دین فهمی



ثانیاً: نہ جانے کتنے ایسے ڈر پوک اور بزدل افراد گزرے ھیں جو خدا پر ذرہ برابر اعتقاد نھیں رکھتے تھے اور آج بھی ایسے افراد دیکھے جا سکتے ھیں۔

ثالثاً: اگر خدا پر یقین و اعتقاد کی بنیاد طبیعی حادثات و واقعات ھیں تب تو موجودہ دور میں خدا پر ایمان باطل ،ختم یا کم از کم قلیل ھو جانا چاھئے کیونکہ آج انسان بھت سے طبیعی حادثات و واقعات پر غلبہ حاصل کرچکا ھے۔ اس کے بر خلاف آج ھم یہ مشاھدہ کرتے ھیں کہ آج بھی خدا پر ایمان اور اس کی پرستش دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر رائج اور موجود ھے۔

نظریہٴ جھالت کی تردید کرنے والے موارد بھی وافر مقدار میں موجود ھیں۔ اس سلسلہ میں صرف اتنا تذکرہ کافی ھے کہ دنیا میں ایسے بھت سے دانشمند پائے گئے ھیں جودل کی گھرائیوں سے خدا پر ایمان و اعتقاد رکھتے تھے مثلاً نیوٹن (ISAAQ NEOTON) ، گیلیلیو (GALILEO)  آئن انسٹائن اور نہ جانے ایسے ھزاروں کتنے افراد اور آج بھی ایسے خدا پر ایمان رکھنے والے افراد کا مشاھدہ کیا جا سکتا ھے ۔

۴)ھمارے اعتبار سے دین کی طرف انسان کی رغبت کی وجوھا ت دو ھیں:

پھلی یہ کہ تاریخ کے شروعاتی دور ھی سے بشر یہ سمجھتا آیا ھے کہ ھر شئے ایک علت چاھتی ھے اور ایسی شےٴ جو ممکن الوجود ھو،اس کے لئے محال ھے خود بخود پیدا ھوسکے۔

دوسری وجہ یہ ھے کہ وجود خدا اور اس کی پرستش پر ایک طرح کا پو شیدہ یقین وایمان تمام انسانوں کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں رھتا ھے یعنی جس طرح حقیقت طلبی اور حسن پرستی فطری طور پر ھمیشہ سے تمام انسانوں میں پائی جاتی رھی ھے اسی طرح سے خدا شناسی اور خداپرستی بھی ھمیشہ سے بشریت کا خاصہ رھی ھے اور یھی وہ فطرت الٰھی ھے جو ان کو خدا پر ایمان و یقین کی طرف کھینچتی رھتی ھے۔

دین کی طرف انسان کی رغبت سے متعلق اور بھی بھت سے نظریات بیان ھوئے ھیں لیکن ان سب کی وضاحت اور نقد ظاھرھے ان مباحث کو طولانی کردے گی جو یھاں مناسب نھیں ھے۔

مذکورہ نظریات کی وضاحت اور نقد سے واضح طور پر یہ حقیقت سامنے آجاتی ھے کہ ان نظریات کو پیش کرنے والے افراد شدید تعصبات کی بنیاد پر دین کی مخالفت اور نفی کربیٹھے ھیںنیز یہ کہ محبت یا بغض کی زیادتی بھی اکثر عقل کو اندھا کردیتی ھے۔

علاوہ از یں،ان نظریات کے بانیوںنے پھلے ھی سے یہ فرض کرلیا ھے کہ خدا اور دین پر ایمان و اعتقادکیلئے کوئی عقلی اور منطقی دلیل موجود نھیں ھے لھٰذا اسی وجہ سے اس سلسلے میں لغو دلائل دینے پرمجبور ھوگئے ھیں اور اس رغبت کے وجود میں آنے کی وجہ کچھ خاص نفساتی جذبات اور پھلووں کو قرار دے بیٹھے ھیں۔ مثلاً یھی کہ پھلے زمانے کا انسان طبیعی حادثات کی علت اور وجہ نھیں جانتا تھا لھٰذا انھیں سحرو جادو پر محمول کردیا کرتا تھا لیکن اگر یہ واضح ھوجائے کہ دین کی طرف رغبت کے مناسب عقلی اور منطقی دلائل موجود ھیں تو ان نظریات کی اھمیت خود بخود ختم ھو جائے گی۔

مغربی دنیا میں دین سے فرار کے اسباب



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next