شيعوں کے مختلف فرقے



اصلي فرقے

ھر مذھب ميں کم وبيش ايسے مسائل موجود ھوتے ھيں جواس مذھب کے بنيادي اصول سمجھے اور شمارکئے جاتے ھيں اور اسي طرح ھر مذھب ميں بعض دوسرے درجے کے مسائل بھي موجود ھوتے ھيں ۔لھذااصلي مسائل کي کيفيت او ر حقيقت ميں اھل مذھب کااختلاف فرقوں کے اشتراک کي اصليت او ر اصولوں کي بنياد پر شمار کياجاتا ھے ۔

دنيا کے تمام اديان و مذاھب ميں بھت سے فرقے پائے جاتے ھيں خصوصا چاروں آسماني مذاھب يعني يھوديت،عيسائيت ، مجوسيت اوراسلام ميں، بلکہ تمام ديگر مذاھب کے فرقوں ميں بھي چھوٹے چھوٹے فرقے موجود ھيں ۔ مذھب شيعہ ميں پھلے تين اماموں (يعني حضرت اميرا لمومنين علي ابن ابيطالب ،حضرت اما م حسن بن علي اور حضرت امام حسين بن علي عليھم السلام )کے زمانے ميں کوئي فرقہ موجود نہ تھا ليکن حضرت امام حسين عليہ السلام کي شھادت کے بعد شيعوں کي اکثريت حضرت زين العابدين عليہ السلام کي پيروکار او ر قائل ھوگئي جبکہ اقليت نے جس کو ” کيسانيھ“ کھا جاتا ھے حضرت علي(ع) کے تيسرے بيٹے محمد بن حنفيہ کو اپنا امام بنا ليا تھا ۔ ان کے خيال کے مطابق محمد بن حنفيہ چھوتھے امام تھے اورو ھي اما م مھدي تھے جوکوہ رضوي ميں غائب ھوگئے تھے اور آخري زمانے مين امام مھدي کے نام سے ظاھر ھوں گے ۔

امام  سجاد عليہ السلام کي رحلت کے بعد شيعوں کي اکثريت نے آپ کے فرزند ارجمند حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي بيعت کرلي ليکن ايک اقليت نے امام سجاد عليہ السلام کے دوسرے بيٹے زيد شھيد کو اپنا ھادي ، رھنما اور امام بناليا لھذا ان کو اس وجہ سے " زيديہ " کہا جاتا ھے ۔

امام محمد باقر عليہ السلام کي رحلت کے بعد شيعوں کي اکثريت نے آپ کے فرزند ارجمند حضرت امام جعفر صادق(ع) کي بيعت کرلي اور ان کي امامت پر ايمان لائے ، آپ کي وفات کے بعد اکثريت شيعہ نے حضرت امام موسي کاظم(ع) کو اپنا امام تسليم کرليا ليکن ايک تعدا د نے حضرت اسماعيل کوجو کہ چھٹے امام کے بڑے بيٹے تھے اور حضرت امام موسي کاظم(ع) کي زندگي ميں ھي وفات پاگئے تھے ، اپنا امام سمجھا اوراس جماعت کوجو اکثريت سے الگ ھوگئي تھي ” اسماعيليہ “ کھا گيا ۔ اس کے علاوہ بعض افراد نے امام ھفتم کے دوسرے بيٹے حضرت عبداللہ افطح کي پيروي اختيار کرلي اور بعض لوگ ساتويں امام کے فرزند حضرت امام رضا عليہ السلام کے پيروکار ھوگئے ۔

حضرت امام موسي کاظم(ع) کي شھادت کے بعد اکثريت شيعہ نے حضرت امام رضا(ع) کو آٹھواں امام ماناليکن بعض نے ساتويں امام کوھي آخري امام سمجھا ، لھذا ان کو ”واقفيہ “ کھاجاتاھے۔

اس کے بعد آٹھويں امام سے لے کر بارھويں امام تک جو اکثريت شيعہ کے ايمان و اعتقاد کے مطابق مھدي موعود اور امام آخرالزمان ھيں، کوئي قابل توجہ فرقہ پيدانہ ھوا اور اگر فرقوں کي صورت ميں بعض واقعات و حالات پيداھوئے بھي تو وہ صرف چند روز ھي قائم رہ سکے اور خود بخود ختم ھوگئے ۔ مثلا ً دسويں اما م کے بيٹے حضرت جعفر نے اپنے بھائي يعني گيارھويں امام حسن عسکري عليہ السلام کے بعد امامت کا دعوي ٰ کيا تھا اورايک جماعت نے ان کو اپنا امام بھي تسليم کر ليا تھا ليکن يہ گروہ تھوڑے ھي عرصہ ميںمنتشر ھوگياتھا اور حضرت جعفر نے بھي اپنے دعوے سے ھاتہ اٹھا ليا تھالھذا وہ فرقہ جاري نہ رہ سکا ۔ اسي طرح شيعہ علماء کے درميان بعض دوسرے اختلافات بھي موجود ھيں ليکن ان اختلافات کو مذھبي فرقوں کے طور پر شمار نھيں کيا جاسکتا ۔

مذکورہ بالا فرقے اکثريت شيعہ کے مقابلے ميں پيدا ھوتے رھے ليکن تھوڑے تھوڑے عرصے ميں ھي خود بخود ختم اور معطل ھوتے گئے سوائے دوفرقوں ”زيديہ اور اسماعيليہ “ کے جوابھي تک موجود ھيں اور ان کے ماننے والے اب بھي مختلف ملکوں مثلا ً يمن ، پاکستان ، ھندوستا ن، لبنان اور دوسري جگھوں پر زندگي گزاررھے ھيں ۔ اسي لئے بارہ امامي شيعوںکي اکثريت کے ساتھ ساتھ صرف انھي دوفرقوں کے ذکر پراکتفا کيا جاتا ھے کيوںکہ يھي دوفرقے دوسرے شيعہ فرقوں کے درميان اھم ترين فرقے ھيں ۔

شيعہٴ زيديہ

زيديہ حضرت امام زين العابدين عليہ السلام کے فرزند زيد شھيد کے پيروکار ھيں ۔ زيد نے ۱۲۱ھ ميں اموي خليفہ ھشام بن عبدالملک کے خلاف تحريک چلائي تھي اور ايک بڑي جماعت نے ان کي بيعت کرلي تھي ليکن شھر کوفہ ميں ان کے مريدوں اور پيروکاروں اور اموي خليفہ کي فوج کے درميان جنگ ھوئي اورحضرت زيدبھي اس جنگ ميں شھيد ھوگئے ۔

زيد شھيد اپنے ماننے والوں اور پيروکاروں کے لئے اھلبيت(ع) کے پانچويں امام شمار کئے جاتے ھيں اور ان کے بعد ان کے بيٹے يحييٰ بن زيد جنھوں نے اموي خليفہ وليد بن يزيد کے خلاف تحريک چلائي تھي اورشھيد ھوگئے تھے، آپ کے جانشين مقرر ھوئے ۔ ان کے بعد محمد بن عبدا للہ اور ابراھيم بن عبداللہ جنھوں نے عباسي خليفہ منصور دوانقي کے خلاف مھم شروع کي تھي اوريکے بعد ديگرے دونوں شھيد ھوگئے تھے، فرقہ زيديہ کے امام سمجھے جاتے ھيں ۔

اسکے بعد کچھ مدت کے لئے زيديہ فرقہ غير منظم رھا ۔يھاں تک کہ ناصر اطروش نے جو حضرت زيد کے بھائي کي اولاد ميں تھا، خراسان ميں اپني امامت کا اعلان کرديا۔ وھاں حکومت نے اس کو گرفتار کرنے کي کوشش کي ليکن وہ بھاگ کر مازندران پھنچ گيا جھاں کے لوگوں نے ابھي اسلام قبول نھيں کياتھا۔وھاں اس نے تير ہ سال اسلام کي تبليغ کي اوربھت سے افراد کو مسلمان بنا کر زيديہ مذھب کاگرويدہ بنا ليا تھا اس کے بعد انھي افراد کي مدد سے طبرستان پرقبضہ کرنے ميں کامياب ھوگيا اور اپني امامت کا اعلان کرديا۔ اس کے بعد اس کي اولاد ميں سے بعض افراد نے کافي عرصے تک اس علاقے ميں اپني حکومت اور امامت جاري رکھي ۔



1 2 3 next