هر چيز کے سرچشمه کو تلاش کرنا چاهئے



مقدمہ :

امام ہادی علیہ السلام   وہ امام ہیں جنھوں نے بہت زیادہ قید و بند میںزندگی بسر کی ،حضرت کو شیعوں سے جدا کرکے ”عسکر “ نامی ایک فوجی علاقہ میں رکھا گیاتھا جس کی وجہ سے آپ کے بہت سے اقوال ہم تک نہیں   پہو نچ سکے   ۔

بنی امیہ اور بنی عباس کا ایک بڑا جرم یہ بھی ہے کہ انھوں نے اہل بیت علیہم السلام اور عوام کے درمیان رابطہ کو قطع کردیا تھا ،اگر لوگوں کا رابطہ اہل بیت علیہم السلام سے قطع نہ ہوتا تو آج ہمارے پاس ان عظیم شخصیتوں کے اقوال کی بہت سی کتابیں موجود ہوتیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امام باقر علیہ السلام اور اور امام صادق علیہ السلام کے دور میںجو تھوڑی سی مہلت ملی اس میں بہت زیادہ علمی کام ہوا ۔لیکن بعد میں یعنی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے زمانہ سے پھر قید و بند کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔بہرحال امام ہادی علیہ السلام کے کم ہی سہی مگر کچھ کلمات قصار ہم تک پہونچے ہیں ۔ اور مناسبت کی وجہ سے آج آپ کا ایک کلمہ قصار نقل کررہے   ہیں۔

متن حدیث :

خیر من الخیر فاعلہ واجمل من جمیل قائلہ وارجح من العلم حاملہ والشر من الشر جالبہ و احول من الحول راکبہ

نیکی کو انجام دینے والا نیکی سے بہتر اور اچھی بات کہنے والا ہے چھے کلام سے بہتر ہے ،علم سے   عالم افضل ہے ، شر کو انجام دینے والا شر سے بھی برا ہے   اور وحشت پھیلانے والاوحشت سے بھی   زیادہ   وحشتناک ہے ۔

  حدیث کی شرح   :

امام علیہ السلام ان پانچ جملوں میں بہت اہم نکات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں ،ان پانچ جملوں کے کیا معنی ہیں ؟ ان میں سے تین جملے نیکی کے بارے میں اور دو جملے شر کے بارے میں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ امام علیہ السلام ایک بنیادی چیز کی طف اشارہ فرما رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہمیشہ اہر چیز کی اصل علت کو تلاش کر نا چاہئے ۔اگر نیکیاں پھیلانا اور اچھائیوں کو عام کرنا   پیش نظر ہے   تو پہلے نیکیوںکے سرچشمہ کو تلاش کرو ۔ اور اسی طرح اگر برائیوں کو روکنا چاہتے ہو تو پہلے برائیوں کی جڑ کو تلاش کرو۔نیکی اور بدی سے زیادہ اہم ان دونوں کے انجام دینے والے ہیں ۔سماج میںیہ ہمیشہ مشکل رہی ہے   اورآج بھی موجود ہے، کہ جب لوگ کسی برائی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو کچھ افراد صرف معلول کو   ہی دیکھتے ہیں اوراس کی علت کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔جس کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو پاتے ۔وہ ایک کو ختم کرتے ہیں دوسرا اس کی جگہ پر آجاتا ہے ۔وہ دوسرے کو ختم کرتے ہیں تیسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے ۔آخر ایسا کیوں؟ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ وہ علت کو چھوڑکر معلول کو تلاش کرتے ہیں ۔میں ایک سادی سی مثال بیان کرتا ہوں کچھ افراد ایسے ہیں جن کے چہروں پر مہاسے نکل آتے ہیں یا پھر کچھ افراد کے بدن کی جلد پر پھنسیاں نکل آتی ہیں ان حالات میں کچھ لوگ مرحم کو تلاش کرتے ہیں تاکہ یہ مہاسے یا پھنسیاںختم ہوجائیں مگر کچھ لوگ اس حالت میں اس بات پر غور کرتے ہیں کہ بدن کی جلد کا تعلق بدن کے اندرونی نظام سے ہے لہٰذا اس انسان کے جگر میں ضرور کوئی خرابی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ مہاسے یاپھنسیاں جلد پر ظاہر ہوئے ہیں ۔بدن کی جلد ایک ایساصفحہ ہے جو انسان کے جگر کے عمل کو ظاہر کرتاہے ۔مرحم وقتی طور پر تو آرام کرتا ہے لیکن اگر اصلی علت ختم نہ ہو تو یہ مہاسے یاپھنسیاں دوبارہ نکل آتے ہیں ۔اسی طرح اگر انسان وقتی طور درد کو ختم کرنے کے لئے کسی مسکن دوا کا استعمال کرے تو صحیح ہے مگر ساتھ ساتھہ اس کی اصل علت کو بھی جانناچاہئے ۔

آج ہمارے سماج کے سامنے دو اہم مشکلیں ہیں جو دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہیں ۔ان میںسے ایک منشیات اور دوسری جنسی بے راہ روی ہے ۔ منشیات کے استعال کے سلسلے میں سن کی شرح بہت نیچے آگئی ہے، کم عمر بچے بھی منشیات کا استعمال کررہے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق ایک سرحدی شہر میں ۱۵۰ / ایسی خواتین کے بارے میں پتہ چلا ہے جو منشیات کا استعمال کرتی ہیں جبکہ عام طور یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین منشیات کی لت میں نہیں پڑتی ہیں۔

لیکن کچھ اسباب کی بنا پر منشیات کی لت بچوں ،نوجوانوں،جوانوںاور خواتین میں بھی پھیل گئی ہے ۔اس برائی سے مقابلہ کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم نشہ کرنے والے   افرادکو پکڑیں اور منشیات کے اسمگلروںکو پھانسی پر لٹکائیں۔ یہ   ایک طریقہ ہے   اور اس پر عمل بھی ہونا چاہئے۔ مگر یہ اس مشکل کا اساسی حل نہیں ہے۔ بلکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ منشیات کے استعمال کی اصل   وجہ کیا ہے ۔کیا یہ بیکاری ،بے دینی یا سماجی آداب و رسوم کے نہ جاننے کی وجہ سے ہے ،   یا پھر اس کے پیچھے ان غیر ملکی طاقتوںکا ہاتھ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے جوان منشیات میں مبتلا ہو جائیں تو اس ملک میںنفوذ   پید ا کرنے کی راہ کا ایک اہم مانع ختم ہو جاتا ہے ۔ہمیں تاریخ کونہیں بھولنا چاہئے جب انگریزوں نے چین پر تسلط جمانا چاہا تو انھوں نے پہلے یہ کوشش کی کہ چینیوں کے درمیان تریاک کو رواج دیا جائے ۔چینی اس بات کو سمجھ گئے اور انگریزوںکے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے مگر انگریزوں نے فوجی طاقت کے بلبوتے پر چین میں   تریاک   وارد کردی۔ تاریخ میںیہ واقعہ جنگ تریاک کے نام سے مشہور ہوگیا ۔اور انھوں نے چین میں افیم کو داخل کرکے وہاں کے لوگوںکو افیم کے جال میں پھنسا دیا اور ظاہر ہے کہ جب کسی ملک کے جوان نشے کہ جال میں پھنس جاتے ہیں تو پھر وہ ملک دشمن کا سامنا نہیں کرپاتا ۔اسی وقت سے انگریزوں نے اس افیمی جنگ کی بنیاد ڈالی اور اب بھی مختلف شکلوں میں اس سے کام لیا جارہاہے ۔امریکیوںنے افغانستان پر اپنا تسلط جمایا تو یہ سمجھا جار ہا تھا کہ وہ اپنے نعروں کے مطابق منشیات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گے۔لیکن اب یہ سن نے کو مل رہا ہے کہ منشیات کی کھیتی اور زیادہ بڑھ گئی ہے ۔امریکہ کے حقوق بشر   اورفساد و منشیات سے مقابلہ کے تمام نعرے کھوکھلے ہیں ۔وہ تو فقط اپنے نفع اورنفوذ کے پیچھے ہیں اس کے لئے چاہے پوری دنیا ہی کیوں نہ نابود ہو جائے ۔



1 2 next