اصلاح امت اور حضرت علی علیه السلام



 

قارئین کرام!یہ عنوان بھی روز روشن کی طرح واضح ھے جس طرح اگر حضرت علی علیہ السلام کی تلوار نہ ھوتی تو اسلام کبھی نتیجہ بخش نہ ھوتا اسی طرح اگر آپ کا عمدہ بیان نہ ھوتا تو دین کے ستون اس قدر پختہ نہ ھوسکتے چنا نچہ یہ بات طے ھے کہ حضرت کے کلام اور فرامین کی وجہ سے اسلام مستحکم ھوا۔

 آپ نے اپنے کلام میں حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف کرایا جسکی وجہ سے ان پاک و صاف نفسوں کا آپ کی طرف اشتیاق ھوا جنھیں اللہ تعالیٰ کی محبت پر خلق کیا گیا تھا اور ان میں آپ کے قرب و رضا کا عشق موجودتھا۔

آپ ھی وہ ھستی ھیں جن کے ذریعے لوگوں کے طور طریقوں میں موجودہ کج روی کی اصلاح ھوئی ، گمراہ لوگ دوبارہ ھدایت کی طرف پلٹ آئے ان کا قول و فعل ایک ھوگیا۔اور یہ لوگ اللہ کی وعظ ونصیحت ‘اس کی آیات ،شریعت اور احکام سے وابستہ ھو گئے اور حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر چلنے لگے اور اسلامی احکام کے مطابق عمل کرنے لگے نیز آپ کے علاوہ کسی غیر کی طرف نھیں جھکے۔

۱۔انداز عبادت

ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علی (ع)کی بارگاہ میں عرض کیا ! یاامیرالمومنین آپ جو اس قدر اللہ کی عبادت کرتے ھیں کیا آپ نے اسے دیکھا ھے ؟تب حضرت امیر امومنین علیہ السلام نے اسے جواب دیا:

لم اٴکُ با لذي اٴعبد من لم ارہ

میں اس کی عبادت نھیں کرتا جسے میں نے نہ دےکھا ھو۔        

وہ شخص کھتا ھے آپ خدا کو کس طرح دےکھتے ھیں تب حضرت علی (ع)نے جواب دیا:

یا ویحک لم ترہ العیون بمشاھدة الابصار و لکن راٴ تہ القلوب بحقائق  الاٴِیمان معروف با لدلالات منعوت با لعلامات لُا یقاس بالناس ولا تدرکہ الحواس ۔

وائے ھو تجھ پر ان آنکھوں کے ذریعہ اس کو نھیں دیکھا جا سکتالیکن دل اسے ایمان کی حقےقتوں کے ساتھ دےکھ سکتا ھے دلائل اور علامتوں کے ساتھ تو اس کی تعرےف کی جا سکتی ھے لیکن لوگوں کے ساتھ اس کا قیاس نھیں کیا جاسکتا اور حواس خمسہ اسے نھیں پا سکتے چنا نچہ وہ شخص یہ کھتے ھوئے وہاں سے چل دیا :

اللہ اٴعلم حیث یجعل رسا لتہ۔ اللہ ھی بھترجانتا ھے کہ وہ اپنی رسالت کوکہاں قراردیتا ھے ۔[1]



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 next