تيسری فصل



آغاز تشیع

مسلک اجتہاد جو کہ وصیت و تعلیمات نبوی کے مقابل کبھی بھی سرتسلیم خم کرنے کے قائل نہیں تھا، اس کے مقابل ایک فرمانبردار گروہ وہ ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرم کے تمام احکامات کا مطیع ہونا چاہئے وہ جس امر سے بھی متعلق ہو، چاہئے وہ احکامات شریعت ہوں یا رحلت رسالت کے بعد امور کی انجام دہی، لہٰذا کچھ مردان خدا نے نص کی پیروی کے مسلک کی بنیاد رکھی اوران کی تعداد شاید دس سے زیادہ نہ ہو، لیکن بعد میں افراد ان کے گروہ میں شامل ہوتے چلے گئے۔

ظاہر سی بات ہے کہ نص کی اتباع میں شریعت کے وہ امور جن میں ان کا موقف دینی مرجعیت اور رسول کے بعد سیاسی مراحل سے متعلق ہے ان میں رسول سے مدد طلب کی ہوگی، اور انھوں نے ولایت و شخصی اختیارات میں شخصی اجتہاد نہیں کیا ہوگا، اور یہ ایسا گروہ ہے جس پر نصوص نبوی کی تائید ہے حضرت علی کے مانند حسین وجامع کمالات شخص کے لئے جو نفسانی اور اخلاقی صفات کے حامل ہیں تاکہ یہ عظیم منصب صحیح جگہ مستقر ہوسکے جس پر وہ پیغام متوقف ہے جس کے قوانین رسول نے مرتب کئے اور اس کی بنیاد ڈالی۔

لہٰذا رسول کے بعد آنے والے شخص پر لازم ہے کہ اس مرکز کی حفاظت کرے اوراس کو ان مخالف آندھیوں سے بالکل محفوظ رکھے جو تبدیلیٴ زمان اور مرور ایام کے سبب طویل سفر میں درپیش ہوسکتی ہیں، خاص طور سے مسلمانوں کا وہ دور، جن کا زمانہ عہد ماضی سے بہت قریب ہے، اور ہجرت رسول کے بعد نفاق کی ریشہ دوانیوں کی شدت کے وقت، اور بعض افراد کا مسلمین و مشرکین کے بیچ پیس دینے والی جنگ کے کینوں کے سبب متحد ہونا جن میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو فتح مکہ کے بعد شریک اسلام ہوئے ہیں اور یہ وہ وہی لوگ ہیں جن کو رسول نے (طلقاء) آزاد شدہ کہا ہے، اور مال وغیرہ کے ذریعہ ان کی قلبی مدد کی تھی۔

 اس بات کے پیش نظر کی تھی کہ مسلمانوں کے خلاف جو ان کے دلوں میں کینے چھپے ہیں وہ ختم ہو جائیں اور بعض لوگوں کے دلوں میں جو حب دنیا اور اس کی رنگینیوں سے دلچسپی رکھتے تھے وہ بجھ جائیں۔

نبی اکرم یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ سرداران قریش جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا (سرداریٴ قوم) اس کو چھوڑ نے کے بعد بادل نخواستہ اسلام میں شامل ہوئے ہیں اور سردست ان کے پاس اس نئے اسلام کو اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا جبکہ اسلام ایک عظیم دین ہے پھر بھی وہ اس کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں تھے۔

اس کے علاوہ آئندہ دنوں میں جزیرہٴ عرب کے باہر کی اسلام دشمن طاقتیں مسلسل ڈرا رہیں تھیں اور اس کا نظیر صاحب قوت و قدرت حکومتیں تھیں۔

        اور یہ بالکل فطری بات تھی کہ اس کا سبب مسلمانوں کا تحول ان حکومتوں کے لئے اور حیرت انگیز تھا جو حکومتیں اپنے آس پاس کے لوگوں کو ڈرا دھمکا رہیں تھیں ہر چند کہ ان کی گیدڑ بھبھکی کے مقابل مسلمانوں کے پاس حفاظت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔

لہٰذا نص کی مکمل پیروی، اس اجتہادی روش کے سامنے جو نص شرعی اور نص نبوی کے مقابل علم بغاوت بلند کئے ہے، مدد کی خواہاں ہے جبکہ ایک لحاظ سے نص شرعی و نبوی کا مرکز حضرت علی  ہیں اور دوسرے لحاظ سے وجود ظاہری میں اس نبوی موقف کے مصداق بھی حضرت علی ہی ہیں۔

رسول خدا نے فرمایا:

”مَن اطاعنی فقط اطاع اللّٰہ و مَن عصانی فقد عصی اللّٰہ و مَن اطاع علیاً فقد اطاعنی و مَن عصی علیاً فقد عصانی“[1]

جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے علی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے علی کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 next