دین فهمی



دین کی بشریت سے وابستہ توقعات

ظاھر ھے کہ دین ، عقائد اور احکام کا ایک مجموعہ ھے لھٰذا اس سے اس بات کی توقع نھیں رکھی جاسکتی کہ وہ انسان یا غیر انسان سے کسی طرح کی توقع رکھتا ھوگا بلکہ یھاں دین کی بشر سے وابستہ توقعات سے مراد شارع اور دین کو نازل کرنے والے یعنی خداوند عالم کی بشر سے وابستہ توقعات ھیں۔

مختصراً، شارع کی ایک انسان سے یھی توقعات ھو سکتی ھیں کہ وہ دینی عقائد کو قبول کرتے ھوئے ان پریقین محکم اور ایمان کامل لائے، دین کے احکام اور قوانین کو عملی جامہ پہنائے نیزاپنے کردار و گفتار کو دین کے مطابق ڈھالتے ھوئے صفات رزیلھ کوخود سے دور اور صفات حسنہ سے خود کو آراستہ کرے۔

واضح ھے کہ مذکورہ امور درحقیقت انسان ھی کے لئے اور اس کو منفعت بخشنے والے ھیں یعنی جب یہ کہا جاتا ھے کہ دین انسان سے مذکورہ امور کی انجام آوری چاھتا ھے تو اس سے مراد یہ قطعاً نھیں ھوتی ھے کہ انسان اپنی ذات میں سے کچھ سرمایہ دین کے نام وقف کردے یا اپنی ذات سے کچھ کم کردے اور دین کے اوپر انبار لگادے بلکہ ان امور کی انجا م دھی صرف اور صرف انسان کے لئے مفید اور اس کے مفادات سے وابستہ ھے۔ دوسرے الفاظ میں دین،بشر سے یہ چاھتا ھے کہ بشر خود کو کمال پر پھونچائے اور خدا کی برتر و اعلیٰ نعمتوں سے لطف و اندوز ھو۔(قُلْ مَا سَاَٴلْتُکُمْ مِنْ اٴَجْرٍ فَھوَ لَکُمْ) یعنی کھہ دیجئے کہ میں جو اجر مانگ رھا ھوں وہ بھی تمھارے ھی لئے ھے۔ (۶)

دین کی طرف رغبت کے اسباب

دین ایک ایسی حقیقت ھے جس کی تاریخ، بشریت کی تاریخ کے ساتھ ساتھ رواں دواں ھے۔ اس واضح اور آشکار حقیقت کے با وجود ایسے افراد بھی گزرے ھیں جودین کے منکر رھے ھیں۔ خدا پر اعتقاد اور اس کی پرستش، مبداٴ ھستی کے عنوان سے ھرزمان و مکان میں تمام بشری معاشروں میں مختلف تھذیب و فرھنگ کے ساتھ ساتھ مختلف شکل و صورت میں موجود رھی ھے اور ھے۔

اس ناقابل انکار حقیقت نے ایسے لوگوں کو جو دین کی حقانیت کے قائل نھیں ھیں اور دینی عقائد کو باطل شمار کرتے ھیں، اس بات پر مجبور کردیا ھے کہ وہ ابتدائے تاریخ بشریت سے اب تک لوگوں کے دین پر اعتقاد اور یقین کی توجیہ کریں اور اپنے اعتبار سے اس کے لئے(باطل) دلائل پیش کریں اور یہ بتائیں کہ کیوں بشر دین کی طرف راغب ھوتا ھے؟ حقیقت تو یہ ھے کہ ایسے اشخاص کے نزدیک جو اس کائنات کے خالق یعنی خدا کو نھیں پھچانتے ھیں، انسانیت کے اس عظیم کارواں  کااپنے خالق پر اعتقاد و یقین اور اس کی پرستش نھایت وحشت ناک اور خوفناک ھوتی ھے اور اسی لئے وہ کسی نہ کسی طرح اس کی توجیہ اور تاویل کرکے اپنا دامن جھاڑنا چاھتے ھیں۔

اس بارے میں جو نظریات بیان ھوئے ھیں وہ کبھی کبھی تو اتنے بے بنیاد اور باطل ھوتے ھیں کہ عقل متعجب ھوکر رہ جاتی ھے ۔ ان نظریات میں سے بعض نظریات کی وضاحت مندرجہ ذیل ھے:

(۱) نظریہٴ خوف

فرائڈ (SIGMOND FREUD)  نے خدا اور دین پر اعتقاد و یقین کا سرچشمہ خوف کو بتایا ھے البتہ اس سے قبل بھی یہ نظریہ پایا گیا ھے۔ شاید سب سے پھلے جس شخص نے یہ نظریہ پیش کیا تھا روم کا مشھور شاعر ٹیٹوس لوکر ٹیس ( متوفی :  ۹۹  ءء )ھے ۔ اس کا قول تھا کہ خوف ھی تھاکہ جس نے خداؤں کو پیدا کیا ھے۔



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next