يھوديت اور اس کےعزايۡم



يھودي کے اموال کي چوري حرام ھے ليکن غير يھودي کي کوئي بھي چيز چرائي جا سکتي ھے اس لئے کہ دوسروں کا مال سمندرکي ريت کي طرح ھے جو پھلے اس پر ھاتہ رکہ دے وھي اس کا مالک ھے ۔

يھودي شوھر دار عورتوں کي طرح ھيں جس طرح عورت گھر ميں آرام کرتي ھے اور گھر کے باھر کے امور ميں شوھر کے ساتھ شريک ھوئے بغير شوھر اس کے اخراجات بر داشت کرتا ھے اسي طرح يھودي بھي آرام کرتا ھے دوسروں کو چاھيئے کہ اس کو روزي فراھم کريں ۔

8۔  اگر يھودي اور اجنبي شکايت کريں تو يھودي کے حق ميں فيصلہ کيا جانا چاھيئے چاھے وہ باطل پر ھي کيوں نہ ھو ۔

تمھارے لئے جائز ھے کہ کسٹم کے عھديداروں کو دھوکا دواور ان کے سامنے جھوٹي قسم کھاؤ۔خاخام (صموئيل ) سے سبق لو کہ صموئيل نے ايک اجنبي سے ايک سونے کا پيالہ چار درھم ميں خريدا مگر بيچنے والا اس کے سونا ھونے کے بارے ميں نھيں جانتا  تھااس کے باوجود اس نے اس کا ايک درھم بھي چرا ليا ۔

سود کے ذريعہ دوسروں کا مال ھڑپ جانا کوئي عيب نھيں ھے اس لئے کہ خدا وند غير يھوديوں سے سود خوري کا تم کو حکم ديتا ھے ۔

جو يھودي نہ ھو اس کو قرض نہ دو سوائے اس کے کہ اس سے سود لو۔ اس صورت کے علاوہ غير يھوديوں کو قرض دينا جائز نھيں ھے اور ھم کو حکم ديا گيا ھے کہ غير يھوديوں کو نقصان پھنچائيں ۔

دوسروں کي زندگي و حيات تک يھوديوں کي ملکيت ھے  ان کے اموال کس شمار و قطار ميں ھيں۔جب بھي کسي غير يھود ي کو پيسے کي ضرورت ھو تو اس سے اتنا زيادہ سود لينا چاھيئے کہ وہ اپني تمام دولت کو کھو بيٹھے ۔

 9۔  غير يھودي کتنا ھي نيک اور اچھے کردار کا مالک ھو اس کو مار ڈالنا چاھيئے ۔

غير يھودي کو نجات دينا حرام ھے ۔ يھاں تک کہ اگر وہ کنويں ميں گر جائے تو فورًا اس کنويں کو پتھر سے پر کردو ۔

اگر کسي اجنبي ( غير يھودي ) کو مار ڈاليں تو اسکي مثال ايسي ھے جيسے راہ خدا ميں قرباني کي ھو اور اگر ايک يھودي غير يھودي کي مدد کرے تو اس نے ايک ايسے گناہ کا ارتکاب کيا ھے کہ جو ناقابل عفو و بخشش ھے ۔



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 next