حضرت علی (ع)کا عوام کے ساتھ طرز عمل



 

جب کہ آپ پوری امت کے امام تھے اور سبھی لوگوں نے آپ کی بیعت کی تھی لیکن آپ لوگوںکے درمیان ایک عام شخص کی طرح زندگی بسر کرتے ‘  امر بالمعروف اور نھی عن المنکر فرماتے‘سلاطےن اور بادشا ھوںکی سطوت و تکبر سے بھت دوررھتے آپ لوگوںکے درمیان زندگی بسر کرتے اور ان کی مشکلات حل کرتے ‘ اور ان کی اس طرح تربیت فرماتے جس طرح اللہ تعالی نے اپنی پاک کتاب میں حکم دیا ھے ۔

ابحر ابن جرموز اپنے باپ سے روایت بیان کرتا ھے کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام کو مسجد کوفہ سے باھر نکلتے ھوئے دےکھا آپ بازار تشریف لے گئے آپ کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا ۔اور آپ لوگوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرنے ،سچ بولنے ، اورعمدہ خرید وفروخت کرنے اورپوری ناپ تول کرنے کی ھدایت فرمارھے تھے۔[1]

ابو مطر روایت بیان کرتے ھیں کہ میں مسجد سے نکلا وہاںایک شخص  لوگوں کو خد اسے ڈرا رھاتھا اور انھیں ناپ اورتول کے سلسلے میں وعظ و نصیحت کر رھاتھا جب میں نے غور سے دیکھا تو وہ علی (ع) تھے ان کے پاس کوڑا تھا اور اسی طرح وعظ کرتے ھوئے وہ ”بازار ابل“ کی طرف بڑھ گئے اور لوگوں سے کھنے لگے کہ خرید وفروخت ضرور کرو لیکن قسمیں نہ کھاؤ کیونکہ قسمیں کھانے سے بخل پیدا ھوتا ھے اور برکت ختم ھوجاتی ھے۔ پھر آپ  ایک کھجوروں کے مالک کے پاس آئے وہاں اس کی ملازمہ رو رھی تھی حضرت نے پوچھا تمھیں کیا ھوا ھے؟

اس نے کھامیں نے ان کھجوروں کو ایک درھم میں خریدا ھے اور میرا مولا اس کو قبول کرنے پر راضی نھیں ھے۔

حضرت نے اس کو ایک درھم دے دیا اور کھاکہ اپنے مالک کو دے دینا اور وہ راضی ھو جائے گا۔

راوی کھتا ھے میں نے مالک سے کھاکہ کیا تم جانتے ھویہ کون ھیں اس نے کھانھیں، میں نے بتایا یہ امیر المومنین علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام ھیںاس نے کھجور اٹھائے اور درھم دے دیا اور کھامیں چاھتا ھوں کہ امیرالمومنین علیہ السلام مجھ سے راضی رھیں۔

آپ نے فرمایا جب تم نے معاملہ ٹھےک کر لیا ھے میں تجھ سے راضی ھوں اور پھر آپ دوسرے کھجوریں بیچنے والوں کے پاس گئے اور فرمایا مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اور انھیں اپنے جیسا لباس پھناؤ کہ اس سے تمہارے کاروبار میں برکت پیدا ھو گی پھرمچھلی فروشوںکے پاس گئے اور ان سے فرمایا: بازار میںحرام مچھلی نہ بیچا کرو۔[2]

نیز ایک اور روایت میں ابن مطر بیان کرتے ھیں کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام” دار بزاز“ تشریف لائے (یہ کھدر کے کپڑے کا بازار تھا) چنانچہ حضرت نے فرمایا:

مجھے ایک قمیص کی ضرورت ھے اور میرے ساتھ اچھا معاملہ کرو اور تےن درھم میں مجھے قمیص دے دو ،لیکن جب اس شخص نے آپ کو پہچان لیا تو پیسے لینے سے انکار کر دیا ۔

کچھ دےرکے بعد اس کا نوجوان ملازم آگیا آپ نے اس سے تےن درھم میں قمیص خریدلی اور اسے زیب تن فرمایا جو کہ پنڈلیوں تک لمبی تھی۔جب دکان کے مالک کومعلوم ھوا کہ اس کے ملازم نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کو دودھم کی قمیض تےن درھم میں فروخت کی ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 next