اسوه حسينی



بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد اللہ رب العلمین والصلوةَ علی سیدالمرسلین والہ الطاہرین من یومنا ھٰذا یوم الدین .

تمھید

انسان کو کمال انسانی کی منزل تک پہنچانے کے لئے رب العالمین کی طرف سے جو سلسلہ انبیاء و مرسلین کا قائم ہوا تھا، اس کی انتہا حضرت خاتم النبیین و افضل المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر ہوئی۔ اور آپ نے تعلیمات الٰہی کا ایک خزانہ قرآن مجید کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ مگر کتاب علم کا سرمایہ بن سکتی ہے۔ عمل کے لئے تربیت درکار ہے۔ اس لئے پیغمبر کے ذمہ تلاوتِ کتاب کے ساتھ تزکیہٴ نفوس اور تعلیم کتاب و حکمت کا فریضہ بھی عائد کیا گیا اور آپ کے سیرت و کردار کو خلقِ خدا کے لئے نمونہ بنایا گیا ۔ جس کے لئے قرآن میں یہ آیت آئی کہ:  قُل اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ

(اے رسول) "ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا"۔

اس طرح اسوہٴ رسول تمام مسلمانوں کے نمونہٴ عمل ہوا۔ مگر رسالت مآب کی بشری زندگی محدود تھی۔ آپ کی وفات کے بعد بھی ضرورت تھی کہ اس کتاب ہدایت قرآنِ مجید کے ساتھ ایسے افراد رہیں جو اخلاق و کمالات میں رسولکے جانشین اور آپ کی طرح دنیا میں نمونہٴ عمل بننے کے قابل ہوں، جن کی عملی سیرت کا اتباع بعد سیرتِ رسول نجات و فلاح کا ذمہ دار ہو اور اس طرح وہ قرآن کے ساتھ اور قرآن ان کے ساتھ ہو۔ ان کے اتباع سے قرآن کا حقیقی اتباع اور قرآن پر عمل کرنے سے ان کے دامن سے تمسک ہوتا ہو۔ یعنی کسی طرح ایک دوسرے سے جدا نہ ہو سکے۔ اسی کے بتانے کے لئے رسول نے اپنی وہ مشہور حدیث ارشاد فرمائی کہ :انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰہ وعترتی اھل بیتی ما ان تمسکتم بھمالن تضلوا بعدی انھما لن یفترتا حتٰی یردا علی الحوض۔

بے شک یہ وہ افراد تھے جن کو رسالت مآب نے اپنے بعد کے لئے دنیا میں نمونہٴ عمل قرار دیا تھا۔ اور یہ منظور تھا کہ دنیا اپنی عملی زندگی میں ان کی پیشوائی کو قبول کرکے ان کے نقشِ قدم پر گامزن ہو اور اس طرح کامیابی کے حقیقی نقطہٴ ارتقاء پر فائز ہو۔

مگر فرض کے طور پر کسی پابندی کا عائد ہونا او رکسی کے اتباع و اطاعت کا اپنے اوپر لازم و واجب سمجھنا ایک ایسی چیز ہے جو انسانی طبیعت پرگراں گزرتی ہے۔

اس صورت میں اطاعت کا مقصد حاصل تو ہو جاتا ہے مگر ناخوشگواری و گرانی کی بناء پر انسانی طبیعت کو اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی فکر ضرور رہتی ہے۔ اور اس لئے کمزور طبائع کے لوگ خواہش کے مقابلہ میں فرض شناسی کو چھوڑ کے معصیت کے مرتکب بھی ہوجاتے ہیں۔

لیکن اگر یہی فرض کی پابندی کسی طبعی نظام کے تحت میں آ کر انسانی خواہش کے مطابق بن جائے اور انسان کی فطرت کے اعتبار سے اس کے مناسبِ طبع و مذاق ہو جائے تو پھر وہ فرض ایک خوشگوار ذاتی خواہش کے لباس میں آ کر انسان کے لئے بارِطبع باقی نہیں رہتا اور انسان خوشی خوشی بشاش چہرہ و بشرہ کے ساتھ بجا لانے میں لذت محسوس کرتا ہے۔

خدا اور رسول انسانی افتادِ طبع اور اس کے خصوصیات سے پورے طور پر باخبر تھے۔ انہیں رسول کے بعد کچھ افراد کو نمونہٴ عمل بنانا تھا اور ان کے اتباع و اطاعت کو فرض قرار دینا تھا لہٰذا ایسے اسباب قرار دینا تھے جو ایک انسان کی طرف لوگوں کے جذبِ قلب کا باعث اور اس کے افعال و اقوال کو مرکزِ توجہ بنا کر ان کے اتباع و اقتداء کی طرف متوجہ کرنے والے ہوں۔

چنانچہ وہ تمام وجوہ و اسباب جن سے ایک انسان کی پیروی اور متابعت کی طرف دلوں کو توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اہل بیت رسول کے لئے مجتمع کر دیئے گئے۔

پہلا سبب ایک انسان کی طرف جذب کا ہوتا ہے:



1 2 3 next