دين اہلبيت (ع) کے نزديک



 

 ابوالجارود ! ميں نے امام باقر (ع) سے عرض کيا ، فرزند رسول ۔! آپ کو تو معلوم ہے کہ ميں آپ کا چاہنے والا، صرف آپ سے وابستہ آپ کا غلام ہوں ؟ فرمايا ۔بيشک !


ميں نے عرض کيا کہ مجھے ايک سوال کرنا ہے، اميد ہے کہ آپ جواب عنايت فرماديں گے، اس لئے کہ ميں نابيناہوں، بہت کم چل سکتاہوں اور بار بارآپ کي خدمت ميں حاضر نہيں ہوسکتاہوں، فرمايا بتاؤ کيا کام ہے؟ ميں نے عرض کي آپ اس دين سے باخبر کريں جس سے آپ اور آپ کے گھر والے اللہ کي اطاعت کرتے ہيں تا کہ ہم بھي اس کو اختيار کرسکيں۔

فرمايا کہ تم نے سوال بہت مختصر کيا ہے مگر بڑا عظيم سوال کيا ہے خير ميں تمھيں اپنے اور اپنے گھر والوں کے مکمل دين سے آگاہ کئے ديتاہوں ديکھو يہ دين ہے توحيد الہي، رسالت رسول اللہ ان کے تمام لائے ہوئے احکام کا اقرار ہمارے اولياء سے محبت ہمارے دشمنوں سے عداوت ، ہمارے امر کے سامنے سراپا تسليم ہوجانا ، ہمارا قائم کا انتظار کرنا اور اس راہ ميں احتياط کے ساتھ کوشش کرنا ۔( کافي 1 ص 21 /10۔203۔

ابوبصير ! ميں امام باقر (ع) کي خدمت ميں حاضر تھا کہ آپ سے سلام نے عرض کيا کہ خيثمہ بن ابي خيثمہ نے ہم سے بيان کيا ہے کہ انھوں نے آپ سے اسلام کے بارے ميں دريافت کيا تو آپ نے فرمايا کہ جس نے بھي ہمارے قبلہ کا رخ کيا ، ہماري شہادت کے مطابق گواہي دي، ہماري عبادتوں جيسي عبادت کي ، ہمارے دوستوں سے حبت کي ، ہمارے دشمنوں سے نفرت کي وہ مسلمان ہے۔

فرمايا خيثمہ نے بالکل صحيح بيان کيا ہے… ميں نے عرض کي اور ايمان کے بارے ميں آپ نے فرمايا کہ خدا پر ايمان، اس کي کتاب کي تصديق اور ان کي نافرماني نہ کرنا ہي ايمان ہے۔ فرمايا بيشک خيثمہ نے سچ بيان کيا ہے۔( کافي 2 ص 38 /5)۔204۔

علي بن حمزہ نے ابوبصير سے روايت کي ہے کہ ميں نے ابوبصير کو امام صادق (ع) سے سوال کرتے سنا کہ حضور ميں آپ پر قربان، يہ تو فرمائيں کہ وہ دين کيا ہے جسے پروردگار نے اپنے بندوں پر فرض کيا ہے اور اس سے ناواقفيت کو معاف نہيں کيا ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئي دين قبول کياہے؟

فرمايا:  دوبارہ سوال کرو…انھوں نے دوبارہ سوال کو دہرايا تو فرمايا لا الہ الا اللہ ، محمد رسول اللہ کي شہادت نمازکا قيام،زکٰوة کو ادائيگي، حج بيت اللہ استطاعت کے بعد، ماہ رمضان کے روزہ۔

يہ کہہ کر آپ خاموش ہوگئے اور پھر دو مرتبہ فرمايا ولايت ، ولايت ( کافي 2 ص22 /11)۔205۔

عمرو بن حريث 1 ميں امام صادق (ع) کي خدمت ميں حاضر ہوا جب آپ اپنے بھائي عبداللہ بن محمد کے گھر پر تھے، ميں نے عرض کيا کہ ميں آپ پر قربان ! يہاں کيوں تشريف لے آئے؟ فرمايا ذرا لوگوں سے دور سکون کے ساتھ رہنے کے لئے۔

ميں نے عرض کي ميں آپ پر قربان کيا ميں اپنا دين آپ سے بيان کرسکتاہوں، فرمايا بيان کرو۔



1 2 3 next