رسم و رواج سے پاک ازدواج



 

 

 ایک راستہ یہ بھی ہے کہ دوران تعلیم عقد کر لیں اور تعلیم کی تکمیل کے بعد بقیہ مراسم انجام دیں تاکہ اس مدت میں جنسی کشش کی طغیانیوں سے محفوظ رھیں ۔

ازدواج موقّت

 وہ لوگ جو مستقل طور سے شادی نھیں کر سکتے اور نہ صرف عقد پر اکتفا کر سکتے ھیں ان کے لئے اسلام نے وقتی شادی ( متعہ ) کا اہتمام کیا ہے ۔

جوانوں کی عفت کو باقی اور ان کی پرھیز گاری کو بر قرار رکھنے کے لئے اسلام نے ایک اور آسان شادی پیش کی ہے جس کو متعہ کھا جاتا ہے جس میں مدت معین کی جاتی ہے ۔ اس شادی سے انسان اخلاقی گراوٹ سے محفوظ رہ سکتا ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

” اگر عمر متعہ کو حرام نہ کرتے تو نھایت درجہ بد بخت کے علاوہ کوئی اور بد کاری نہ کرتا “ (1)

 مغربی دنیا کے وہ دانشور حضرات جو اپنے سماج کی بربادی سے متاثر ھیں اور رنجیدہ و غمگین ھیں وہ بھی اسلام کے اس قانون کو تسلیم کر تے ھیں ۔

برٹرانڈرسل ، جوانی کے زمانے کی جنسی مشکلات کی تحقیق کرنے کے بعد لکھتا ہے :” اس مشکل کا صحیح حل یہ ہے کہ شھری قوانین میں عمر کے اس حساس حصہ کے لئے وقتی شادی کو جگہ دی جائے جس میں عائلی زندگی کی طرح اخراجات کا بار نہ ھو تاکہ جوانوں کو مختلف غیر قانونی اور نا جائز کاموں سے روکا جا سکے اور طرح طرح کی روحانی و جسمانی بیماریوں سے بچایا جا سکے “

جوان لڑکے ۔لڑکیوں کو چاھئے کہ شادی سے پھلے ھوشیار اور بیدار رھیں تاکہ یہ جنسی کشش ان کی آزادی اور اختیار کو سلب کر کے انھیں خواھشات کا غلام نہ بنا دے ۔

 جوانوں کو پھلے اس بات کی کوشش کرنا چاھئے کہ خدا کی ذات سے مدد حاصل کرتے ھوئے تقویٰ اور پرھیز گاری کو مستحکم کریں کیونکہ پاکدامنی کے لئے باطنی تقویٰ نھایت ضروری ہے کیونکہ اگر جوان میں تقویٰ کی طاقت نہ ھو گی تو شادی کے بعد بھی شیطانی خواھشات اس کو منحرف کر دے گی اور اس کے دامن کردار کو داغدار کر دے گی ۔

 مولائے کائنات حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے :

” قبل اس کے کہ نفسانی خواھشات قوی ھوں ان پر غالب آجاؤ کیونکہ اگر وہ طاقتور ھو گئیں تو تم پرحکومت کریں گی اور تم کو پستیوں تک کھینچ لے جائیں گی پھر تم میں ان کے مقابلہ کی طاقت باقی نھیں رہ جائے گی “(2)

حضرتعلیہ السلام نے یہ بھی ارشاد فرمایا :



1 next