ازدواجي زندگى



 

ازدواجي زندگى انساني زندگى کااہم ترین موڑہوتاہے جب دوانسان مختلف الصنف ہونے کے باوجود ايک دوسرے کى زندگى ميں مکمل طورسے دخیل ہوجاتے ہيں اورہرايک کو دوسرے کى ذمہ دارى اوراس کے جذبات کاپورے طورپرلحاظ رکھناپڑتاہے ۔اختلاف کى بناپرحالات اورفطرت کے تقاضے جداگانہ ہوتے ہيں ليکن ہرانسان کودوسرے کے جذبات کے پیش نظراپنے جذبات اوراحساسات کى مکمل قربانى دينى پڑتى ہے۔

قرآن مجيد نے انسان کواطمينان دلايا ہے کہ يہ کوئى خارجى رابطہ نہيں ہے جس کى وجہ سے اسے مسائل اورمشکلات کاسامناکرنا پڑے بلکہ يہ ايک فطرى معاملہ ہے جس کاانتطام خالق فطرت نے فطرت کے اندروديعت کردياہے اورانسان کواس کى طرف متوجہ بھى کرديا ہے چنانچہ ارشادہوتاہے :

ومن آياتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجالتسکنوا الےھا وجعل بےنکم مودة ورحمة ان فى ذلک لايات لقوم ےتکرون (روم)

اوراللہ کى نشانيوں ميں سے يہ بھى ہے کہ اس نے تمھارا جوڑا تمھیں ميں سے پیداکياہے تاکہ تمھیں سکون زندگى حاصل ہواورپھرتمہارے درميان مودت اوررحمت قراردى ہے اس ميں صاحبان فکرکے لئے بہت سى نشانياں پائى جاتى ہيں

بے شک اختلاف صنف ،اختلاف تربیت ،اختلاف حالات کے بعد مودت اوررحمت کاپیداہوجانا ايک علامت قدرت ورحمت پروردگارہے جس کے بے شمارشعبہ ہيں اورہرشعبہ ميں متعددنشانياں پائى جاتي ہيں آیت کریمہ ميں يہ بھى واضح کردياگياہے کہ جوڑا اللہ نے پیداکياہے یعنى يہ مکمل خارجى مسئلہ نہيں ہے بلکہ داخلى طورپرہرمردميں عورت کے لئے اورہرعورت ميں مردکے لئے صلاحیت رکھ دى گئى ہے تاکہ ايک دوسرے کواپناجوڑاسمجھ کربرداشت کرسکے اوراس سے نفرت اوربیزارى کا شکارنہ ہواوراس کے بعدرشتہ کے زیراثرمودت اوررحمت کابھى قانون بنادياتاکہ فطرى جذبات اورتقاضے پامال نہ ہونے پائیں يہ قدرت کاحکیمانہ نظام ہے جس سے علیحدگى انسان کے لئے بے شمارمشکلات پیداکرسکتى ہے چاہے انسان سياسى اعتبارسے اس علیحدگى پرمجبورہو ياجذباتى اعتبارسے قصدا مخالفت کرے اولياٴ اللہ بھى اپنے ازدواجى رشتوں سے پریشان رہے ہيں تواس کارازيہي تھا کہ ان پرسياسى اورتبلیغى اعتبارسے يہ فرض تھا کہ ایسى خواتین سے عقدکریں اوران مشکلات کاسامناکریں تاکہ دین خدافروغ حاصل کرسکے اورکارتبلیغ انجام پاسکے فطرت اپناکام بہرحال کررہى تھى يہ اوربات ہے کہ وہ شرعا ایسی ازدواج پرمجبوراورمامورتھے کہ ان کاايک مستقل فرض ہوتا ہے کہ تبلیغ دین کى راہ ميں زحمتیں برداشت کریں کہ يہ راستہ پھولوں کى وادی سے نہيں گذرتاہے بلکہ پرخارواديوںسے ہوکرگذرتاہے ۔

اس کے بعد قرآن حکیم نے ازدواجى تعلقات کومزيداستواربنانے کے لئے فریقین کى نئى ذمہ داريوں کااعلان کيااوريہ بات واضح کردی کہ صرف مودت اوررحمت سے بات تمام نہيں ہوجاتى ہے بلکہ کچھ اس کے خارجى تقاضے بھى ہيں جنھیں پوراکرناضروري ہے ورنہ قلبى مودت ورحمت بے ا ثرہوکررہ جائے گى اوراس کاکوئى نتيجہ حاصل نہ ہوگا ارشادہوتاہے :

ھن لباس لکم وانتم لباس لھن ۔(بقرہ 187) عورتیں تمہارےلئے لباس ہيں اورتم ان کے لئے لباس ہو

یعنى تمہارا خارجى اورمعاشرتى فرض يہ ہے کہ ان کے معاملات کى پردہ پوشى کرو اوران کے حالات کواسي طرح طشت ازبام نہ ہونے دوجس طرح لباس انسان کے عیوب کوواضح نہيں ہونے دیتاہے اس کے علاوہ تمہاراايک فرض يہ بھى ہے کہ انھیں سردوگرم زمانے سے بچاتے رہواوروہ تمہيں زمانے کى سردوگرم ہواؤں سے محفوظ رکھیں کہ يہ مختلف ہوائیں اورفضائیں  کسى بھى انسان کى زندگى کوخطرہ ميں ڈال سکتى ہيں اوراس کی جان اورآبروکوتباہ کرسکتى ہيں ۔

دوسري طرف ارشادہوتاہے :

نساء کم حرث لکم فاتواحرثکم انى شئتم (بقرہ)

تمہارى عورتیں تمہارى کھیتياں ہيں لہذا اپنى کھیتى ميں جب اورجس طرح چاہوآسکتے ہو (شرط يہ ہے کہ کھیتى بربادنہ ہونے پائے )



1 next