او لواالعزم انبياء (ع)



انبیاء (ع) سے متعلق ایک بحث یہ ھے کہ کیا تمام انبیا ء (ع)کی رسالت ساری دنیا کے لئے عمومی رسالت تھی یا ھر نبی ایک خاص گروہ کے لئے بھیجا گیا ھے ۔ اس مسئلہ کے جواب میں  مفسر ین میں اختلاف پا یا جاتا ھے پھر بھی مندرجہ ذیل دو با توں پر سب کا اتفاق ھے :

۱۔ تقر یباً تمام مفسر ین کا اس بات پر اتفاق ھے کہ تمام انبیاء (ع)کی رسالت عا لمی رسالت نھیں تھی ۔ دوسرے لفظو ں میں کم از کم بعض انبیا ء (ع) کی رسالت ایک مخصوص قوم تک محدود تھی ۔

۲۔بعض سمجھ افراد نے جس شبھہ کا اظھار کیا ھے اس سے صرف نظر کرتے ھوئے سب کا اس بات پر اتفاق ھے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)تمام دنیا والوں کیلئے رسول بنا کر بھیجے گئے ھیں اور آپ کی رسالت کسی خاص قوم سے مخصوص نھیں ھے ۔

علاّمہ طباطبائی (رح)نے قرآن کریم کی آیات سے استفادہ کرتے ھوئے کھا ھے کہ انبیاء علیھم السلام کے در میان سے پا نچ پیغمبر صا حبِ شریعت اور آسمانی کتاب یا صحیفے اور اجتما عی احکام لیکر آئے ھیں ۔ وہ پا نچ انبیاء (ع)حضرتِ نو ح  (ع)، حضرتِ ابرا ھیم (ع) ، حضر ت مو سیٰ (ع) ، حضرت عیسیٰ (ع) ، اور حضر ت محمد مصطفیٰ (ص)ھیں ۔ ان ھی پا نچوں حضرات کو قر آن کریم نے او لو االعزم پیغمبر (ص)کے   نا م سے یا د کیا ھے۔

قرآن کریم میں ارشاد ھو تا ھے :

<فَا صْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ۔۔۔>[1]

” پس ( اے رسول ) جس طرح اولواالعزم( عالی ھمت ) انبیاء صبر کر تے رھے تم بھی صبر کرو “

علامہ طبا طبائی کی نظر میں یہ پانچ او لو االعزم پیغمبر وہ ھیں جن میں ھر ایک مند رجہ بالا خصو صیات کے علاوہ اپنے زمانہ میں پوری دنیا کے لئے رسول رھا ھے اور ان کی دعوت کسی خاص گروہ سے مخصو ص نھیں رھی ھے اس کے بر خلاف بقیہ تمام انبیا ء علیھم السلام میں جو ایک مخصو ص گرو ہ کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے ھیں ۔ علامہ طبا طبا ئی رحمةالله علیہ نے مند ر جہ بالا دعوے کو ثابت کر نے کے لئے قرآنِ کریم کی آیات شا ھد میں پیش کی ھیں ۔ [2] یھا ں یہ با ت بھی قا بلِ ذکر ھے کہ ان پانچ افراد کو بعض روا یتو ں میں بھی او لو االعزم انبیاء (ع) کے نا م سے یا د کیا گیا ھے ۔ اور ان کی خصو صیات بیان کی گئی ھیں[3]

کیا اولو ا العزم انبیا ء (ع)ھی صا حبا نِ کتاب و شریعت ھیں ؟

جیسا کہ بیان کیا گیا اس میں کو ئی شک نھیں کہ انبیاء (ع)کے ایک گرو ہ کو قر آن کریم نے اولو ا العزم انبیاء (ع)کے نا م سے یا د کیا ھے ۔ اور سوره احقا ف میں<فَا صْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوْاالْعَزْمِ مِنَ الرُّ سُلِ >اس مسئلے پر واضح طور سے دلا لت کر تی ھے ۔ لیکن کسی بھی قطعی دلیل کے ذریعہ پتہ نھیں چلتا کہ یہ او لوا العزم انبیاء علیھم السلام کو ن سے انبیاء(ع)ھیں ؟ آیا یہ او لو ا العزم ا  نبیا ء وھی ا  نبیا (ع)ھیں کہ جن پر آسمانی کتا بیں نا زل ھو ئی ھیں ؟ یا او لو االعزم ا  نبیاء (ع)سے مراد رسو لو ں کا وہ گروہ ھے جو صا حبِ شریعت ھے ؟ یہ وہ سوا لات ھیں جن کے جوا بات کے لئے ھما رے پاس کو ئی قطعی دلیل نھیں ھے ۔ دو سرے الفاظ میں قر آن کریم کی کوئی آیت یا توا تر کے ساتھ منقو ل کو ئی بھی روایت ایسی نقل نھیں ھو ئی ھے جس سے یہ معلوم ھو تا ھو کہ صرف پانچ انبیاء (ع) ( یعنی حضرت نوح(ع)، حضرت ابرا ھیم  (ع) ، حضرت مو سیٰ  (ع) ، حضرت عیسیٰ (ع) اور حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)) ھی صا حبا ن کتاب و شریعت ھو ئے ھیں ۔البتہ جیسا کہ ھم پھلے اشا رہ کر چکے ھیں بعض روایات سے یہ پتہ چلتا ھے کہ او لو االعز م انبیاء علیھم السلام صرف یھی پانچ ا  نبیاء (ع)ھیں ۔ لیکن یہ  روا یات حدّ توا تر تک نھیں پھو نچتیں اس بنا پر ان کو دلیل ظنی شما ر کیا جاتا ھے دلیل قطعی نھیں ھے ۔ ان مطالب سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا تا ھے کہ اگر ھم کو کو ئی ایسی آیت یا روایت ملے جو اس چیز پر دلالت کر ے کہ او لو االعزم ا نبیاء (ع)صا حبا نِ کتاب و شریعت ان پانچ انبیا ء (ع) سے زیا دہ ھیں تو وہ دلیل کسی معا رض کے بغیر قا بل قبول ھو گی اور اس کے مطالب کی تصدیق کی جا سکتی ھے ۔ بھر حال اس وقت یھی کھا جا سکتا ھے کہ صا حبا نِ کتاب و شریعت ا نبیاء(ع) کوان پا نچ انبیا ء(ع)میں منحصر کر نادلیلِ ظنی کے تحت ھے اور اس کا اظھا ر صرف بعض روایات سے ھو تا ھے ۔ 



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 next