حضرت محمد مصطفي(ص) کي ولادت با سعادت کے وقت حيرت انگيزواقعات کاظہور



 

آپ کي تاريخ ولادت

آپ کي تاريخ ولادت ميں اختلاف ہے علامہ مجلسي عليہ الرحمہ حيات القلوب ج ۲ ص ۴۴ ميں تحريرفرماتے ہيں کہ علماء اماميہ کااس پراجماع واتفاق ہے کہ آپ ۱۷ ربيع الاول ۱ عام الفيل يوم جمعہ بوقت شب يابوقت صبح صادق”شعب ابي طالب“ ميں پيداہوئے ہيں، اس وقت انوشيرواں کسري کي حکومت کابياليسواں سال تھا بعض مسلمان ۲ ربيع الاول بعض ۶ ربيع الاول اکثراہل تسنن 12 ربيع الاول  ۱ عام الفيل مطابق ۵۷۰ کوصحيح سمجھتے ہيں اور 

          آپ کي ولادت سے متعلق بہت سے ايسے اموررونماہوئے جوحيرت انگيزہيں مثلاآپ کي والدہ ماجدہ کوبارحمل محسوس نہيں ہوااوروہ ولادت کے وقت کثافتون سے پاک تھيں، آپ مختون اورناف بريدہ تھے آپ کے ظہورفرماتے ہي آپ کے جسم سے ايک ايسانورساطع ہواجس سے ساري دنياروشن ہوگئي، آپ نے پيداہوتے ہي دونوں ہاتھوں کوزمين پرٹيک کرسجدہ خالق اداکيا پھرآسمان کي طرف سربلندکرکے تکبير کہي اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاري کيا، بروايت ابن واضح المتوفي ۲۹۲ ھء شيطان کورجم کياگيااوراس کاآسمان پرجانابندہوگيا، ستارے مسلسل ٹوٹنے لگے تمام دنياميں ايسازلزلہ آياکہ تمام دنياکے کنيسے اورديگر غيراللہ کي عبادت کرنے کے مقامات منہدم ہوگئے ، جادواورکہانت کے ماہراپني عقليں کھوبيٹھے اوران کے موکل محبوس ہوگئے ايسے ستارے آسمان پرنکل آئے جنہيں کسي نے کبھي نہ ديکھاتھا ساوہ کا دريا خشک ہوگيا وادي سماوہ جوشام ميں ہے اورہزارسال سے خشک پڑي تھي اس ميں پاني جاري ہوگيا، دجلہ ميں اس قدرطغياني ہوئي کہ اس کاپاني تمام علاقوں ميں پھيل گيا کاخ کسري ميں پاني بھر گيااورايسازلزلہ آياکہ ايوان کسري کے ۱۴ کنگرے زمين پرگرپڑے اورطاق کسري شگافتہ ہوگيا، اورفارس کي وہ آگ جوايک ہزارسال سے مسلسل روشن تھي، فورابجھ گئي۔(تاريخ اشاعت اسلام ديوبندي ۲۱۸ طبع لاہور)

          اسي رات کوفارس کے عظيم عالم نے جسے (موبذان موبذ)کہتے تھے، خواب ميں ديکھاکہ تندوسرکش اوروحشي اونٹ، عربي گھوڑوں کوکھينچ رہے ہيں اورانہيں بلادفارس ميں متفرق کررہے ہيں، اس نے اس خواب کابادشاہ سے ذکرکيا۔ بادشاہ نوشيرواں کسري نے ايک قاصدکے ذريعہ سے اپنے حيرہ کے گورنرنعمان بن منذرکوکہلابھيجاکہ ہمارے عالم نے ايک عجيب وغريب خواب ديکھاہے توکسي ايسے عقلمنداور ہوشيار شخص کوميرے پاس بھيج دے جواس کي اطمينان بخش تعبيردے کر مجھے مطمئن کرسکے نعمان بن منذرنے عبدالمسيح بن عمرالغسافي کوجوبہت لائق تھابادشاہ کے پاس بھيج ديانوشيروان نے عبدالمسيح سے تمام واقعات بيان کئے اوراس سے تعبير کي خواہش کي اس نے بڑے غوروخوض کے بعد عرض کي”اے بادشاہ شام ميں ميراماموں ”سطيح کاہي“ رہتاہے وہ اس فن کابہت بڑاعالم ہے وہ صحيح جواب دے سکتاہے اوراس خواب کي تعبيربتاسکتاہے نوشيرواں نے عبدالمسيح کوحکم دياکہ فوراشام چلاجائے چنانچہ روانہ ہوکر دمشق پہنچااوربروابت ابن واضح ”باب جابيہ“ ميں اس سے اس وقت ملاجب کہ وہ عالم احتضارميں تھا، عبدالمسيح نے کان ميں چيخ کراپنامدعا بيان کيا۔ اس نے کہاکہ ايک عظيم ہستي دنياميں آچکي ہے جب نوشيرواں کي نسل کے 14 مردوزن حکمران کنگروں کے عدد کے مطابق حکومت کرچکيں گے تويہ ملک اس خاندان سے نکل جائے گا ثم” فاضت نفسہ“ يہ کہہ کر وہ مرگيا۔(روضہ الاحباب ج 1 ص ۵۶ ،سيرت حلبيہ ج ۱ ص ۸۳ ، حيات القلوب ج ۲ ص ۴۶ ، اليعقوبي ص ۹) ۔