فلسفه حج اور اتحاد بين المسلمين



تمام تعریفیں اس ذات بے ھمتا سے مخصوص ھیں جو کریم ھے اور رحیم ۔جس نے اپنے حبیب محمد کو مصطفیٰ  بنا کر مبعوث بہ ر سالت فرمایا اور ان کے دین کو --(ان الدین عند اللہ الاسلام)کی بے نظیر سند سے نوازا ۔یہ سند شرف ،فضیلت، کرامت،عزت ،اخوت اور وحدت کی سند ھے ،جس کے زیر سایہ آکرفرزندان توحید سر فرازی کے ساتھ یہ نعرہ بلند کرتے ھےں کہ ”ھم مسلمان ھیں “۔یہ نعرہ وہ قرآنی نعرہ ھے جس کی تعلیم خود خدائے منان نے مسلمانوں کو دی ھے (وانّ ھذہ امتکم امةًواحدة وانا ربّکم فاتقون)۔(۱)یہ شعار وھی قرآنی شعار ھے جس کی آغوش عطوفت میں مسلمانوں کی اخوت پروان چڑھی ھے( انما المؤمنون اخوة)۔(۲)

اگر مسلمانان عالم کے درمیان شمع اخوت و وحدت فروزاں رھے گی، تو یقیناان کے اردگرد پروانہ عزت وکرامت کا طواف ھوگا اور اگر ان کی مختصر سی غفلت کی وجہ سے یہ شمع وحدت بجھی، تو پروانۂ عزت بیگانہ چراغ کی طرف رخ کرلے گا ۔ اسی وجہ سے قرآن مجید نے مسلمانوں کو صدر اسلام میں ھی ھوشیار کر دیا کہ (یا ایھاالذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ ولا تموتنّ الاّوانتم مسلمون واعتصموا بحبل اللہ جمیعاًولا تفرقوا)۔(۳)

”اے ایمان والو !خدا کا ایسا تقویٰ اختیار کرو جو اس کے تقوے کا حق ھے اور موت کو گلے نہ لگاو مگر یہ کہ حالت اسلام میںاور خدا کی رسّی کو تھام لو اور تفرقہ نہ کرو “

خدائے واحد، قرآن مجید میں مسلمانوں کی وحدت کے علل واسباب کو اپنی طرف منسوب کر رھا ھے اور پیغمبر اسلام   کو اس بات سے آگاہ کررھاھے کہ اے رسول!اگر صرف اور صرف آپ یہ چاھتے کہ ان لوگوں کے قلوب میں بذر اتحاد بو دیں، تو تمام وسائل و اسباب اور دولت و ثروت کے باوجود بھی یہ کام آپ کے بس میں نہ تھا(والّف بین قلوبھم لو انفقت ما فی الارض جمیعاًما الفت بین قلوبھم ولکن اللہ الّف بینھم انّہ عزیز حکیم)(۴)

”اور ان کے دلوں میں محبت پیدا کر دی ھے کہ اگر آپ ساری دنیا خرچ کر دیتے تو بھی ان کے دلوں میں باھمی الفت پیدا نھیں کر سکتے تھے لیکن خدا نے یہ الفت اور محبت پیدا کر دی ھے کہ وہ ھر شئی پر غالب اور صاحب حکمت ھے“۔

اسی وجہ سے پیغمبر اسلام  نے خداوند عالم کے لطف و کرم کے نتیجہ میں مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت پڑھا اور امت مسلمہ کے ما بین ایک الھی رابطہ قائم کر دیا ۔ مسلمان بھی اس گرانقدر رابطہ میں خود کو گرہ لگا کر توحید ،نبوت ،معاد،قرآن اور کعبہ کے مشترک عقیدہ پر گامزن ھو گئے، جس کی وجہ سے انکی وحدت شھرہ آفاق بن گئی اور ان کی ھےبت سے مرکز کفر کانپ اٹھا۔

قرآن میں اتحاد کی قسمیں

 قرآن مجید نے اتحاد کو چند قسموں میں تقسیم کیا ھے:

(۱)امت کا اتحاد :(انّ ھذہ امتکم امة واحدة وانا ربکم فاعبدون)(۵)      

”بے شک یہ تمھارادین ایک ھی دین اسلام ھے اور میں تم سب کا پروردگار ھوں لھذا میری ھی عبادت کیا کرو۔“



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 next