هدايت وگمراهی کا مسئله



 ”ہدایت وگمراھی“کا مسئلہ بهت اهم ھے جیسا کہ قرآن مجید میں بہت سی آیات ذکر هوئی ھیں جن میں سے ایک اشارہ ملتا ھے کہ خداوندعالم ھی انسان کو ہدایت یا گمراھی دیتا ھے اور اس میں انسان کو کوئی اختیار بھی نھیں ھے، ارشاد هوتا ھے:

<فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَاءُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَاءُ>[1]

”تو یھی خدا جسے چاہتا ھے گمراھی میں چھوڑدیتا ھے اور جس کو چاہتا ھے ہدایت کرتا ھے“

<وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہُ مِنْ ہَادٍ>[2]

”اور جس کو خدا گمراھی میں چھوڑدے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نھیں“

قارئین کرام !    یھاں پر یہ سوال پیدا هوتا ھے کہ اگر ہدایت وگمراھی خدا کی طرف سے

ھے تو پھر گمراهوں کو ان کی گمراھی کی بناپر کیوں عذاب دے گا؟!!  اور مومنین کو ان کی ہدایت پر ثواب کیوں دے گا؟!!  جبکہ دونوں خداوندعالم کے افعال اور اس کے ارادہ سے ھیں۔

اس اعتراض کے جواب سے پھلے ھم ہدایت وگمراھی کے معنی بیان کرنا ضروری سمجھتے ھیں کہ لغت کی کتابوں اور قرآن مجید کے استعمالات میں ان دونوں کے کیا معنی ھیں تاکہ واضح طور پر ان دونوں کے مفهوم کو سمجھ سکیں۔

لغت میں ہدایت کے معنی:

”الدلالة علی الطریق الرشد“[3]

(ترقی کے راستہ پر دلالت کرنا)

لسان العرب میں ہدایت کے اس طرح معنی کئے ھیں:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 next