عصر حاضر کے تناظر میں مسلمانوں کا مستقبل



 

اللّھمّ انّا نرغب الیک فی دولةکریمة تعز بھا الاسلام واھلہ وتذلّ بھا النفاق واہلہ

 جس موضوع کے سلسلہ میں مجھے آپ حضرات کی خدمت میں اپنے معروضات پیش کرناہیں وہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے سر انجام اور انکی عاقبت سے عبارت ہے۔ ہم آج کی اپنی گفتگو میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا ؟ انکی آنے والی تاریخ کس طرح رقم کی جائے گی ؟آیا عالم اسلام اورمسلمانوں کے مستقبل کے سلسلہ میں کوئی نظریہ دیا جا سکتا ہے کہ آئندہ کیا ہوگا ؟ آیا ہم اس موضوع (حالات حاضرہ کے تناظر میں مسلمانوں کا مستقبل ) کے مختلف جوانب کا  جائزہ لے سکتے ہیں؟ اگر یہ امر ممکن ہے تو سوال یہ ہے کہ انکا مستقبل کیسا ہوگا ؟دنیا میں کوئی بھی مکتب فکر ہو اسکے اپنے نظریات ہوتے ہیں، اپنے مقاصد اور اپنا طرز تفکرہوتا ہے چاہے وہ مادی مکاتب فکر ہوں یا الٰہی طرز تفکر رکھنے والے مکاتب ۔مکاتب الٰہی کے درمیان وہ شریعتیں کہ جو ایک عالمی اعتبار کی حامل ہیںباالخصوص شریعت اسلام ،بشریت اور تاریخ  کے لئے ایک خوش آئند مستقبل کی نوید دے رہی ہیں ۔ دیگر مکاتب بھی اس سلسلہ میں کہنے کے لئے کوئی نہ کوئی بات رکھتے ہیں۔ غیر الٰہی مکاتب فکر بھی اس سلسلہ میں فکر مندنظر آتے ہیں اور پس وپیش کا شکار ہیں حتی مغربی سیاست کے ماہرین بھی مغربی صاحبان نظر کے نظریات کی بنیاد پر کسی طرح ایک حد تک دنیا کے مستقبل کی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

مختلف مکاتب کے درمیان آئندہ کے سلسلہ میں پیشین گوئی اپنے اندر کچھ مشترکات رکھتی ہے۔ ان تمام مکاتب کے درمیان سب سے پہلا نقطہٴ اشتراک یہ ہے کہ مستقبل ،حال اورماضی سے بہتر ہوگا ۔سب کے سب ایسے راستہ کی نشاندہی کرنے کی جدو جہد میں مشغول ہیں کہ جو اقدار ،شرافت انسانی، آزادی ، انسانیت ، عدالت اور مساوات پر جا کرختم ہوتا ہے لیکن ان سارے فضائل اور خوبیوں کی تشریح ہر مکتب فکر نے اپنے خاص انداز اور اپنی مخصوص زبان میں کی ہے۔ الٰہی مکاتب نے فکر انسانی کے ارتقاء کے لئے کچھ ایسے افق پیش کئے ہیںکہ جن کے خطوط مادہ پرستی کے نقطئہ نظر سے جدا ہیں۔

ایک ایسا مشترک عنصر کہ جس پر سب کے سب مکاتبِ فکر متفق ہیں وہ تاریخ کا اختتام اور زمانے کا خاتمہ ہے یعنی آخری زمانہ ۔تاریخ کے تدریجی مراحل یکے بعد دیگرے انجام پائیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے سر انجام کو پہونچے گی اور ہم جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ ہمیں آخرالزمان میں ملے گی ۔یہ باتیں اس بات کی علامت ہیں کہ گویا مکاتب غیر الٰہی نے کچھ باتوں کو الٰہی مکاتب فکر سے اخذ کیا ہے کیونکہ اس طرح کی گفتگو انکے بس کا نہیں، وہ ان باتوں کو جانتے ہی نہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ لوگوں نے ان اچھی باتوں کو قبول کیوں نہیں کیا ؟ شاید اسکی وجہ یہ رہی ہو کہ لوگوں نے جانا ہی نہیں کہ انبیائے الہٰی کیا کہنا چاہتے تھے؟ انکا مقصد کیا تھا؟،وہ لوگ جہالت کے درد میں مبتلا تھے، درد ظلمت سے کراہ رہے تھے ۔بعض لوگ ایسے بھی تھے جو سب کچھ سمجھنے کے باوجود بھی راہ راست پر نہیں آئے اور انہوں نے انکار کیا ۔

ایک نا قابل انکار حقیقت

”جحدوا بھا واشتیقنتھا انفسھم “ کچھ لوگ قرآن کی اس آیت میں شک کرتے ہیں جبکہ یہ ناقابل انکار حقیقت ہے۔ ان لوگوں نے انبیاء کی باتوںکے معترف ہونے کے بعد بھی ان کا انکار کیا۔ ہم اپنے اس سوال کا جوا ب قرآن سے لیتے ہیں کہ فرماتا ہے :”بل یرید الانسان ان یفجر امامہ “انسان چاہتا ہے کہ اس پر کوئی پابندی نہ ہو، وہ آزاد رہے، وہ چاہتا ہے اپنی شہوات اور نفسانی مطالبات کو پورا کرے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ اسکے نفسانی خواہشات انبیاء کی تعلیم کے منافی ہیں تو طغیانی کرتا ہے، ضدّی بن جاتا ہے، طوطا چشمی اختیار کرتا ہے ۔جواب بالکل واضح ہے کہ انسان جب بھی اپنی فطرت پر پلٹتا ہے تو اس نتیجہ پر پہونچتا ہے کی انبیاء علیہم السلام نے انہیں باتوں کو بیان کیا ہے جو انسانی فطرت کی گہرائی سے اٹھتی ہیں۔ یہی انبیاء کی کامیابی کی سب سے بہترین دلیل ہے۔بہت سے ایسے انسانیت کے مصلح آئے جنہوںنے اپنے نظریات بیان کئے، اپنی باتوں کو پیش کیا اورآخر میں دعوت اجل کو لبیک کہکر چلے گئے۔ انکے بعد لوگوں نے بیٹھ کر انکی باتوں کا تجزیہ کیااور انکی باتوں میں خامیاں تلاش کیںلیکن ہمیں کسی ایسے دانشور طبقہ کاسراغ نہیں ملتا کہ جس نے انبیائے الٰہی یا پھر ائمہ اطہار علیہم السلام کی باتوں میں کوئی خطا کا عنصر پایا ہو، اتفاقاً آج کل کی دنیا میں جو لوگ مستبصر ہو رہے ہیں اور اسلامی معارف تک پہنچ رہے ہیں ، وہ لوگ ہیں جو عرفان و آگہی کی اس منزل پر انبیائے الٰہی اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے واسطے سے پہونچتے ہیں ۔کوئی امام علی علیہ السلام کے دل نشیں بیان کوسن کر ان کی طرف راغب ہوتا ہے اور ان کاعاشق ہو جاتا ہے اور کوئی رسول اسلام  کی نصیحت آمیز گفتگو کو نس کر۔ ابھی دو دہائی قبل امریکہ ، یورپ اور دنیا کے دوسرے علاقوں میںکتنے ہی ایسے موارد پیش آئے ہیں کہ جہاں حضرت علی علیہ السلام یا پھر دیگر ائمہ علیہم السلام کے حکیمانہ ارشادات کی روشنی میں لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تمام باتیں وہی ہیں جو انسانی فطرت کا تقاضہ ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ باتیں ہیں جو اہل دل کی زبان سے نکلی ہیں اسی لئے انکے اندر حرارت ، گرمی اور وزن ہے۔ عدل و انصاف کی تلاش میں سر گرداں افراد جب حضرت علی علیہ السلام کے قول و عمل کا مطالعہ کرتے ہیں توآپ کے عاشق ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمارے آئمہ علیہم السلام کی کامیابی کی نشانی ہے۔ کچھ لوگوں نے اس دنیا میں انبیائے الٰہی علیہم السلام کی باتوں میں خدا کی مخالفت کی بنا پر اپنی طرف سے کچھ چیزوں کا اضافہ کر کے اسے لوگوں کے سامنے پیش کیاتا کہ یہ روش اپنا کر خدا اور اسکے ارادے کے مقابل کھڑے ہو سکیں۔ہم صرف اسی صورت میں مکاروں کے عالمی بازار کے سامنے اسلام کا ایک روشن مستقبل پیش کر سکتے ہیں جب انکی فریب کاریوں ، نیرنگی چالوں،مکاریوں اور حیلہ بازیوں سے واقف ہوں۔ ہمارے اس راہ میں قدم رکھنے کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ہم جانیںکہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ان کے ذہن و دل میں کیا اہداف پرورش پا رہے ہیں ؟

مستقبل سے متعلق چار نئے مغربی نظریات

 گزشتہ دو تین دہائیوں میں مجموعی طور پر مغرب میں انسانوں کے مستقبل کے متعلق چار طرح کے نظریئے پائے جاتے ہیں ۔خاص طور پر امریکہ ان چار نظریوں پربڑے کرّو فر کے ساتھ رہرسل کر رہا ہے۔ ان نظریات کی بنیاد پر مختلف فلمیں بھی عالم وجود میں آئیں ہیں جن میں تقریبا سب کا مقصد ایک طرح سے یہ باور کرانا ہے کہ آنے والے کل کو مغرب ہی رقم کرنے والاہے، آنے وا لا کل لبرل ڈموکریسی کی آئیڈیا لوجی پر مبنی ہے۔ یہ لوگ اس طرح چاہتے ہیں کہ بنی نوع بشر کے ذہن سے اسکے آنے والے روشن مستقبل کی فکر کو سلب کر لیں کہ جسکی نوید مصلحین الٰہی نے دی ہے وہ زمانہ کہ جو زمانہٴ، انتظار ہے، وہ عصر کہ جو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کا زمانہ ہے۔ آج جب کہ دنیا مکتب مہدویت سے آگاہ ہو رہی ہے اور لوگوں میں رجحان بڑھ رہا ہے ، اہل مغرب نے اس کو روکنے کے لئے ایک نئی تحریک شروع کی ہے اور یہ باور کرانا چاہا ہے کہ مسلمان جس مہدویت کا دم بھرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہے، وہ سب بے جا ہے، اسکا کوئی روشن مستقبل نہیں ہے ،یہ ہم ہیں کہ جو دنیا کے لئے ایک بہترین مستقبل کے خواب کو پوراکر سکتے ہیں ۔آپ جانتے ہیںکہ تباہ کن اسلحہ اور صدام کی تلاش میں آئے امریکی فوجی سامرہ کے لوگوں سے یہ پوچھ رہے تھے کہ تم کس قدر مہدی موعود کے بارے میں جانتے ہو؟ کیا تم جانتے ہو کہ انکی جائے سکونت کہاں ہے ؟انکے اجداد میں سے کسی کو جانتے ہو؟کیا تم میں کوئی ہے جو مہدی موعود سے ہمارا رابطہ قائم کرا سکے ؟یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ امریکی فوج آخر اس مسئلہ میں اس قدر دلچسپی کا اظہار کیوں کر رہی ہے ؟آخر کیوں NATO امریکہ کی سربراہی میں اسلامی ممالک میں فوجی اڈے قائم کر رہاہے ؟آج پورا عالم اسلام مغرب سے لے کر مشرق تک جنوب سے لے کرشمال تک امریکی افواج کی چھاونی بن کر رہ گیا ہے ۔آپ اسی ایران کو لے لیں اسکے شمال میں NATO کی فوجیں موجود ہیں، اسکے مشرق میں افغانستان میں عسکری کار گزاریاں ہو رہی ہیں اسکے مغرب میں عراق ، کویت ، خلیج فارس میں ہر جگہ NATO کے فوجی بیڑے موجود ہیں ۔جہاں بھی دیکھےٴ انہیں کا تسلط نظر آتا ہے ،ان کا اسلامی ممالک یا اس کے اطراف میں موجود ہونا کیا معنی رکھتا ہے ؟اگر غور کریں تو انکی موجودگی ہمارے لئے بہت واضح پیغام ہے۔ اگر کوئی خاص بات نہ ہوتی تو یہ ان تمام جگہوںکوفوجی بربریت کا نشانہ نہ بناتے ۔امریکہ کی سرحدسے لے کر ایران کی سرحد تک بارہ گھنٹے کا صرف فضائی راستہ ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ فاصلہ سترہ گھنٹہ کا ہے ۔ یہ تمام فاصلہ طے کرنے کے بعد ان کایہاں آنا اور جگہ جگہ پر فوجی اڈے قائم کرنااس بات کا وا ضح اعلان ہے کہ عالم اسلام ان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہی بات عالم اسلام کے مستقبل کی عظمت کو بیان کرتی ہے ورنہ اتنا خرچ کرنے اور طرح طرح کی صعوبتیں برداشت کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟آپ جانتے ہیں ان سب چیزوں میں کس قدر خرچ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک فوجی چھاؤنی کے لئے عربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ تمام ظلم و ستم، دشمن کی یہ قساوت قلبی ،یہ سب مہدویت کے نظریہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے ،کیونکہ انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ یہی وہ عقیدہ ہے کہ جو صرف اسلام ہی نہیںبلکہ پوری دنیا کے مستقبل کوروشن کر سکتاہے ،یہ چیز ہمارے لئے باعث فخر ہے ۔ہم انکی نظروں میں اتنے اہم ہیں کہ وہ بیٹھ کر ہمارے لئے مکرو حیلہ کے تانے بانے بنتے رہتے ہیں تاکہ کسی طرح حقیقی اسلام کو نابود کر سکیں ۔کسی نے امریکی مسلمانوں کے بارے میںبالکل صحیح کہا ہے کہ جو لوگ امریکہ میں ہیں اور دین اسلام پر اعتقاد رکھتے ہیں ان کے عقائد کو متزلزل کرنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے کیوں کہ امریکہ یا دوسری جگہوں پر بسنے والے مسلمان تو ٹہنیوں اور پتوں کے مانند ہیں جن کی جڑیں ام القرائے اسلامی پر جاکر ختم ہو تی ہیں۔ دشمن کے نشانے پر کبھی بھی شاخیں اور پتے نہیں ہوتے ،دشمن کی نظر ہمیشہ بنیاد پر ہوتی ہے وہ بنیاد کو کھوکھلا کرنا چاہتا ہے ،اس لئے کہ اگر کسی درخت کی جڑ سوکھ جائے تو پھر اسکے پتے اور شاخیں تو خود بخود خشک ہو جائیں گی۔ دیگر جگہوں پر بسنے والے مسلمانوں اور یہاں کی مثال بالکل درخت اور شاخوں کی ہے لہذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ دشمن کی نگاہیں یہیں پر جمی ہوئی ہیں،وہ عالم اسلام کی جڑوں کو کاٹنا چاہتا ہے ۔ خدانخواستہ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گیا تو عالم اسلام کو دوبارہ بیدار ہونے میں صدیاں لگ جائیں گی ، آج عالم اسلام کی بیداری ایک حیثیت کی حامل ہے ۔

انقلاب اسلامی سے پہلے قم ایک چھوٹا سا شہر تھا ،اس وقت شہر میں  طلاب ،علماء،مجتہدین اور دیگر تعلیم یافتہ افرادکی تعداد بھی کم تھی اور کچھ دیندار لوگ تھے جوبیدار تھے، بقیہ دیگر تمام لوگ ایک دوسری ہی فضا میں سانس لے رہے تھے لیکن تحریک انقلاب کی برکت سے پورا قم بیدار ہو گیا۔ پھر ایران بیدار ہوااور اب تو آہستہ آہستہ پورے عالم اسلام میں بیداری کی لہر دوڑ چکی ہے ۔ ہم اس وقت عالم بشریت کی بیداری کے منتظر ہیں۔آج دنیا کی سب سے بڑی استکباری طاقت اس خطہ میں کیوں نظر آ رہی ہے؟صرف اس لئے کہ اس نے دیکھاکہ ایک عالمی بیداری کی لہر اٹھ رہی ہے اوربہت تیزی سے ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک قوم سے دوسری قوم میں سرایت کر رہی ہے، یہاں تک کہ خود امریکی عوام میں بھی ایسے احساسات سر ابھار رہے ہیں جو عالمی استکبار کے حق میں نہیں ہیں ۔ اب امریکہ کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کرے، اپنے ہی گھر میں اس بیداری کی موج سے کس طرح نبرد آزما ہو۔ اس نے سوچا کہ جہاں سے یہ بیداری پھیل رہی ہے اسکے اصلی سر چشمہ پر یلغار کرناچاہئے کیونکہ اگر یہ سرچشمہ خشک ہو گیا تو تمام وہ نہریں بھی خشک ہو جائیںگی جو اس سے متصل ہیں۔لہذا اب اسکاسارا ہم و غم اس سرچشمہ کو خشک کرنا ہے۔ اس غرض سے اس نے مسلم تنظیموں سے نبرد آزما ہونے کی ٹھانی لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ وہ ان سے نہیں لڑ سکتا۔آپ شاید مجھ سے بہتر اس بات کو جانتے ہوں گے کہ اسلام نے پوری دنیا میں کس قدر طاقت بہم پہونچائی ہے !مجھے یاد ہے کہ ۱۹۹۷ءء میںکناڈا میںایک یہودی کارٹون آرٹسٹ نے مسلمانوں کی توہین کی تھی۔گزٹ نامی ایک مقامی اخبار نے اس کارٹون کو اس طرح اپنے صفحات میں جگہ دی تھی کہ جس ستون میں یہ کارٹون منظر عام پر آیا تھا اسکا انداز کچھ یہ تھا کہ ایک کتّے کی گردن میںاسلامی انقلابیوں کی علامت والا ایک رومال پڑاہوا تھا اور اسکے نیچے لکھا ہوا تھا مسلمانوں کی صورت!یہی نہیں اس جملے کے بعد ساتھ میں یہ بھی لکھا تھا کہ محترم کتّے سے معذرت کے ساتھ ․․․!!!

یعنی مسلمان کتّوں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ جب ہم لوگوںنے یہ دیکھا تو ہم لوگوں جوکہ وہاں کی ایک یونیورسٹی کے طالب علم تھے، نے اس کا جواب دینے کے بارے میں سوچا اور پھر اس اخبار کے لئے ایک اعتراضی مکتوب بھیجا، عدم رضایت کا بینر تیار کیا، اس پر سب نے دستخط کئے ،الٹی میٹم دیا، ان لوگوں کو وارننگ دی ،یہ سب کچھ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔پھر بھی ہم نے ہمت نہیں ہاری اور سوچا کہ سکوت اختیار نہیں کرنا ہے۔ ہم ۵۰۰ /سے ۸۰۰ /افرادکے قریب اپنے اہل و عیال کے ساتھ وہاں تحصیل علم کی غرض سے مقیم تھے۔ جب ہماری بات کہیں نہیں سنی گئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ سب مل کر گزٹ اخبار کے مرکزی دفترپر جائیں۔ چنانچہ ہم نے ایسا کیا اور وہاں کی پولس سے بھی کہا کہ ہماری توہین ہوئی ہے ،ہم اسکا ازالہ چاہتے ہیں، احقاق حق چاہتے ہیں، ہم نہ کوئی جھگڑا کرنا چاہتے ہیں نہ امن و امان میں خلل کا باعث بننا چاہتے ہیں اور نہ ہمارا ارادہ کوئی مفسدہ ایجاد کرنے کا ہے ۔جب انکو پتاچلا کہ ہم لوگوں نے اس قسم کا اجتماع کیا ہے اور ہم مظاہرے کی غرض سے وہاں سے چل دئے تو وہ ہمارے پاس آئے ہم سے معذرت کی او ر پوچھا کہ آپکا مطالبہ کیا ہے، آپ کیا چاہتے ہیں ؟تو ہم لوگوں نے کہا کہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کر گزٹ اخبار کا ایڈیٹر اس گستاخی کی ذمہ داری قبول کرے اور جس ستون میں یہ کارٹون نکالا ہے عین اسی جگہ اور اسی ستون میں تمام مسلمانوں سے معافی مانگے۔ انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ ہمارا مطالبہ پورا کیا جائے گا۔ جب انہوں نے یہ وعدہ کر لیا تو ہم سب واپس آ گئے ۔ اس اقدام کے دوسرے یا تیسرے دن گزٹ اخبار کے ایڈیٹر نے تمام مسلمانوں سے معافی مانگی اور ساتھ ہی اس بات کا یقین بھی دلایا کہ آئندہ اس قسم کی کوئی حرکت نہیں ہوگی۔ اب آپ دیکھیں ہم کتنے لوگ تھے صرف پانچ سو، وہ بھی عالم یہ تھا کہ نہ ہمارے پاس کوئی جگہ تھی نہ کوئی ٹھکانہ ،وہ لوگ اگر چاہتے تو بڑی آسانی سے ہمیں ڈپورٹ بھی کر سکتے تھے اس لئے کہ ہمارے پاس وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ تعجب کا مقام ہے کہ ۵۰۰ /افرادایک مغربی ملک میں اپنے ہونے کا احساس دلانے میں کامیاب رہیں۔



1 2 3 4 next