حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا قم المقدس ميں ورود اوراستقبال



 

حضرت معصومہ (س)

حضرت معصومہ (س) پہلي ذيقعدہ سنہ 173ھ۔ق۔ مدينہ منورہ ميں پيدا ہوئيں حضرت معصومہ (س) کے والد گرامي شيعوں کے ساتويں امام موسي کاظم(ع) ہيں اور ان کي والدہ ماجدہ جناب نجمہ خاتون ہيں جب امام رضا(ع)  پيدا ہوئے تو ان کي والدہ کو طاھرہ کے نام سے بلايا گيا پہلي ذيقعدہ کا دن امام رضا(ع)  کيلئے بہت بڑادن تھا اور اس دن بڑي انتظار کا خاتمہ ہوا اس لئے کہ جناب نجمہ خاتون کے ايک ہي فرزند جناب امام رضا(ع)  تھے اور وہ بہت عرصے تک صاحب اولاد نہ ہوئيں اس لئے کہ جناب امام رضا(ع)  سنہ 148ھ۔ ق۔ ميں پيدا ہوئے ليکن جناب معصومہ(س)   173ھ۔ق۔ پيدا ہوئيں يعني 25سال کہ  فاصلے کہ بعداور امام موسي کاظم(ع)  کي اولاد ميں سے کوئي بھي ہم مرتبہ امام رضا(ع)  نہيں تھا تا کہ  امام(ع)  برادرانہ محبت کا واضح اظہار کرسکيں لہذا جب حضرت معصومہ(س)  پيدا ہوئيں تو امام رضا (ع) کو ايک بڑي عظمتوں والي بہن مل گئي دنيا ميں بہت سے ايسے بہن بھائي ہيں جو ايک دوسرے کو جان سے زيادہ دوست رکھتےتھے سب سے بڑا نمونہ جناب زينب(س)  اور امام حسين (ع)   اور اس کے بعد جناب معصومہ(س)  اور امام رضا (ع)   کا ہے

جب مامون نےامام رضا(ع) کو سنہ 200 ھ۔ق۔ ميں مدينے سے بلايا توحضرت معصومہ(س)  نےايک سال تک اپنے بھائي کي دوري برداشت کي  ليکن ايک سال  کے بعد تاب تحمل نہ رہا اوراپنے بھائي کے ديدار کيلئے مدينہ طيبہ کو ترک کيا اور مرو کي طرف روانہ ہوئيں  اس سفر ميں حضرت معصومہ کے پانچ بھائي ' فضل، جعفر، ہادي، قاسم اور زيد اور کچھ بھتيجے اور چند غلام اور کنيزيں ان کے ہمراہ تھے

حضرت معصومہ(س)  کي بيماري 

جب حضرت معصومہ(س)  ساوہ پہونچيں تو اہل بيت رسول اکرم کے دشمن مامون کے حکم سے ان کے راستے پر کھڑے ہو گئے اور اس کاروان کے اکثر مردوں کو شہيد کرديا

 حضرت معصومہ(س)  شدت غم اور بعض روايات ميں ہے کہ مسموميت کے بنا پر بيمار ہوگئيں اور ان ميں تاب سفر نہ رہا

حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا قم المقدس ميں ورود اوراستقبال

23ربيع الاول سنہ 201ھ۔ق۔ کا وہ مبارک اور مسعود دن ہے جب جناب معصومہ(س)  قم ميں وارد ہوئيں اور شہر قم کے سب مرد اور عورتيں ، بچے اور بوڑھے  ان کے والہانہ استقبال کيلئے  جمع ہوئے  جناب معصومہ (س) کي سواري موسي بن خزرج کے دروازے پر رک گئي اورموسي بن خزرج کو يہ توفيق نصيب ہوئي کہ وہ 17 دن تک جناب معصومہ(س)  کے ميزبان رہے