قیامت کی ضرورت



جو شخص موضوع قیامت پر گفتگو کرنا چاھے ،تو اس کے لئے ضروری ھے کہ سب سے پھلے مر حلے میں ”قیامت“ کو غیر تفصیلی طور سے ثابت کرے تاکہ اس کی ضرورت اور اس کے یقینی هونے پرعقیدہ رکھے ،نیز اس ضرورت اور یقینی هونے کے اسباب کو تلاش کرے اور اس کی ضرورت پر دینی دلائل قائم کرے۔

اور جب اس ضرورت(معاد) کو انسان دلیل و برھان سے ثابت کر لیتاھے تو ایک دوسری بحث کا آغاز هوتا ھے: کہ اس معاد کی جزئیات کیا کیا ھیں، کیونکہ ضرورت معاد وہ بنیادی مسئلہ ھے کہ جس کے بغیر جزئیات معاد کے بارے میں بحث کرنا فضول ھے۔

کیونکہ انسان کسی ٹھوس نتیجہ تک نھیں پهونچ سکتا مگر یہ کہ تدریجی طور پر اس طرح کہ بعد والا مرحلہ پھلے والے مرحلے سے مر تبط هو اور ان کے درمیان ایک مستحکم رابطہ هو جس کے ذریعہ حقائق سے پردہ اٹھ جائے اور حقیقت واضح هوجائے :

۱۔کیا خدا وند عالم امر و نھی کرتا ھے؟

  ھمارے لحاظ سے ھر عقل مند انسان اس بات کو سمجھتا ھے کہ خدا وند عالم نے امر و نھی کیا ھے ،کیونکہ انھیں اوامر نواھی کے عظیم مجموعہ کو شریعت اسلام کھا جاتاھے ،

اور اگر ھم قرآن مجید پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو اس بات کی دلیل آسانی سے مل سکتی ھے: جیسا کہ ارشاد خدا وند عالم هوتا  ھے:

<اَقِیْمُوْالصَّلوٰةَ وَاٴَتُوا  الزَّکٰاةَ>[1]

”پا بندی سے نماز اداکرو اور زکوةدیا کرو“

<کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامَ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ >[2]

”روزہ رکھنا جس طرح تم سے پھلے لوگوں پر فرض تھا اسی طرح تم پر بھی فرض کیا گیا ۔“

<وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ> [3]



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 next