مکه ميں وارد بوتے وقت



وَلَمّٰا تَوَجَّہَ تِلْقٰاءَ مَدْیَنَ قٰالَ عَسٰی رَبِّی اَنْ یَھْدِیَنی سَوٰاءَ السَّبیلِ۔

 ترجمہ و توضیح

مدینہ سے مکہ تک پانچ دن کا سفر طے کرنے کے بعد بروز جمعہ ۳ شعبان کو امام مکہ معظمہ پہنچے۔ مکہ میں وارد ہوتے وقت آپ یہ آیة شریفہ تلاوت فرما رہے تھے: ﴿وَلَمّٰا تَوَجَّہَ تِلْقٰاءَ مَدْیَنَ ۔۔۔﴾

ترجمہ: ”موسیٰ جب فرعون کی بڑی طاغوتی ریاست کو چھوڑ کر مدین کی طرف آئے تو یہ فرما رہے تھے کہ ”میں امید کرتا ہوں میرا پروردگار میری راہنمائی کرتے ہوئے خیر و بھلائی کی طرف مجھے ہدایت فرمائے گا“۔۱

مدینہ سے نکلتے وقت

فَخَرَجَ مِنْھٰا خَائِفاً یَتَرَقَّبُ قٰالَ رَبِّ نَجِّنی مِنَ الْقَوْمِ الظّٰالِمینَ۔۱

ترجمہ

”موسیٰ خوف و ہراس کی حالت میں مصر سے نکلتے وقت کہہ رہے تھے خدایا! مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات بخش“۔ لاٰ وَ اللّٰہِ لاٰ اُفٰارِقُہُ حَتّٰی یَقْضِیَ اللّٰہُ مٰا ھُوَ قٰاضٍ۔ ۲ ”خدا کی قسم میں ہرگز اپنے مشن کو ترک نہیں کروں گا۔ حتیٰ کہ خداوند عالم نے جو فیصلہ میرے حق میں کیا ہے وہ پورا نہیں ہو جاتا“۔

 توضیح

امام حسینں نے تو اعلانیہ طور پر ولدی سے ملاقات کے وقت اپنا موٴقف بیان فرما دیا تھا لیکن عبد الله بن زبیر ولید کے دربار میں حاضر نہ ہوا بلکہ اسی رات مخفی طور پر مدینہ ے نکلا اور غیر معروف راستوں سے مکہ پہنچ گیا۔ امام حسینں اتوار کے دن (ماہِ رجب کے آخری دو روز باقی تھے کہ) اپنے فرزندوں، خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ شہر مدینہ چھوڑ رہے تھے تویہ آیہٴ شریفہ آپ کی زبان مبارک پر تھی: ﴿فَخَرَجَ مِنْھٰا خَائِفاً یَتَرَقَّبُ۔۔۔﴾

”موسیٰ مصر سے خوف و ہراس کی حالت میں خارج ہوئے اور یہ فرما رہے تھے کہ پروردگار مجھے ان ظال اور ستمگر لوگوں سے نجات عطا فرما“۔ حسین ابن علیں نے اپنے اس جہاد میں مکہ جانے کے لئے عبد الله بن زبیر کے برعکس عمومی راستہ اختیار کیا جو مکہ کی طرف جانے کے لئے تمام مسافر اور کاروان استعمال کرتے تھے۔ امام کے ساتھیوں میں سے ایک نے آپ کو مشورہ بھی دیا کہ بہتر ہے آپ بھی عبد الله ابن زبیر کی طرح کوئی دوسرا صحرائی یا کوہستانی راستہ اختیار کریں تاکہ اگر آپ کے تعاقب میں بھیجے گئے کسی گروہ سے آپ کا آمنا سامنا ہو تو وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ امام نے اس تجویز کے جواب میں فرمایا: ﴿لاٰ وَ اللّٰہِ لاٰ اُفٰارِقُہُ ۔۔۔﴾ ”خدا کی قسم میں یہ عمومی راستہ ہرگز نہ چھوڑوں گا۔ یہاں تک کہ اس مرحلہ تک پہنچوں جو خدا چاہتا ہے“۔

نتیجہ

امام کے اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ مدینے سے خوف و ہراس یا فرار کی صورت میں نہیں نکل رہے تھے بلکہ اگر آپ چاہتے تو اپنے ساتھی کی تجویز کے مطابق عبد الله ابن زبیر کی طرح کوئی کوہستانی راستہ اختیار کر سکتے تھے۔ لیکن آپ نے وہ عمومی راستہ اختیار کیا جو سب لوگوں کی نظر کے سامنے تھا۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ بنی امیہ کے کافرانہ کردار کے مقابلے میں جہاد جیسے مقدس ترین ہدف کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے اور آزادی اور کمال کی راہ طے کرنے کے لئے عمومی راستہ ہی اختیار کیا جائے ﴿حَتّٰی یَقْضِیَ اللّٰہُ مٰا ھُوَ قٰاضٍ﴾۔

یہ دو آیات کیوں؟

امام حسین نے مدینہ سے روانگی اور مکہ میں داخل ہوتے وقت پورے قرآن کریم سے ان دو آیات ہی کو منتخب کیوں فرمایا؟ ان دو مربوط اور متصل آیتوں کی تلاوت سے امام اس نکتے کی طرف متوجہ فرمانا چاہتے تھے کہ حضرت موسیٰں نے اپنا آبائی وطن ترک کیا اور ایک اجنبی شہر کی طرف ہجرت کی اور اس میں پناہ لی۔

 موسیٰ کی یہ ہجرت بے سبب نہ تھی اور میں مدینے سے ایسے عظیم ہدف کے حصول کی خاطر نکل رہا ہوں کہ خدا کے بزرگ ترین افراد جس کے حصول کے درپے رہتے ہیں۔ اسی طرح مکہ میں وارد ہونے کا سبب بھی اسی عظیم الشان مقصد کے حصول کی خاطر ہے جو خدا کی خصوصی ہدایت اور نظر عنایت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ ﴿عَسٰی رَبِّی اَنْ یَھْدِیَنی سَوٰاءَ السَّبیلِ﴾



1 next