دین فهمی



”میں اپنی جوانی کے دور میں ان مسائل سے متعلق زیادہ غور و خوض نھیں کیا کرتا تھا۔ ایک مدت تک میں نے برھان علت العلل کو قبول بھی کیا تھا۔ یھاں تک کہ میں نے اپنی عمر کے اٹھارھویں سال میں قدم رکھا اور اسی زمانے میں JOHN STUART  کی سوانح حیات کے مطالعے کے دوران یہ جملہ میری نظرسے گزرا: ”میرے باپ نے مجھ سے کہا کہ یہ سوال کہ کس نے مجھے خلق کیا ھے؟ ایک ایسا سوال ھے کہ جس کا کوئی جواب نھیں ھے کیونکہ فوراً ھی  یہ سوال بھی پیدا ھوتا ھے کہ پھر ”خدا کو کس نے خلق کیا ھے؟“۔

اس جملے نے بڑی آسانی سے برھان علت العلل کو میری نظر میں باطل کردیا اور میری نگاہ میں یہ برھا ن ابھی تک بے بنیاد ھے۔ اگر ھر شےٴ علت کی محتاج ھے تو لامحالہ خدا کوبھی ایک علت کا محتاج ھونا چاھئے اوریھیں سے یہ برھان باطل ھوجاتا ھے۔

اگر کوئی شخص فلسفہٴ اسلامی سے ذرہ برابر بھی آشنائی رکھتا ھو تو اس کو پھلے ھی مرحلے میں RUSSELL کے مذکورہ دعوے کی خامیاں نظر آجائیں گی۔ RUSSELL کے اعتبار سے قانون علیت یہ ھے کہ ”ھر موجود ،محتاج علت ھے“۔ جب کہ حقیقی قانون علیت یہ ھےکہ ”ھر ممکن، محتاج علت ھے۔“ لھٰذا اس کائنات کی علت اولیہ ،ازل سے خوبخود اس قاعدے سے باھر ھے۔ مثلاً، جس طرح قاعدہٴ ”ھر فاسق ، جھوٹا ھوتا ھے“ روز اول سے انسان عادل کے دائرے سے باھر ھے۔

پیش نظر مباحث، بعض دوسرے مباحث فلسفی کے محتاج ھیں جن کی یھاں گنجائش نھیں ھے۔

(۴) مفاہیم اجتماعی کی نارسائی

مغرب میں یہ نظریہ رواج پا چکا ھے کہ معاشرے پر دینی حکومت کا نتیجہ پوری طرح آزادی کا خاتمہ، ڈکٹیٹر شپ اور ایسے لوگوں کی جبر آمیز حکومت ھے جو خدا کی طرف سے خود کو لوگوں پر حاکم گردانتے ھیں۔ عوام یہ سوچتے تھے کہ اگر خدا کو قبول کرلیا تولازمی طور پر قدرت ھائے مطلقہ کی ڈکٹیٹر شپ کو بھی لامحالہ قبول کرنا پڑے گا اس طرح کہ کوئی بھی شخص آزاد نھیں ھوگا۔ لھٰذا خدا کو قبول کرنا اجتماعی قید و بند کے مترادف ھے۔ پس اگر اجتماعی آزادی کی خواھش ھے تو خدا کا انکار کرنا ھوگا۔ بھرحال اجتماعی آزادی کو ترجیح دی گئی اور خدا کا انکار کردیا گیا۔

اسلام جوکہ زمانہ حاضر میں واحد ایسا دین ھے جو کسی بھی طرح کی تبدیلی و تغیر اور تحریف سے محفوظ ھے  ، نے رھبران دین کیلئے اس نکتہ پر نھاےت تاکید کی ھے کہ اگر وہ عوام پر حق رکھتے ھیں تو عوام بھی ان پر حق رکھتے ھیں۔مثال کے طورپر حضرت علی کے خطبے کا مندرجہ اقتباس قابل غور ھے:

---”پروردگار نے ولی امر ھونے کی بناپرتم پر میرا ایک حق قرار دیا ھے اور تمھارا بھی میرے اوپر ایک طرح کا ایک حق ھے ۔۔۔۔ حق ھمیشہ دو طرفہ ھوتا ھے ۔ یہ کسی کا اس وقت تک ساتھ نھیں دیتا ھے جب تک اس کے ذمے کوئی حق ثابت نہ کردے اور کسی کے خلاف فیصلہ نھیں کرتا ھے جب تک اسے کوئی حق نہ دلوادے ۔ اگر کوئی ھستی ایسی ممکن ھے جس کا دوسروں پر حق ھو اور اس پر کسی کا حق نہ ہو تو وہ صرف پروردگار کی ھستی ھے کہ وہ ھر شئے پر قادر ھے اور اس کے تمام فیصلے عد ل وانصاف پر مبنی ھوتے ھیں ۔ “(۹)

(۵) مسائل الٰہیات سے متعلق سرسری اظہار نظر

اسقدر خدا شناسی بالکل سادہ اور فطری ھے جتنی کہ عوام الناس کا وظیفہ اور ذمہ داری ھے کہ سمجھیں اور اس پر ایمان لائیں لیکن مسائل فلسفی کے ادق اور عمیق مباحث نھایت پیچیدہ اور گنجلک ھیں اور اس قدر پیچیدہ اور گنجلک ھیں کہ ھر شخص اس وادی میں داخل بھی نھیں ھوسکتا۔ مباحث صفات و اسمائے الٰھی ، قضاو قدر الٰھی، جبرو اختیار وغیرہ اسی طرح کے دشوارترین مسائل ھیں اور بقول حضرت علی علیہ السلام ”دریائے عمیق“ ھیں لیکن نھایت افسوس ناک بات ھے کہ مغرب میں بھی اور مشرق میں بھی ھر کس و ناکس اپنے اندر اتنی جراٴت پیدا کرلیتا ھے کہ ان دشوارترین مباحث پر اپنے نظریات پیش کردے جس کا نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ یہ مذکورہ مسائل و مباحث غلط اور غیر صحیح طور پر عوام تک منتقل ھوجاتے ھیں اور عوام حقانیت دین سے متعلق تردد و شک کا شکار ھوجاتے ھیں۔



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next