يھوديت اور اس کےعزايۡم



نھيں ليکن ايک ايسي روٹي بڑے خاخام کے پاس ھونا ضروري ھے۔

2۔  1823ءء ميں عيد فصح کے موقع پر سابقہ روس کے شھر Valisobميں ايک دو سال کا بچہ غائب ھو گيا ۔ ايک ھفتہ کي تحقيق اور تفتيش کے بعد اس کا بے جان جسم شھر کے باھر ايک مقام پر پايا گيا ۔باوجود اس کے کہ اس کے جسم پر کيلوں اور سوئيوں کے نشانات واضح تھے ليکن خون کا ايک قطرہ بھي اس کے لباس پر موجود نھيں تھا ۔ بعد کي معلومات کے مطابق اس کے جسم کو قتل کے بعد دھو ديا گيا تھا ۔

ايک عورت نے جو تازہ يھودي ھوئي تھي(1) اور اس قضيہ کے ملزموں ميں سے تھي، اس طرح بيان ديا:

يھوديوں کي طرف سے ھم کو ذمہ داري سونپي گئي تھي کہ اس عيسائي بچہ کو اغواکرکے ايک معينہ وقت پر کسي ايک کے گھر پھنچا ديں۔ جب ھم اس بچے کے ساتھ گھر ميں داخل ھوئے تو تمام لوگ ايک ميز کے اطراف ميں بيٹھے ھوئے ھماري راہ ديکہ رھے تھے ۔

بچے کو ميز پر رکہ کر اس کو چاکليٹ اور  بسکٹ ميں مشغول کرديا گيا ۔

بيچارہ تنھابچہ ابھي کھانے ميں ھي مشغول تھا کہ ان ميں سے ايک نے ايک لمبي اور نو کيلي کيل اس کي ران ميں چبھودي ۔ بچے کي دل دھلا دينے والي چينخ بلند ھو گئي وہ دھلا ھوا ان ميں سے ايک کي طرف بڑھا اس نے بھي اس پر ذراسا بھي رحم نھيں کيا اور ايک لمبي سوئي کے ذريعہ جو اس کے ھاتہ ميں تھي بچے کي کمر کو زخمي کرديا۔ بچہ دوبارہ چيخ پڑا اور تيسرے شخص کي طرف لپکا اسنے بھي اس کا سينہ چھيد ڈالا۔ الغرض اس کے جسم ميں اتني سوئياں اور کيليں چبھوئي گئيں کہ وھيں پر اس کا دم نکل گيا پھر اس کے خون کو ايک شيشي ميں جمع کرکے بڑے خاخام کے سپرد کرديا گيا ۔

3۔ گرميوں کي تپتي دوپھر ميں يھوديوں نے ايک مسلمان فلسطيني کے گھر پر حملہ کرديا۔ اس واقعہ کے بارے ميں اس گھر کي بڑي بيٹي اس طرح بيان کرتي ھے :

جس وقت يھودي سپاھي ھمارے گھر ميں داخل ھوئے ميں اس قدر ڈر گئي تھي کہ قريب تھا کہ ھلاک ھو جاؤں

…………………

(1)يھودي مذھب کے مطابق ايک غير يھودي يھودي مذھب نھيں اختيار کر سکتا ۔صرف وھي شخص اصلي يھودي ھو سکتا ھے جو يھودي ماں کے ذريعہ متولد ھوا ھوليکن اس بات کو ظاھر نھيں کرتے اور دوسروں کو يھودي بنا کر ان کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مھرہ بناتے رھتے ھيں۔

ميري چھوٹي بھن ايک کونے ميں گھس گئي۔ ميرے ماں باپ چيخ رھے تھے مگر کوئي مدد کرنے والا نہ تھا ۔

وحشي درندے اور حيوان صفت يھوديوں نے ميري ماں کو پکڑ ليا اور ان کے مخصوص مقام پر کئي گولياں داغ ديں !!! پھر ميرے باپ کو لاتوں گھونسوں اور بندوقوں کے کندوں سے مار مار کر ختم کرديا اور ميرے ھاتہ پير باندہ کر کھينچتے ھوئے گھر سے باھر لے آئے ۔

وہ کھتي ھے کہ مجھے نھيںپتہ کہ ميري چھوٹي بھن پر کيا گزري، مجھکو کچہ يھودي درندوں کے ساتھ ايک ٹرک کے پيچھے سوار کرديا گيا۔ھم نامعلوم منزل کي جانب چل پڑے ۔ وہ درندے راستہ ميں ميري آبرو ريزي کي کوشش کرنے لگے۔ ميں نے ان کا مقابلہ کيا ليکن مجھے بيھوش کرديا گيا۔ جب ميں ھوش ميں آئي تو ميرا سب کچہ لوٹا جا چکا تھا ميري آبرو اور عفت ميرے ھاتہ سے جا چکي تھي ۔

مسلمانوںکي حالت کيا ھو گئي ھے ۔ اس کي بے غيرتي اس حد تک پھنچ چکي ھے کہ يھودي درندے اس کي ناموس کي  آبروريزي کرتے ھيں اور مسلما ن زندہ ھے، صرف زندہ ھي نھيں بلکہ اپنے عشرت کدوں ميں بيٹھا خواب خرگوش کے مزے لے رھا ھے!!!!!اس سے بڑي ذلت اور کيا ھو گي ۔

حالانکہ مسلمانوں کو ايسے عظيم ذلت بار سانحوں پر موت کو ھزار بار ترجيح دينا چاھيئے اور اٹہ کھڑے ھونا چاھيئے ۔

جب معاويہ کے لشکر نے شھر انبار پر حملہ کيا تھا اور مسلمان اور کافروں کي عفت کو پائمال کيا تھا تو اس موقع پر حضرت امير المومنين عليہ السلام منبر پر تشريف لے گئے تھے اور فرمايا تھا:” خدا کي قسم! اگر کوئي اس سانحہ کو سننے کے بعد مر جائے تو ميں اس پر ملامت نھيں کرونگا ۔“ نھيں معلوم کہ اگر آج حضرت علي عليہ السلام ھوتے اوراس قصہ کو سنتے تو کيا فرماتے اور کيا کرتے .....

حوالے :

مرحوم آيت اللہ سيد محمد حسيني شيرازي کي کتاب دنيا بازيچہ يھود سے ماخوذ

 



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14