دوسري صدي هجري کے دوران شيعوں کي حالت



دوسري صدي ھجري کي پھلي تھائي کےآخر ميں تمام اسلامي ممالک ميں بني اميہ حکومت کے ظلم وستم اور بدسلوکي کي وجہ سےجوانقلابات او ر خوني جنگيں ھوئيں ، ان ميں پيغمبر اکرم (ص)  کے اھلبيت(ع) کے نامپر ايران کے مشرقي صوبے خراسان ميں بھي ايک تحريک نے جنم ليا ـ اس تحريک کا رھنماايک ايراني سپہ سالار ابومسلم مروزي تھا جس نے اموي خلافت کے خاتمے کي تحريک شروعکي تھي اور اپني اس انقلابي تحريک ميں کافي ترقي اور کاميابي حاصل کرلي تھي يھاں تککہ اموي خلافت کا خاتمہ کرديا ـ (تاريخ يعقوبي ج / 3 ص / 79 ، تاريخ ابو الفداء ج / 1ص / 208 )يہتحريک او رانقلاب اگرچہ زيادہ تر شيعہ مذھب کے پروپيگنڈوں پرمنحصر تھا اور تقريبا ًاھلبيت(ع) کے شھيدوں کے انتقام کے عنوان سے اھلبيت(ع) کے ايک پسنديدہ شخص کےلئےبيعت ليا کرتا تھاليکن اس کے باوجود شيعہ اماموں کا نہ تو اس کے لئے کوئي حکم تھااور نہ ھي انھوں نے اس کے لئے کوئي اشارہ کيا تھا ـاس کا ثبوت يہ ھے کہ جب ابو مسلمنے امام ششم کانام مدينہ ميں بيعت کے لئے پيش کيا تو انھوں نے سختي سے اس تجويزکورد کرديا تھا اورفرمايا تھا  :  ”  تو ميرے آدميوں (پيروکاروں )ميں سے نھيں ھےاور يہ زمانہ بھي ميرا زمانہ نھيں ھے “ ـ(تاريخ يعقوبي ج3ص86، مروج الذھب ج 3ص268)

آخر کا ر بني عباس خاندان نےاھلبيت(ع) کے نام پر خلافت پرقبضہ کرليا ـشروع شروع ميں اس خاندان کے خلفا ء ، شيعہاور علوي خاندان کے ساتھ مھرباني سے پيش آئے حتيٰ کہ علوي شھدا ء کے انتقام کے نامسے انھوں نے بني اميہ کا قتل عام بھي کيا اور خلفائے بني اميہ کي قبروں کو کھود کران کي ھڈياں بھي جلا ديں ليکن زيادہ عرصہ نھيں گزرا تھا کہ انھوں نے بھي بني اميہجيساظالمانہ طريقہ اختيار کرليا اور اس طرح ظلم وستم اور لاقانونيت ميں کوئي کسراٹھا نہ رکھيـ

ابوحنيفہ جو اھلسنت کے چار اماموںميں سے ايک ھيں ،کو خليفہ عباسي منصور نے قيد ميں ڈال ديا ( تاريخ ابو الفداء ج /2 ص / 6 )اور ان کو سخت اذيتيں اورتکليفيںدي گئيں ـ امام احمد حنبل جواھلسنت کے دوسرے امام تھے کو سرعام کوڑے لگائے گئے(تاريخ يعقوبي ج/ 3ص/ 198، تاريخ ابو الفداء ج / 2ص / 33 )اور اسي طرح شيعوں کے چھٹے امامجعفر صادق عليہ السلام کو سخت ترين شکنجوں ،اذيتوں اور تکليفوں کے بعد زھر دے کرشھيد کرديا گيا ـ(کتاب بحار الانوار ج /12ـ حالات امام جعفر صادق عليہ السلام ) اس حکومت کے دوران علوي خاندان کے افراد کواکٹھا کرکے ان کي گردنيں اڑادي جاتي تھيں يا ان کو زندہ درگور کرديا جاتا تھا اورکبھي کبھي بعض افراد کو ديواروں ميں چنوا دياجاتا تھا يا سرکاري عمارتوں کے نيچےدفن کرديا جاتا تھا ـ

عباسي خليفہ ھارون الرشيد کے زمانےميں اسلامي سلطنت اپنے عروج پر پھونچ چکي تھي اور بھت زيادہ وسعت اختيار کرگئي تھييھاں تک کہ کبھي کبھي خليفہ سورج کو ديکہ کر کھا کرتا تھا : ”اے سورج جھاں بھي تيرادل چاھے اپني شعاعيں زمين پر پھينک ليکن ميرے ملک سے باھر ھرگز نھيں چمکے گا (يعنيجھاں تک سورج چمکتا ھے وھاں تک ميرا ملک ھے )ـ“ايک طرف تو اس کي فوجيں مشرق ومغربکي طرف آگے بڑھتي چلي جارھي تھيں اور دوسري طرف بغداد کے پل پرجو خليفہ کے محل سےچند قدم کے فاصلے پر واقع تھا خليفہ کي اجازت کے بغير اس کے گماشتے پل سے گزرنےوالوں سے ٹيکس وصول کيا کرتے تھے يھاں تک کہ جب ايک دن خود خليفہ نے اس پل سےگزرناچاھا تھا تو انھوں نے اس کا راستہ روک کر اس سے ٹيکس ادا کرنے کامطالبہ کياتھا ـ (قصۂ جسر بغداد )

ايک گانے والے شخص نے چند شھوتانگيز شعر پڑھ کر عباسي خليفہ امين کي شھوت کو ابھارا تو امين نے اسے تيس لاکھچاندي کے درھم انعام ميں دئے وہ گانے والااس قدر خوش ھوا کہ خليفہ کے قدموں ميںگرپڑا اورکھنے لگا  : ”اے اميرالمومنين ! کيا آپ نے يہ ساري رقم مجھے عطا فرمادي ھے؟ “خليفہ نے جواب ديا : ” اس رقم کي کوئي اھميت نھيں ھے کيونکہ يہ ساري رقم ھميںملک کے ايک ايسے حصے سے ملي ھے جس کو ھم جانتے بھي نھيں “ـ(کتاب اغاني ابي الفرج)

وہ بے اندازہ اور بے شما ر دولتجواسلامي ممالک سے بيت المال کے عنوان سے ھر سال دارالخلافہ ميں پھنچتي تھي ، سب کيسب خليفۂ وقت کي شھوت پرستي ، ھوس راني ، عياشي اور عوام کي حق تلفي پر خرچ ھوتيتھي ـ ان خوبصورت کنيزوں ، لڑکيوں اور لڑکوں کي تعداد ھزاروں تک پھنچتي تھي جو ھروقت خليفہ کے دربار ميں خدمت پر مامور تھے ـ

اموي حکومت کے خاتمے اور بني عباسکے اقتدار سے شيعوں کي حالت ميں ذرہ برابر بھي فرق نہ آيا سوائے اس کے کہ ان ظالماو ربيداد گر دشمنوں نے صرف اپنا نام تبديل کرليا تھا ـ

تيسري صدي ھجريکے دوران شيعوں کي حالت

تيسري صدي ھجري کے آغاز سے شيعوںنے سکون کي سانس ليـ اس کا پھلا سبب يہ تھا کہ يوناني ، سرياني او ردوسري زبانوں سےبھت زيادہ علمي اور فلسفي کتابيں عربي زبان ميں ترجمہ ھوگئي تھيں اورلوگ استدلالي وعقلي علوم کوحاصل کرنے کے لئے جمع ھوگئے تھے ـ اس کے علاوہ عباسي خليفہ مامونالرشيد خود(195تا218ھجري قمري )معتزلہ مذھب کاپيرو تھا اورمذھب ميں عقلي استدلال کي طرف مائل تھا لھذااس نے مختلف اديان اورمذاھب ميں لفظي استدلال کے رواج کي عام آزادي دے رکھي تھي ـيھي وجہ تھي کہ علماء اور شيعہ متکلمين نے اس آزادي سے پورا پورا فائدہ اٹھايااورانھوں نے علمي سرگرميوں کے ساتھ ساتھ مذھب اھلبيت کي تبليغ ميں بھي کوئي دقيقہفروگزاشت نہ کيا ـ (1)

دوسرے يہ کہ خليفہ مامون الرشيد نےسياسي حالات کے پيش نظر آٹھويں امام حضرت امام رضا عليہ السلام کو اپنا ولي عھد اورجانشين بھي مقررکررکھا تھا جس کے نتيجے ميں علوي خاندان اوراھلبيت(ع)کے دوستاورطرفدار ايک حد تک سرکاري عھديداروں کے ظلم وتشدد سے محفوظ ھوچکے تھے اورکم وبيشآزاد تھے ليکن زيادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ دوبارہ تلوار کي تيز دھار شيعوں کي طرفپھرگئي اوران کے اسلاف کے حالات ان کے لئے بھي پيدا ھوگئے خصوصا ً عباسي خليفہمتوکل باللہ(232تا 247ھجري قمري)کے زمانے ميں جو حضرت علي(ع)اور آپ کے پيروکاروں سے خصوصي دشمني رکھتاتھا اوراسي کے حکم سے امام حسين عليہ السلام کا مزار مقدس مٹي ميں ملاديا گياتھا ـ(2)

چوتھي صدي ھجريکے دوران شيعوں کيحالت

چوتھي صدي ھجري کے دوران کچھ ايسےعناصر اورحالات پيدا ھوگئے تھے جوخود بخود مذھب شيعہ کي ترقي اور شيعوں کے طاقتوراو ر مضبوط بننے ميں مدد کررھے تھے ـ ان حالات ميںسے خلافت بني عباس کي کمزوري اورآل بويہ بادشاہ کا ان کے مقابلے ميں سراٹھاناتھاـ



1 2 next