دین فهمی



 شھید مرتضیٰ مطھری اس سلسلے میں ایک داستان نقل فرماتے ھیں:

خدا نے اونٹ کو پرکیوں نھیں دئے جب کہ کبوتر کو دئیے ھیں؟ اس سوال کے جواب میں ایک شخص نے کہا: اگر کبوتر کی طرح اونٹ کے بھی پرھوتے تو ھماری زندگی تلخ ھو گئی ھوتی۔ اونٹ پر واز کرتا اور ھمارے لکڑی اور مٹی سے بنے مکانوں کو تباہ کردیتا۔ ایک دوسرے شخص سے سوال کیا گیا کہ خدا کے وجود پر کیا دلیل ھے؟ اس نے کہا: تل ھی سے تاڑ بنتا ھے۔ (۱۰)

دلیل کا کمزور ھونا ھرگز دعوے کے باطل ھونے کا سبب نھیں بن سکتا لیکن نفسیاتی طور پر جب بھی کسی دعوے کے لئے کوئی کمزور دلیل پیش کی جاتی ھے توسننے والا دعوے کے صحیح ھونے کے بارے میں ھی تردید کا شکار ھو جاتا ھے بلکہ کبھی کبھی تو ایک قدم آگے بڑھ کر اس کو اس دعوے کے باطل ھونے کا یقین بھی ھوجاتا ھے۔

نادان افراد کی جانب سے عقائد اور دینی تعلیمات کی غلط اور غیر صحیح تفسیر و تشریح بھی بسا اوقات بے دینی کی طرف تمائل کا سبب بن جاتی ھے۔

(۶) دین کو دنیاوی سعادت میں حائل بتا کر پیش کرنا

انسان کچھ ایسے جذبات اور غریزوںکامالک ھے جنھیں حکمت الٰھی نے اسکے اندر ودیعت کیا ھے تاکہ وہ اپنی زندگی کو سروسامان عطا کرسکے اور اس ھدف تک پھونچ سکے جس کے پیش نظر اس کو خلق کیا گیا ھے۔ تمایل جنسی، فرزند طلبی، علم و معرفت سے محبت اور خوبصورتی کی چاھت مذکورہ جذبات و غرائز کی کچھ مثالیں ھیں۔

اگرچہ انسان کو ان جذبات و غرائز کا تابع محض نھیں ھونا چاھئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ناممکن ھے کہ وہ انھیں چھوڑ دے یا مکمل طور پر ان کی مخالفت کربیٹھے۔ لھٰذا بھتر یہ ھے کہ جذبات و غرائز میں اعتدال سے کام لینا چاھئے۔

اب اگر دین اور خدا کے نام پر ان غرائز کی مکمل طور پر نفی اور مخالفت کردی جائے اور مثلاً تجرد و رھبانیت کو مقدس اور شادی کو پست سمجھ لیا جائے نیز دولت و قدرت کوتباھی ، بربادی و بدبختی کی علت اور فقر و کمزوری کو خوش بختی کی علامت تسلیم کرلیا جائے تو فطری طور پر یھی ھوگا کہ انسان دین سے کنارہ کش اور خدا کا منکر ھوجائے گا کیونکہ یہ تمام خواھشات و غرائز انسانی طبیعت میں دخیل ھیں اور انسان ان سے حد درجہ متاثر ھوتا ھے۔ افسوسناک بات یہ ھے کہ جو مرض کبھی مغربی دنیا میں پھیل گیا تھا اور آج تک اس کا اثر باقی ھے اس کو بعض نیم حکیم قسم کے افراد بسا اوقات مسلمانوں کے درمیان بھی رائج کرنا چاھتے ھیں۔

BERTRAND RUSSELL کھتا ھے:

”کلیسا کے تعلیمات، بشر کو دو طرح کی بدبختیوں اور محرومیوں میں قرار دیتے ھیں: یا دنیا کی نعمتوں سے محرومی یاآخرت کی نعمتوں اور لذائز سے کنارہ کشی۔ کلیسا کے مطابق انسان کے لئے ضروری ھے کہ ان دونوں محرومیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے ۔ یا دنیا میں ذلیل و خوار ھو اور اس کے بدلے میں آخرت کی نعمتوں سے لطلف اندوز ھو یا اس کے برعکس اگر دنیا میں عیش و عشرت چاھتا ھے تو آخرت میں پریشانیاں اور سختیاں برداشت کرے۔“(۱۱)



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next