایک حضرت امیرں کی یہ بشارت بھی تھی کہ ہماری قبریں قریب قریب ہوں گی جیساکہ حضرت امیر الموٴمنین حضرت علیں کی قبر نجف اشرف میں اور حضرت امام حسینں کی قبر کربلا میں ہے۔