دین فهمی



لیکن کلیسا کا یہ نظریہ بالکل بے بنیاد اور باطل ھے۔ حقیقی دین دنیا و آخرت دونوں کی سعادت کی ذمہ داری کو قبول کرتا ھے اور اگر کوئی شخص دین سے فرار اختیار کرتا ھے توآخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی ذلیل وخوار ھوگا۔

کسی بھی عاقل انسان کے ذھن میں یہ سوال پیدا ھوسکتا ھے کہ کیوں خدا نے بشر کو اس بات پر مجبور کیا ھے کہ وہ دنیا و آخرت میں سے کسی ایک کو قبول کرے؟ کیا خدا بخیل ھے؟!

 حقیقت یہ ھے کہ دینی تکالیف و وظائف کی انجام دھی آخرت کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی کو بھی باعزت اور باسعادت بناتی ھے۔

اس سلسلے میں ھم ایک بار پھر علامہ شھید مرتضیٰ مطھری کی طرف رجوع کرتے ھیں:

”بعض مبلغین کی خلاف حقیقت ،تعلیم اور تبلیغ اس بات کی موجب ھوتی ھے کہ بشر دین سے متنفر ھوجائے اور یہ فرض کرلے کہ خداشناسی محرومیت، ذلت و خواری اور اس دنیا میں مشکلات و پریشانیوں کا لازمہ ھے۔“ (۱۲)

(۷) فساد اخلاقی و عملی

دین کی قبولیت انسانی زندگی میں بعض شرائط و قیود کی موجب ھوتی ھے۔اس وجہ سے ایسے لوگ جو شھو ت پرستی اور ھوا وھوس میں غرق ھوتے ھیں، دین کو اپنی آزادی میں مخل گردانتے ھیں لھٰذا دین کا انکار کرکے خود کو آزاد سمجھ لیتے ھیں۔

قرآن کریم فرماتا ھے:

جو لوگ قیامت کے واقع ھونے میں تردید کے شکار ھیں درحقیقت ان کا یہ شک کوئی علمی شک نھیںھے بلکہ اپنی شھوت پرستی اور بے راہ روی کی بنیاد پر قیامت کا انکار کرتے ھیں۔ (بلْ یُرِیْدُ الْاٴِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہ) اور قیامت کے حساب و کتاب سے بے پرواہ ھوکر ساری عمر گناہ کرتے ھیں۔ (۱۳)

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ھے کہ فساد اخلاقی و عملی، حق و حقیقت کو قبول کرنے میں مانع ھوتا ھے۔ توحید ایک ایسا تخم ھے جو صرف پاک و پاکیزہ زمین ھی میں رشد پاسکتاھے۔ بنجر اور ریتیلی زمین اس بیج کو تباہ و برباد کردیتی ھے۔ اگر انسان اپنے عمل میں شھوت پر ست و مادہ پرست ھوجائے توآھستہ آھستہ اس کے افکار و خیالات بھی قاعدہٴ ”اصل انطباق با جامعہ“کے تحت اس روحی اوراخلاقی فضا کے مطابق ھوجاتے ھیں۔



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next