طلاق در اسلام



 

سب سے پھلے تو یہ جان لینا چاھئے کہ طلاق و جدائی ایک غیر فطری اور سنن آفرینش کے خلاف فعل ھے۔ جس معاشرے میں طلاق کی کثرت ھو جائے   سمجہ لینا چاھئے کہ یہ معاشرہ فطری زندگی کے راستے سے بھٹک گیا ھے ۔ علم حقوق کے علماء نے زن و شوھر کے تعلقات کو خاص طورپر مرکز ِتوجہ قراردیتے ھوئے  اظھار نظر بھی فرمایا ھے اوربھت سے سماجیات کے ماھرین کی رائے ھے کہ چونکہ طلاق دینے کی وجہ سے خاندان پر بُرا اثر پڑتا ھے ، گھر کا ماحول منقلب ھو جاتا ھے اور بچے مختلف قسم کے ذھنی و روحی مفاسد میں مبتلا ھو جاتے ھیں اس لئے مجبوری کے علاوہ طلاق کو ھر صورت میں نا جائز قرار دے دینا چاھئے اور اس سلسلے میں سختی سے کام لینا چاھئے تاکہ کوئی شخص طلاق کا اقدام ھی نہ کر سکے ۔

 علم الاجتماع کے ماھرین کی رائے مناسب صحیح مگر بعض موقعوں پر اخلاقی یا روحی لحاظ سے طلاق نا گزیر بن جاتی ھے۔ ایسی صورت میں طلاق نہ دینا تباھی کا پیش خیمہ بن سکتا ھے۔ ذرا سوچئے! اگر شوھر و زوجہ کے حالات میں بھتری کی کوئی صورت ممکن ھی نہ ھو تو اس وقت کیا کرنا چاھئے ؟ کیا اس وقت خانوادے کو اسی طرح جھنم میں جلنے دیا جائے یا ایسی صور ت میں اس مسئلے کا حل طلاق کی صورت میں کرنا چاھئے تاکہ وہ لوگ داخلی کش مکش اور ذھنی تکلیف سے نجات حاصل کر سکیں ؟ اب ان دونوں راستوں میں کونسا راستہ اس دوزخ سے بچانے کے لئے استعمال کرنا چاھئے ؟

اس قسم کے مواقع پر اسلام نے مخصوص شرائط کے ساتہ طلاق کو جائز قرار دیا ھے تاکہ خانوادے کو اس دوزخ سے بچایا جا سکے بر خلاف مسیحیت کے کہ اس نے ایسی صورت میں بھی طلاق کو جائز نھیں سمجھا بلکہ طلاق کو ممنوع قرار دے دیا ھے ۔ !

ایسی صورت میں طلاق دے دینا ھی بھتر ھے کیونکہ طلاق نہ دینے کی صورت میں اختلاف کم ھونے کے بجائے بڑھیں گے ازدواجی زندگی بھرحال بسرنھیں ھو سکے گی لھذا اس موقع پر حقیقت کو تسلیم کر لینا ھی چاھئے اور حلال چیزوں میں مبغوض ترین چیز کا ارتکاب کر لینا ھی بھتر و مناسب ھے اور بھت ممکن ھے کہ طلاق کے بعد مرد و عورت کے ذھن بدل جائیں اپنے کئے پر نادم ھوں اور از سر نو زندگی کی گاڑی کو کھینچنے پر متحد ھو جائیں تو ان کے لئے اسلام نے اس کی گنجائش رکھی ھے کہ عدّہ کے زمانے میں رجوع کر سکتے ھیں ۔

 اسلام کی نظر میں بقائے زوجیت اور استحکام خانوادہ نھایت ضروری چیز ھے اسی لئے نظام خانوادے کو محفوظ کرنے کی خاطر بعض قسم کی آزادیوں پر پابندی لگا دی ھے اور طلاق کے مسئلہ میں عورت کے اختیار مطلق کو سلب کرکے محدود اختیار دیکر عورت کے مصالح کو محفوظ کرنا چاھاھے کیونکہ اگر مرد و عورت دونوں کو طلاق کا اختیار دے دیا جائے تو احتمال طلاق دو گنا ھو جائے گا اور ایسا رشتہ جو دونوں طرف سے ٹوٹ جانے والا ھو طرفین کے اعتماد کو متزلزل کر دے گا ۔ لھذا یہ حق کسی ایک ھی کے ھاتہ میں ھونا چاھئے اور چونکہ انتخاب شوھر میں عورت کو کلی اختیار دیا گیا ھے اس لئے طلاق میں بر بنائے انصاف مرد کو یہ اختیار ملنا چاھئے اور اسلام نے یھی کیا بھی ھے ۔

 مرد اور عورت کی جسمانی ساخت ایک کو دوسرے سے جدا کرتی ھے اور دونوں کے فطری خصائص بھی الگ الگ ھیں چنانچہ مرد میں قوت فکریہ کا غلبہ ھے ۔ لیکن عورت کے اندر ” احساس و عاطفہ “ کو غلبہ حاصل ھے چنانچہ ڈاکٹر الکسس کارل کھتاھے:,,مردو عورت کے بدن اور بدن کے تمام اجزاء خصوصا اعصابی سلسلے اپنی اپنی جنس کی نشان دھی کرتے ھیںاسلئے تعلیم و تربیت کے ماھرین کو مرد و عورت کے عضوی اختلاف اور ان کے فطری وظائف کو پیش نظر رکھنا چاھئے ۔ اس اساسی نکتہ کی طرف توجہ ھمارے آئندہ تمدن کی بنیادمیں کافی اھمیت رکھتی ھے اور کسی بنیادی اور اھم نکتہ کی طرف توجہ نہ ھونے کی وجہ سے عورتوں کی ترقی کے طرفدار مرد و عورت کے لئے ایک قسم کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ھیں اور دونوں کے مشاغل و اختیارات اور عھدے بھی ایک ھی قسم کے چاھتے ھیں ۔،،(۱)

مندرجہ بالا تحریر عورت و مرد کے حقوق وظائف و ذمہ داریوں کے اختلاف پر اچھی خاصی روشنی ڈالتی ھے اسی دقیق حساب کی بنا پر اسلام نے حکم دیا ھے کہ ” طلاق کا اختیار مرد کو ھے “ ۔( ۲)

 عورت کے ظرف ا ور مزاج ( جو سراپا ھیجان و تلوّن ھے ) کو دیکھتے ھوئے یہ بات کھی جا سکتی ھے کہ ضروری اور مشترک زندگی عدم استحکام کی صورت میں عورت اس بات پر قادر نھیں ھے کہ اپنے حق سے استفادہ کر سکے بلکہ معمولی بھانہ بھی اس کی مشترک زندگی کے خاتمے اور خانوادے کے سکون کو غارت کر دینے کے لئے کافی ھے ۔

 جس طرح اسلام نے تشکیل خانوادہ کے لئے ھر طرح کی سھولتوں کو مھیا کیا ھے اور اس میں پیش آنے والی مشکلات و رکاوٹوں کو ختم کیا ھے اسی طرح طلاق دینے اور خانوادہ کے سکون کو غارت کر دینے کے لئے بھی بھت زیادہ سختی برتی ھے اسلام کسی بھی قیمت پر رشتہٴ ازدواج کو توڑنے اور گھر کے سکون کو درھم و برھم کرنے پر تیار نھیں ھے۔ اسلام کا مطمح نظریہ ھے کہ تمام خانوادے امن و امان سے رھیں، دلوں کو سکون رھے ،مرد و عورت ھم آھنگی کے ساتہ زندگی بسر کریں اسی لئے ابتدائی مرحلے میں ھی اپنی ساری کوشش صرف کر دیتا ھے کہ عقد نکاح مضبوط سے مضبوط تر ھو ، ھاں اگر اصلاح سے مایوس ھو جائے تب بات اور ھے ۔ چنانچہ ایک طرف مردوں کو مخاطب کر کے قرآن کھتا ھے :,, عورتوں کے ساتہ نیک برتاوٴکرو اب اگر تم انھیں ناپسند بھی کرتے ھوتو ھوسکتاھے کہ تم کسی چیز کوناپسند کرتے ھواور خدااسی میں خیرکثیر قراردیدے  ۔،،(۳)

در حقیقت نفرت و کراھت کے شعلوں کو خاموش کرنے اور ناراضگی کو دور کرنے کے لئے نیزمردوں کے وجدان کو بیدار کرنے کے لئے اسلام مردوں کو اس امر مکروہ پر صبر و شکیبائی کی تلقین کرتا ھے کہ جن عورتوں کو نا پسند کرتے ھیں ان کو چھوڑ نہ دیں ۔ کیونکہ بھت ممکن ھے کہ ان عورتوں کے وجود ھی میں خیر و برکت ھو اور لوگ اس سے غافل ھوں اور انھیں عورتوں کو نا پسند کرنے کے باوجود جدا نہ کرنے سے خیر و برکت کے دروازے کھلتے ھوں اور دوسری طرف عورتوں کو مخاطب کر کے قرآن سفارش کرتا ھے کہ ” اگر کوئی عورت شوھر سے حقوق ادا نہ کرنے یااسکی کنارہ کشی سے طلاق کا خطرہ محسوس کرے تودونوں کے لئے کوئی حرج نھیں ھے کہ کسی طرح آپس میں صلح کر لیںکہ صلح میں بھتری ھے ۔ ،،(۴)



1 2 3 4 5 6 7 next