دین فهمی



ھر چند بعض دانشمند حضرات کا نظریہ یہ ھے کہ دین کی تعریف نھایت دشوار بلکہ ناممکن ھے لیکن پھر بھی یہ نظریہ ھمیں اس بات سے نھیں روکتاکہ ھم مباحث علمی کے سائے میں لفظ دین سے متعلق اپنا مقصد اور ھدف مشخص کریں۔ بھر حال دین سے ھماری مراد مندرجہ ذیل ھے:

عقائد اور احکامات عملی کا وہ مجموعہ جو اس مجموعے کے لانے والے اور ان عقائد اور احکام عملی کے پیروؤں کے دعوے کے مطابق خالق کائنات کی طرف سے بھیجا گیا ھے۔

دین حق، صرف وھی دین ھو سکتا ھے جو خالق کائنات کی طرف سے بھیجا گیا ھو۔ اس صورت میں ایسا الھی دین حقیقت سے مطابقت رکھتے ھوئے یقینی طور پرانسانی سعادت کاضامن ھو سکتا ھے۔ مسلمان دانشمندوں کے ایک گروہ نے دین کی مندرجہ ذیل تعریف کی ھے:

وہ مجموعہ جسے خداوند عالم نے بشر کی ھدایت اور سعادت کی خاطر بذریعہ وحی پیغمبروں اور رسولوں کے ذریعہ انسانوں کے حوالے کیاھے۔

یہ ایک ایسی تعریف ھے جو صرف دین حق پرھی منطبق ھوسکتی ھے اور جس کا دائرہ گذشتہ تعریف سے محدود ترھے۔

بھرحال، قابل غور یہ ھے کہ خالق کائنات پر اعتقاد اور یقین، بھت سے افراد کے نزدیک دین کے بنیادی اراکین میں سے ھے۔ لھٰذا ھر وہ مکتب جو مارکسزم کی مانند مذکورہ نظریہ کا مخالف ھے ، دین نھیں کھلا یاجاسکتا ھے۔

دین کی مختلف جھات

مسلم دانشمندوں نے دین اسلام کی مجموعی تعلیمات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:

(۱) عقائد : یہ حصہ، دین کی ان تعلیمات پر مشتمل ھے جو ھمیں جھان ھستی ،خالق ھستی اور  مبداٴ ومنتھا ئے ھستی کی صحیح اور حقیقی شناخت سے روشناس کراتا ھے اس سے قطع نظر کہ ایسی ذات پر اعتقاد اوریقین مسلمان ھونے کی شرط ھے یا نھیں۔

لھٰذا ھر وہ دینی تفسیر جو مخلوقات کے اوصاف کو بیان کرتی ھو اس حصے میں آجاتی ھے یھیں سے یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ھے کہ عقائد دین، اصول دین سے عام اور وسیع ھیں۔ اصول دین میں عقائد دین کا فقط وھی حصہ شامل ھوتا ھے جس کا جاننا اور اس پر اعتقاد و یقین رکھنا مسلمان ھونے کی شرط ھوتی ھے مثلا توحید، نبوت اور قیامت۔



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next