عورت کی حیثیت



 

عورت کى حيثيت اور اس کا مقام :

ومن آياتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا اليھاوجعل بينکم مودۃورحمۃ(روم21)

          اس کى نشانيوں ميں سے ايک يہ ہے کہ اس نے تمہاراجوڑاتمھيں ميں سے پيداکياہے تاکہ تمھيں اس سے سکون زندگى حاصل ہو اورپھرتمہارے درميان محبت اوررحمت کا جذبہ بھى قراردياہے ۔

آيت کريمہ ميں دو اہم باتوں کى طرف اشارہ کياگياہے:

1۔ عورت عالم انسانيت ہى کاايک حصہ ہے اوراسے مردکاجوڑابنایاگياہے ۔اس کى حيثيت مرد سے کمترنہيں ہے۔

2۔ عورت کامقصدوجودمرد کى خدمت نہيں ہے ،مردکاسکون زندگى ہے اورمردوعورت کے درميان طرفينى محبت اوررحمت ضروى ہے يہ يکطرفہ معاملہ نہيں ہے۔

ولھن مثل الذى عليھن بالمعروف وللرجال عليھن درجۃ بقرہ ( 228)

عورتوں کے ليے ويسے ہى حقوق ہيں جيسے ان کے ذمہ فرائض ہيں امردوں کوان کے اوپرايک درجہ اورحاصل ہے ۔

يہ درجہ حاکميت مطلقہ کانہيں ہے بلکہ ذمہ دارى کاہےم کہ مردوں کى ساخت ميں يہ صلاحيت رکھى گئى ہے کہ وہ عورتوں کى ذمہ دارى سنبھال سکيں اوراسى بناانھيں نان ونفقہ اوراخراجات کاذمہ داربناگياہے ۔

فاستجاب لھم ربھم انى لااضيع عمل عامل منکم من ذکراوانثى بعضکم من بعض (آل عمران 195)

تواللہ نے ان کى دعاکوقبول کرليا کہ ہم کسى عمل کرنے والے کے عمل کوضائع نہيں کرنا چاہتے چاہے وہ مردہوياعورت ،تم ميں بعض بعض سے ہے



1 2 next