نبوت صحيحين کی روشنی ميں



تالیف: محمد صادق نجمی
محمد منیر خان
انبیاء کرام (ع)  قرآن کی نظر میں
[1]

نبوت اور شائستگی:

 نبوت اور رسالت وہ منصب ھے جس کا بشری فکر سے قیاس نھیں کیا جاسکتا ، یعنی اس منصب کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ھے کہ انسان اخلاقی ،عقلانی اور روحانی اعتبار سے اپنے  آپ کو کمال تک نہ پہنچائے تب تک اس مرحلہ تک نھیں پهونچ سکتاھے،لہٰذا اگر کوئی انسانی کما ل کے مرحلہ تک نھیں پهونچا هو تو وہ اس آسمانی مقام اور منصب الہٰی کاحامل نھیں هو سکتا ،چنانچہ قرآ ن مجید کی متعدد آیات کے ضمن میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا  ھے، اور قرآن میں واضح طور پر بیان کیا گیا  ھے کہ انبیاء کرام کمال انسانی کے آخری مرحلے پر فائز تھے، اسی طرح ان کے اور بالخصوص آنحضرت (ص) کے خصوصیا ت اور امتیا زات کا ذکر کیا گیا  ھے، چنانچہ قرآن مجید کی جن آیا  ت میں شناخت ِ نبوت سے متعلق خدا وند متعال نے رہنمائی فرمائی ھے ان میں سے ھم چند آیا ت کو ذیل میں قلمبند کرتے ھیں :

۱۔< اَللّٰہُ یَصْطَفِی مِنَ المَلآَئِکَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاس۔۔۔>[2]

ترجمہ :۔” خدافرشتوں میں سے بعض کو اپنے احکام پهونچانے کے لئے منتخب کر لیتا ھے،اور اسی طرح آدمیوں میں سے بھی۔ “ اس آیت سے استفادہ هوتا ھے کہ انبیاء کرام (ع)  صفوت و نجابت کے اعتبار سے تمام انسانوں سے برگزیدہ افراد ھیں اسی وجہ سے خدا نے انھیں عھدہٴ رسالت سے سرفراز فرماکر اپنے پیغام کا امین بنایا ھے۔

۲۔<۔اَللّٰہ اَعْلمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ۔>[3]

ترجمہ:۔اللہ زیادہ بہتر جانتا ھے کہ منصب ِ رسالت کھاں قرار دے۔

اس آیت سے استفادہ هوتا ھے کہ انبیاء کرام عظمت ، قوت روح ، صفائے نفس، شجاعت، معارف الھی، خدا شناسی ا ور تمام اخلاقی مسائل کے اعتبار سے اس قدر بلند تھے کہ خدا نے ان کو اپنی رسالت کی جائگاہ قرار دیا، اور انھیںسعادت ، انسانیت، ھدایت اورمعرفت کا مرجع بنایا۔

پس اگر انبیا ء کرام میں یہ لیاقت پھلے سے نہ پائی جاتی تو خدا ھرگز اپنی امانت ِ رسالت ، نبوت اور ھدایت ان کو سپرد نہ کرتا ،لہٰذا خدا کا ان حضرات کو تاج رسالت و نبوت سے سرفراز کرنا اس بات کی دلیل ھے کہ یہ پھلے سے رذائل و خباثت سے دور تھے ،چنانچہ قوم ثمود کی جناب صالح(ع)  سے مندرجہ ذیل گفتگو ھماری اس بات کی تائید کرتی ھے:

۳۔<قا لوا یَاصَالِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ہٰذَاْ۔>[4]

ترجمہ :۔وہ لوگ کہنے لگے :اے صالح! اس کے پھلے تو تم سے ھماری امیدیں وابستہ تھیں۔ چونکہ قوم ثمود پھلے سے جناب صالح نبی (ع) کے رشد وکمال سے واقف تھی ، لہٰذا وہ انتظار اس بات کا کررھی تھی کہ جنا ب صالح آئندہ ان لوگوں کو شاھراہ ترقی پر گامزن کریں گے ، اور اجتماعی خدمت سے اپنی قوم کو آگے بڑھائیں گے ،اور ان کی رھبری کی باگ ڈور سنبھال لیں گے۔

پس یہ آیت بیّن دلیل ھے کہ انبیاء کرام قبل ِ بعثت اپنی اقوام و عشیرہ(قوم و قبیلہ) کے درمیان ایک خاص اخلاقی امتیا ز او ر محیط زندگی کے مالک تھے، اور ان کو لوگ ایک عاد ی فرد کی حیثیت سے نہ دیکھتے تھے، یھی شیوہ ٴاخلاقی وآمادگی یعنی پرستش و عبادت الٰھی سبب بنی کہ لوگ آپ سے کچھ زیادہ ھی انتظار رکھتے تھے، اور اپنی اس بات کا اظھار اس جملہ سے کیا: <قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوّاً قَبْلَ ہَٰذَا>چنانچہ پھلے سے انبیاء کا منصب ِ نبوت کے لئے آمادہ اور شائستہ هونا سبب هوا کہ جب آپ کو دعوت ِ حق کا حکم ملاتو جو لوگ سرکش اور ضدی مزاج نہ تھے انهوں نے پھلی ھی مرتبہ میں آپ کی بات مان لی ،اور آپ کے حکم پر کمر بستہ هو کر میدان عمل میں آگئے( رسول اکرم(ص) کی زندگی کو اس کے لئے شاھد مثال کے طور پیش کیا جاسکتا ھے)۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 next