حقيقت شيعه



صباح علي بياتي

شعيت کي حقيقت اور اس کي نشو و نما

مقدمہ

الحمد للّٰہ رب العالمين و الصلٰوة و السلام علي محمَّد و آلہ الطاہرين و صحبہ المنتجبين۔

جديدو قديم محققين و مولفين کے نزديک حقيقت تشيع اور اس کي نشو ونما بہت ہي توجہ کا حامل رہي ہے اس سلسلہ سے بہت ہي افکار و نظريات کي رد و بدل ہوئي ہے  اکثر مولفين نے يہ نظريہ دياہے کہ شيعہ وہ فرقہ ہے جو کہ عقائد کي تقسيمات کے دور ميں وجود ميں آياہے اور امت مسلمہ کي جانب سے بہت ہي بسط و تفصيل کا موضوع قرار پاياہے جس کي وجہ يہ ہے کہ عقائدي اختلافات سياسي تقسيمات کے سبب وجود ميں آئے ہجرت سے ليکر تقريباً نصف صدي سے کم مدت ميں يہ کام ہوا ہے اور وہ حادثات جن کے سبب مسلمان مختلف گروہوں ميں تقسيم ہوگئے اورايک دوسرے کا خون حلال گرداننے لگے، اور ہر فرقہ يہ سمجھنے لگا کہ صرف وہي حق پر ہے اوراس کا حريف گروہ باطل پر ہے ، اسي کے سبب اسلامي فرقے اپنے نظريات کو ڈھالنے کے درپے ہوگئے اور اس کام کے لئے انھوں نے آيات قرآني اور احاديث نبوي کي غلط تاويل بھي کي، اس وقت يہ مسئلہ اور ہي خطرناک رخ اختيار کر گيا، جب ان فرقوں نے مناظرے شروع کر ديئے اور عصبيت کے سبب احاديث رسول  کے سلسلہ ميں جراٴت و جسارت سے کام ليا، اور حديثوں کو گڑھنا اور بے جا و غير مناسب جگہ منسوب کرنا شروع کرديا جس کو وہ اپني نظر ميں بہتر سمجھتے تھے، اوردوسرے فرقہ کي مذمت ميں جعلي حديثوں کا دھندا شروع کرديا،ان جعلي اور جھوٹي حديثوں ميں ايسي حديثيں بھي وجود ميں آئيں:

”سيکون في امتي قوم لہم نبز يقال لہم الروافض اقتلوہم فانہم مشرکون“

(عنقريب ميري امت ميں ايک گروہ پيدا ہوگا جن کي عادت دوسروں کو برے نام سے ياد کرنا ہوگي جن کو رافضي کہا جائے گا، ان کو قتل کر دينا کيونکہ وہ مشرکين ہيں)

جبکہ فرقوں کے سلسلوں ميں کتابيں لکھنے والوں کے نزديک يہ رائج ہے کہ جناب زيد بن علي بن الحسين  نے رافضي کا نام، ان افراد کو ديا جنھوں نے آپ کے قيام ميں آپ کا ساتھ چھوڑ ديا تھا يہ لفظ اور اس کے علاوہ ديگر الفاظ، اہل سنت مخالف فرقوں کے لئے استعمال کئے گئے، جبکہ حيات رسول  ميں بالکل نہيں پائے جاتے تھے ۔

احاديث متواتر ميں ايک وہ حديث جو فرقوں کي تہتر قسموں پر تقسيم کے سلسلہ ميں ہے کہ ايک نجات يافتہ ہے بقيہ سب جہنمي، اس کو سب نے نقل کيا ہے اور ہر فرقہ نے اس بات کي کوشش کي ہے کہ وہ يہ ثابت کرلے جائے، کہ اس کامياب فرقہ سے مراد ہم ہيں اور ہمارے علاوہ سب جہنمي ہيں۔

اس وقت تو اور مٹي خراب ہوگئي، جب شب و روز کي گردش کے ساتھ يہ عقائد سرايت کرنے لگے اور يہ جعلي حديثيں، حديثي مجموعوں ميں شامل ہوگئيں اور لوگ يہ سمجھنے لگے کہ يہ کلام نبي  ہے جب کہ يہ اسماء و اصطلاحيں حيات رسول  اور ان کي وفات کے بعد کچھ دن تک بالکل رائج نہيں تھيں اور لوگوں کے درميان اس وقت پھيلنا شروع ہوئيں، جب کلامي ”معرکہ“ شعلہ ور ہونے لگے اور يہ اس وقت وجود ميں آئے، جب اجنبي ثقافت والے مسلمان ہونے لگے يا مسلمان ان ثقافتوں سے متاثر ہونے لگے، جن کا عربي زبان ميں ترجمہ ہوا، ہر مکتب فکرنے اپنے عقيدہ کے لئے الگ فلسفہ بگھارنا شروع کرديا اور ان اصطلاحوں کي خول پہن لي جن کو يوناني، ايراني، ہندستاني، فلسفيوں نے ايجاد کيا تھا۔

جب تدوين و ترتيب کا سورج نصف النہار پر چمک رہا تھا اور اسلامي مفکرين مختلف علوم و فنون ميں دسترسي حاصل کر رہے تھے، اس وقت مختلف مکاتب فکر کے افراد نے خلافت و امامت اور اسلوب خلافت کے سلسلہ ميں مناظرہ کرنا شروع کيا مصيبت اس وقت آئي جب اديان و مذاہب پر کتابيں لکھي جانے لگيں، کيونکہ اس ميدان ميں قلم فرسائي کرنے والے شہرستاني و بغدادي جيسے بيشتر افراد کا تعلق ان اہل سنت سے تھا جو امت اسلاميہ کي اکثريت کے نظريہ کو مجسم کرتے تھے۔

يہ ساري تاليفات کا مرکز ايک معين نقطہ تھا اوران کي کوشش يہ تھي کہ اسلامي فرقوں کو تہتر فرقوں ميں تقسيم کرنا ہے اس کے بعد بہتّر (۷۲) کو گمراہ ثابت کر کے ايک فرقہ کو نجات يافتہ بنانا ہے اور وہ فرقہ اہلسنت و الجماعت کا ہے، اور ديگر فرقے جن ميں سے ايک شيعہ بھي ہے ايک بدعتي اور راہ حق سے گمراہ فرقہ ہے، اسي کے سبب اس فرقہ کے وجود و عقائد کے سلسلہ ميں نظرياتي اختلاف ہوئے، کبھي يہ کہا گيا کہ يہ فرقہ عبد اللہ بن سبا کي تخليق ہے اور اس کے عقائد کي بنياد يہودي ہے اور کبھي اس کا ڈھونگ يہ رچايا گيا کہ يہ فرقہ ايرانيوں کے مرہون منت ہے اور اس کے افکار و عقائد مجوسيوں سے متاثر ہيں، دوسرے مقامات پر يوں بدنام کيا گيا کہ اہل بيت  پر ازحد مظالم، جيسے کربلا ميں حضرت امام حسين  اور ان سے قبل حضرت امير  کي شہادت، کے رد عمل کے طور پر يہ فرقہ وجود ميں آيا۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 next