اسلام اور اقتصادی مشکلات



 

اقتصاد اور مواھب فطرت سے بھرہ اندوزی کا مسئلہ ان اھم ترین مسائل میں سے ھے جو ھمیشہ حیاتِ بشر کے ساتھ رھے ھیں ۔شروع ھی سے بشر کی ابتدائی ضرورتیں بھی زندگی بشر کے ساتھ وابستہ رھی ھیں ۔البتہ یہ ضرور ھوتا رھا ھے کہ زمانے کے تغیر کے ساتھ ساتھ ان میں بھی تغیّر و تبدّل ھوتا رھا ھے۔قدیم زمانوں میں کسب معاش اور فطرت سے استفادہ بھت ھی سادہ اور ابتدائی طریقے سے ھوتا تھا لیکن رفتہ رفتہ لوگوں کی ملی جلی زندگی اور ملتوں کی ترقی کی وجہ سے کسب معاش اور یہ استفادہ مخصوص طریقے پر ھونے لگا ۔ تقریبا چار سو سال پھلے یعنی سرمایہ داری کے ابتدائی زمانے سے حیات اقتصادی کی تحلیل و تجزیہ کے عنوان پر علم اقتصاد کی بنیاد پڑی ۔

آخر ی صدی میں تمدن کی حیرت انگیز ترقی ، ٹیکنالوجی و صنعتی ترقی کے انقلاب، وسائل ارتباط کی ترقی و تکامل اورملتوں کی بالغ نظری کی وجہ سے علم اقتصاد معاشرے کا اھم ترین مسئلہ بن گیا اور اسی وجہ سے مشرق و مغرب کے دوبلاک بن گئے نیز سرمایہ داری و کمیونزم کے دو الگ الگ نظریئے قائم ھو گئے ۔ مشرق و مغرب کی ساری کشمکش کے پھیّے اسی محور پر گھوم رھے ھیں کہ آخر بشری اقتصاد کا معمّہ کس طرح حل ھو گا ؟ اور ایسا کونسا اقتصادی سسٹم ھو سکتا ھے جو آج کے مشینی دور کے اقتصاد کی گرہ کشائی کر سکے ؟ ایسا کون سا طریقہ ھو سکتا ھے جس سے عوامل تولید کے درمیان ثروت کی عادلانہ تقسیم ھو سکے ۔؟

دنیا کے مفکرین نے طبقاتی نظام کے عظیم شگاف کو پُر کرنے کے لئے جوا ھم طریقہ سوچا ھے وہ ایک تو یہ ھے کہ سرمایہ دارانہ نظام ختم کر دیا جائے اور دوسرا طریقہ یہ ھے کہ کم سے کم عمومی معیشت کی ذمہ داری ھو سکے ۔ مارکسیزم کا نظریہ بالکل ھی انقلابی ھے ۔انقلاب اکتوبر کے بعد سے روس میں اس نظرئیے پر عمل شروع کیا گیا اور دوسرا طریقہ مختلف عنوان سے یورپی ممالک کے اکثر ملکوں میں لاگو کیا جا رھا ھے ۔

مختلف مکاتب فکر کا نظریہ

کا دعویٰ ھے کہ وہ استعمار کے ظلم و ستم کو ختم کر سکتا ھے اور دنیا کی مشکلات کا حل پیش کر سکتا ھے ۔ کمیونزم کے نزدیک فردی ملکیت کو ختم کر کے حکومت کو کلی اقتدار سونپ دینا ھی اقتصادی مشکلات کا حل ھے ۔ کمیونزم کا عقیدہ ھے کہ تاریخ کے تمام ادوار میں شخصی ملکیت کا ظلم و ستم سے ھمیشہ چولی دامن کا ساتھ رھا ھے ۔ اس لئے سرمایہ داری کو ختم کر کے تمام وسائل تولید کو قومیا لینے اور ثروت کی عادلانہ تقسیم کرنے سے اقتصادی مسئلہ حل ھو سکتا ھے اور سرمایہ داری کو ختم کر کے ظلم و ستم کا خاتمہ کیا جا سکتا ھے ۔ تب کھیں جا کے ایک ایسے معاشرے کا وجود یقینی ھو سکتا ھے جس میں صرف ایک ھی طبقہ ھو اور تمام لوگ اپنے امور میں ھم آھنگ ھوں ۔

یھاں پر ایک سوال کیا جا سکتا ھے کہ ایک طبقہ ھونے کے لئے کیا صرف ایک عامل کا یکساں کر دینا کافی ھو جائے گا حالانکہ طبقاتی نظام کے وجود کی علتیں مختلف ھوا کرتی ھیں تو پھر ایک علت میں یکسانیت سے یہ بات کیونکر ممکن ھو گی ؟ کیونکہ یہ طبقے کبھی توعسکری ،کبھی مذھبی اورکبھی سیاسی اسباب کی وجہ سے پیدا ھوتے ھیں لھذا ایک طبقہ بنانے کے لئے تمام مختلف عوامل میں یکسانیت پیدا کرنی ھو گی اور یہ بات سب ھی جانتے ھیں کہ سوشلزم میں اگر چہ سرمایہ دار طبقہ کا وجود نھیں ھے مگر مختلف نام سے مختلف طبقے بھرحال موجود ھیں ۔ مثلا کاریگر ،کسان ، مزدور قسم کے طبقوں کا وجود ھے اور ان میں سے ھر ایک کی سطح زندگی ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ ھے ۔ کیا روس میں ایک طبیب اور ایک مزدور کے حقوق مساوی ھیں ؟ کیا ایک معمولی مزدور کو وھی مزدوری ملتی ھے جو ایک انجینیر کو ملتی ھے ؟ نھیںھرگز نھیں ۔ ان چیزوں سے قطع نظر اندیشہ ٴافکار ،میلان طبیعت ، عطوفت ، جسمانی طاقت میںبھی ایک معاشرے کے افراد میں اختلاف ھوا کرتا ھے اور وراثتاً یہ اختلافات ھمیشہ محفوظ رھتے ھیں ۔ ایک کمیونسٹ لیڈر کھتا ھے : مطلق مساوات کی ایجاد عملا ً نا ممکن ھے کیونکہ مدرس ، مفکر ،موجد سب ھی کو ایک درجے میں نھیں رکھا جا سکتا کیونکہ اگر ایسا کر دیا جائے تو اس کا نتیجہ فکری جمود اور عقلی و فنّی زندگی کے تعطل کے علاوہ کچہ نھیں ھوگا ۔(۱)

سرمایہ داری کا دعویٰ ھے کہ دنیا میں صرف کیپٹلیزم (Capitalism)ھی ایسا مذھب ھے جس سے مشینی سر گردانی کی گرہ کشائی کی جا سکتی ھے ۔ اسی لئے اس نظام ۔سرمایہ داری نے شخصی ملکیت کو ختم نھیں کیا بلکہ کام و مزدوری کے توازن کو برقرار رکھنے اور طبقاتی فاصلے کو محدود کرنے کے لئے کم از کم معیشت کو ضعیف طبقوں کےلئے مخصوص کر دیا ۔ ( ھم اس دعویٰ کو صد در صد قبول بھی کر لیں تو ان رپوٹوں کو کیا کھیئے گا جو امریکہ کے بارے میں شائع ھوئی ھیں ۔مثلا غذائی مسئلے کی تحقیقاتی کمیٹی نے مسلسل نو مھینے مطالعہ و تحقیق کر کے رپورٹ پیش کی ، کہ امریکہ میںایک کڑوڑآدمی بھوک کی تکلیف برداشت کرتے ھیں ۔ اس کمیٹی کے چیرمین نے امریکہ کے صدر جمھوریہ سے خواھش ظاھر کی کہ مسئلے کی اھمیت کے پیش نظر آپ اس کا اعلان کریں اور امریکہ کے ۲۰ صوبوں کے ۲۵۶ شھروں میں ۔ ان شھروں میں اکثر شھر خطرے میں ھیں ۔ فوراً مدد بھیجیں ۔۲۵ آدمیوں پر مشتمل کمیٹی ۔ جس کے بیانات نے امریکہ کی محفلوں میں شدید ھیجان پیدا کر دیا تھا ۔ نے ماہ جولائی سے اپنے مشن کا آغاز کر دیا ۔ اس کمیٹی نے ۔ جو والٹر ر و یٹر صدر فوجی کمیٹی کی حسب ھدایت امریکی لوگوں کی بھوک کا سدّ باب کرنے کے لئے بنائی گئی تھی ۔ والٹرر و یڑیہ وھی شخص ھے جو امریکہ کی موٹر سازی کے مزدوروں کی یونین کا صدر بھی ھے اور یھی وہ شخص ھے جس نے کمیٹی کے تمام مصارف کی ذمہ داری قبول کی ھے ۔ایک کڑوڑ امریکیوں کی گرسنگی کی علت جنگ اور دیگر مناقشات اجتماعی و سیاسی کو قرار دیا ۔ اس کمیٹی نے اپنے بیان میں یہ بھی کھا کہ جنگ کی وجہ سے یہ لوگ اب اس قابل نھیں ھیں کہ کھانے پینے کی ضروری چیزوں کو اپنے لئے بازار سے خرید سکیں ۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید سفارش کی کہ حکومت امریکہ کو چاھئے کہ ان ایک کڑوڑآدمیوں کی غذائی کفالت کی ذمہ داری قبول کرے ۔ (۲)

 اگر سرمایہ داری اقتصادی مسائل کا حل ھوتی تو امریکہ میں اتنے لوگ فاقہ کش نہ ھوتے ۔

 کیا ان اصلاحی اقدامات نے طبقاتی فاصلوں کو ختم کر دیا ؟ کیا یہ طبقاتی اختلاف پسماندہ افراد کے دلوں میں سرمایہ داروں سے نفرت کا قوی سبب نہ ھوگا ؟ کیا یہ بیچار ے عوام ھمیشہ اسی طرح زندگی بسر کرتے رھیں گے ؟ کیا اس عظیم فاصلے کے بعد بھی ۔ جو روز بروز گھٹنے کے بجائے بڑھ رھا ھے ۔ سرمایہ داری معاشرے کی مشکلات کا حل بن سکتی ھے ؟



1 2 3 4 5 next