ازدواجي مشکلات اور ان کا حل



 

1963ءء ميں صرف ايک سال ميں امريکہ ميں ڈھائي لاکہ غير قانوني بچے پيدا ھوئے ۔(1)

امريکہ ميں اعداد و شمار کے مطابق 1969ء ميں اسکول کي اکثر لڑکياں عفت سے ھاتہ دھو چکي تھيں اور بے پناہ آزاد ھو گئي تھيں ۔(2)

جرمني ميں پچاس لاکہ لڑکيوں نے صرف اس بنا پر خود کشي کي کوشش کي کہ ان کو کوئي شوھر نھيں مل سکا تھا ۔(3)

اس طرح کے واقعات ( جس سے ھندوستان بھي محفوظ نھيں ہے اخبارات ھر روز اس طرح کي خبروں سے بھرے ھوتے ھيں ) اس بات کي سند ھيں کہ مغربي تھذيب و تمدن کس قدر پست ہے اور بے عفتي ، بے پناہ آزادي ، بے حيائي ، اخلاقي گراوٹ وغيرہ سب اسي تمدن کے نتائج ھيں ۔

يہ بات واضح ہے کہ شادي کي راہ ميں جو رکاوٹيں ھيں اگر ان کو بر طرف کر ديا جائے اور لڑکے اور لڑکيوں کي شادي کے وسائل جلد فراھم کر ديئے جائيں تو اس طرح کے شرم آورواقعات ميں کافي حد تک کمي ھو جائے گي ۔ اس سلسلہ ميں مغربي دانشور بھي متفکر نظر آتے ھيں ،انھوں نے يہ درک کر ليا ہے کہ اس سلسلہ ميں صحيح راستہ وھي ہے جو اسلام نے پيش کيا ہے ۔

 ويل ڈورانٹ کا کھنا ہے : ” اگر ايسي صورت نکل آئے کہ شادياں فطري عمر ميں ھو جائيں تو فحشاء ، خطرناک بيمارياں ، بے نتيجہ تنھائياں ، انحرافات وغيرہ جنھوں نے زندگي کو داغدار کر ديا ہے نصف حد تک کم واقع ھو سکتے ھيں۔(4)

شادي کي مشکلات

 اقتصادي مشکل

 آج کي دنيا ميں جنسي بلوغ اور اقتصادي بلوغ ميں کافي فاصلہ ہے اسي بنا پر جوانوں کو شادي سے وحشت ھوتي ہے اور شادي ھوّا معلوم ھوتي ہے اقتصادي مشکلات جوانوں کو اس بات پر مجبو ر کرتي ھيں کہ وہ جلدي شادي نہ کريں جس کي بنا پر شھوت کے شعلے بھڑکنے لگتے ھيں اور فساد کا ميدان ھموار ھونے لگتا ہے ۔

اس بنا پر جوانوں کو چاھئے کہ وہ زندگي ميں اپني توقعات ذرا کم کريں انھيں يہ سمجھنا چاھئے کہ ابتدائے جواني ميں کسي کي بھي ساري ضرورتيں پوري نھيں ھوتي ھيں ۔ زندگي کي حقيقت پر نظر رکھتے ھوئے بے جا تکلفات سے اپنے کو آزاد کرائيں اور دوسروں کي ديکھا ديکھي اندھي تقليد سے باز رھيں ۔ جب انھيں يہ احساس ھو جائے کہ زندگي کي بنيادي ضرورتيں اور شرائط موجود ھيں تو شادي کے لئے اقدام کردينا چاھئے ۔

قرآن کريم کا ارشاد ہے :

 ” غير شادي شدہ لڑکے اور لڑکيوں کي شادي کے وسائل فراھم کرو ۔ اگر وہ تنگ دست ھوں گے تو خدا اپنے فضل و کرم سے ان کو غني کر دے گا “(5)



1 next