عالم اسلام کے لئے وھابیت کے بدترین تحفے



 

وھابیت کا مسلمانوں کے خلاف کفر کا فتویٰ

وھابیوں کے اھم اور دلنشین ( اپنی دانست میں ) نظریوں میں سے ایک نظریہ مسلمانوں کو کافر اورمشرک سمجھنا ھے ، اس نظریہ نے عالم اسلام اور تمام مسلمانوں میںبہت ھی برے اور ناگوار اثرات ڈالے ھیںجن کے نتائج بے انتھا ناگوار ثابت ھوئے ، مذکورہ نظریہ کو اسلام دشمن طاقتیں ایک خطرناک اور نھایت مھلک حربے کے طور پر استعمال کررھی ھیں ، وھابی خود کو موحد اور مسلمان تصور کرتے ھیں جبکہ تمام دوسرے مسلمانوں کو کافر اور مشرک سمجھتے ھیں یہ لوگ تعصب کی بنا پر اپنی گمراھی، کج فکری اور بدعتوںکو بھی دینداری سمجھ کر تمام مسلمانوں پر کفر وگمراھی کے فتوے لگاتے ھیں، اور اس طرح وھابیوں نے امّت اسلامیہ کے پیکر پر ضربیں لگائی ھیں ، چنانچہ یہ فتوے اتحادبین المسلمین کی راہ میں مانع اورایک محکم دیوار ثابت ھوئے ھیں، اسی بناپر مسلمان، اسلام دشمن طاقتوں کے سامنے متحد نہ ھوسکے ۔

اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے کہ وھابیوں کی فکر اور طریقہ کا رکی کوئی بنیاد نھیں ھوتی  اور نہ ھی ان کے فتوےٰ قرآن و سنت کے مطابق ھوتے ھیں،بلکہ یہ بایتں قطعاً قرآن و سنّت کے خلاف ھونے کے ساتھ ساتھ خطرناک اور تباہ کن بھی ھیں ،اس موضوع سے متعلق پھلے ایک مختصر سی بحث کرتے ھیں اور پھر سنی و شیعہ علماء کے فتووں کو پیش کریں گے ، او رآخر میں اس منحرف اور گندی فکر کے خطرناک ، مضّر اور دکھ دہ نتائج کا جائزہ لیں گے ۔

وھابی حضرات قرآنی توحید کے بارے میں ایک غلط نتیجہ گیری نیز مسائل اعتقادی کے متعلق غلط طرز تفکر کی بناپر تمام مسلمانوںکوجو انھیں کی طرح اسلام کا دم بھرتے ھیں ،کافر و مشرک سمجھتے ھیں اور ان کو مکہ مدینہ اور مسلمانوں کے دوسرے مقد س مقامات پر طعن و تشنیع کا نشانہ اور طرح طرح سے اذیت و آزار پھنچاتے ھیںاور ظلم وتجاوز سے باز نھیں آتے ، ان کا یہ کام سوفیصد خدا و رسول(ص)کی مرضی کے خلاف ھے ،ان کا مقصد مسلمانوں سے دشمنی ھے چونکہ وہ مسلمانوں کو اپنے سے الگ شمار کرتے میں اس لئے کہ وہ باتیں جنکی نسبت وہ اپنے علاوہ دوسروں کی جانب دیتے ھیں اور ان پر ظلم و تشدّد کو جائز سمجھتے ھیں نہ تو اس کی کوئی دلیل قرآن میں موجود ھے اور نہ ھی نبی اکرم(ص)  کی سنّت میں اسکا کوئی جواز ھے، انکا یہ عمل در حقیقت قرآن و سنت کے سراسر خلاف ھے۔

تعجب اس بات پر ھوتا ھے کہ ان تمام چیزوں کے با وجود ، وہ اپنے آپ کو اھل سنّت سمجھتے ھیں ،جبکہ واقعی اھل سنّت وہ حضرات ھیں جو گفتار و کردار میں سنّت پیغمبر(ص) اور رسول(ص)کے بتائے ھوئے راستے پر عمل پیراھوں، حالانکہ مسلمان علماء اعلام اور اسلامی پیشواؤں کی سیرت سے قطع نظر فقط سنّت اور و ہ شریعت محمدی(ص) جو تمام مسلمانوںکے لئے عمومی حیثیت رکھتی ھے، وھابیوں کے اس طرز تفکر کے خلاف ھے اور ان کے اعمال اور افکار کو مردود اور قابل مذمت بھی شمار کرتی ھے ۔   

ابن تیمیہ ” منھاج السنة “ کی تیسری جلد کے ۱۹ویں صفحہ پر ان اشکالوں کو جواب دیتے ھوئے جو اس پر اس کے ھم مذھب اھل سنّت حضرات نے کئے ھیں لکھتا ھے ،( مذکورہ امور میں سے بہت سے امور کو گناہ کی فھرست سے خارج کرنے پر عذر شرعی ھے ، اور یہ ان اجتھادی مسائل میں سے ھیں جن میں اگر مجتھد واقعی حکم تک دست رسی پیدا کرے تو دو اجر وثواب ھے اور اگر واقعی حکم کو بیان کرنے میںخطا کرے تو ایک اجر ھے، اکثر وہ باتیں جو خلفاء راشدین سے منقول ھیں،  وہ اسی باب سے تعلق رکھتی ھیں )

ابن تیمیہ نے اپنی اس گفتار میں اس حدیث پر نظر رکھی ھے کہ جس حدیث کو بخاری نے اپنی کتاب ” صحیح بخاری “ میں عمر و بن عاص سے روایت کی ھے عمربن عاص کہتا ھے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا : ”جب کوئی حاکم شرعی کسی مسئلہ میں اجتھادکرے اور اسکے مطابق حکم صادر کرے اگر بیان   شدہ حکم، واقعی حکم کے مطابق ھو، تومجتھد کے لئے دو اجر و ثواب ھےں اور اگر مجتھد نے اجتھاد میں خطا کی ھے تو ایک اجر ملے گا “

اور پھر ابن تیمیہ ، اس کتاب کے بیسویں صفحہ پر لکھتا ھے کہ گذشتہ علماء، مفتی ، مراجع جیسے ابوحنیفہ ، شافعی ، ثوری ، داود بن علی اور دیگر مجتھدوںنے بیان کیا ھے کہ وہ مجتھد جو حکم شرعی کو بیان کرنے میں غلطی کرتے ھیں گناھگار نھیں ھیں غلطی اصول میں سے ھوںیا فرعی مسائل میں سے، جیسا کہ ا بن حزم نے مذکورہ بالا علماء  اور دوسروں سے نقل کیا ھے ۔

اسی وجہ سے ابوحنیفہ ، شافعی ،اور دوسرے علماء ( فرقہ حطابیہ کے علاوہ ) نفس پرست افراد کی گواھی قبول کرلیتے تھے ، ان کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح سمجھتے تھے حالانکہ کافر کی گواھی مسلمانوںکے یھاں قبول نھیں ھے اوراسی طرح کافرکی اقتداء بھی صحیح نھیں ھے ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 next