مذهب شيعه ايک نظر ميں



شيعيت کيا ھے ؟

دين اسلام کو اس کے تمام نظري اور عملي تقاضوں کے ساتھ اختيار کرنا ۔

 اسلام کے معني ايک ” سر نھادن بطاعت “ کے ھيں اور دوسرے ”سپردن “۔ يہ دونوں باتيںکس کے لئے ؟ اللہ کے لئے ۔ اسي کو دوسري لفظوں ميں يوں کھا جا سکتا ھے کہ حکومت ِالھيّہ کو اُس کے پورے تقاضوں کے ساتھ تسليم کرنا جس کے لئے حاکم اور اُس کے مرتب کردہ نظام کي معرفت ضروري ھے ۔ يہ ” اُصول دين “ ھيں اور پھر اُس نظام کے قواعد و ضوابط کو معلوم کر کے اُ ن پر عمل ھے ۔ يہ پابنديٴ شريعت ھے جس کے خاص ارکان کو ” فروع دين “ کھتے ھيں ۔

يہ عقائد وہ ھيں جو عمل کا احساس پيدا کرتے ھيں اور اعمال وہ ھيں جو عقيدہ پر جلا کرتے ھيں ۔

جامع لفظ سے تعبير کرنا چاھيں تو برابر کے دو جز ھيں ” حق شناسي “و ” فرض شناسي “۔ اسي کو وسعت دي جائے تو عقائد و اعمال کي پوري دنيا آجائے گي اور انھي کے ماننے اور برتنے کا نام ھو گا ” حقيقي اسلام “ اور ” شيعيت “ جس کي تفصيل مجمل طور پر مندرجہ ذيل ھے :

اصول دين

( ۱) توحيد (۲) عدل (۳) نبوت (۴) امامت (۵) قيامت۔

توحيد

 يہ ايک جامع عنوان ھے جس کے تحت حسب ذيل حقيقتيں مضمر ھيں :

(۱) حدوث عالم ۔ يعني دنيا اور اُس کي ھر چيز نابود تھي ۔ ھوا ، پاني ، آگ ، چاند ، سورج اور سيارے ۔کوئي بھي ايسي چيز نھيں جو ھميشہ موجود ھو اور وہ چھوٹے چھوٹے ذرے بھي جن سے اس تمام دنيا ميں مختلف شکليں نمودار ھوتي ھيں وہ بھي قديم يعني ھميشہ سے موجود نھيں ھو سکتے ، اس لئے کہ اُن ميں حرکت موجود ھے اور حرکت کا ھونا خود زوال اور تغيّر کي نشاني ھے ۔

(۲) خالق کا وجود ۔ جب يہ تمام کائنات ھميشہ سے وجود نھيں رکھتي تو ضرور اُ سکا کوئي وجود ميں لانے والا ھے ۔ اُسي کو خالق کھتے ھيں ۔

(۳) خالق کُل وہ ھے جو سراسر ” ھستي “ ھے اس لئے وہ ھميشہ سے ھے اور ھميشہ رھے گا ۔ اگر ايسا نہ ھو تو پھر وہ بھي اِسي دنيا کا جزوھوگا اور اُس کے لئے بھي کسي پيدا کرنے والے کي ضرورت ھوگي ۔

(۴) خالق نے اس دنيا کو ارادہ و اختيار کے ساتھ پيدا کيا ھے اس لئے کہ اُس کي پيدا کي ھوئي مخلوق ميں حکمتيں اور مصلحتيں مضمر ھيں اور ايک خاص انتظام نظر آتا ھے جو کسي بے شعور اور بے حس قوت کا نتيجہ نھيں ھو سکتا ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 next